کیا بنی اسرائیل سے مراد ہم ہیں؟ (۲)




موصوف نے بنی اسرائیل کی قرآن کی کچھ آیات سے فضیلت بیان کی، فضیلت والی تمام آیات میں ماضی کا صیغہ ہے، یعنی فضیلتیں اور نعمتیں ماضی میں دی گئی۔ قیامت تک آپ اسے مضارع نہیں بنا سکتے۔ جبکہ اہل بیت کی فضیلت خدا نے قرآن میں مضارع کے صیغے کے ساتھ بیان کی۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: گزشتہ سے پیوستہ

موصوف نے کہا تھا کہ بنی اسرائیل کی قرآن نے صرف مدح بیان کی ہے، جبکہ اوپر کچھ آیات بیان کی ہیں جن میں بنی اسرائیل کے برے اعمال ذکر کئے گئے ہیں اور خدا کا غضب بھی ان پر نازل ہوا۔ موصوف نے کہا کہ ہم نماز میں بنی اسرائیل کا راستہ مانگتے ہیں جبکہ اوپر آیات کی روشنی میں بنی اسرائیل پر خدا غضبناک بھی ہوا اور یہ گمراہ بھی ہوئے، جبکہ نماز میں ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ نہ ان لوگوں کا راستہ جن پر تو غضبناک ہوا اور نہ گمراہوں کا۔ موصوف نے کہا نبوت بھی بنی اسرائیل میں آئی اور کتاب بھی، اس لئے بنی اسرائیل صرف فضیلت رکھتے ہیں، جبکہ اوپر آیات میں بیان ہو چکا کہ انبیاء کو قتل بھی بنی اسرائیل نے کیا اور کتاب کو جھٹلانے والے بھی بنی اسرائیل میں سے تھے۔ اب یہ شبہہ کہ بنی اسرائیل پر اللہ نے انعام کیا یہ گمراہ نہیں ہو سکتے، سورہ ابراہیم کی آیت نمبر ۲۸ میں یہ بھی بیان ہوا کہ کچھ افراد ایسے بھی ہیں جن کو خدا نے نعمتیں دی ہوں اور وہ ناشکری کریں۔ خدا نے بنی اسرائیل کو نعمتیں بھی دی اور فضیلت بھی، لیکن انہوں نے ناشکری کی، اور آیات میں واضح بیان ہوا کہ ان کو ذلت کی طرف پلٹا دیاگیا ہے۔ سورہ صف کی ۶ نمبر آیت سے استدلال کیا کہ عیسی ع نے کہا میرے بعد جو نبی آئے گا اس کا نام احمد ہو گا ، پس احمد بنی اسرائیل میں سے ہے۔۔ بشارت دینا کہ میرے بعد فلاں نبی ہو گا، بنی اسرائیل سے ہونا کیسے ثابت ہو گیا؟؟؟ یا اللہ کا یہ کہنا کہ تمہاری طرف نبی بھیج رہا ہوں سے کیسے ثابت ہو گیا کہ کہ آنے والا بنی اسرائیل سے ہو گا؟ اللہ نے نہیں کہا کہ تمہاری طرف، تم میں سے نبی بھیج رہا ہوں۔

سب اسے قبول کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت اسماعیل کی نسل میں سے تھے نہ کہ حضرت اسحاق علیہ السلام کی نسل میں سے، اسرائیل حضرت یعقوب کا لقب تھا نہ کہ حضرت اسماعیل کا۔۔۔ جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت اسحاق کی نسل سے نہیں تو بنی اسرائیل کیسے؟ یہ دلیل عقلی ہے۔ موصوف نے یہ دلیل نہیں دی کہ بنی اسرائیل پر اللہ کا اب بھی انعام ہے۔ انعمت ماضی کے صیغے سے حال اور آئندہ کیسے مراد لی؟ یعنی قرآن نے یہ بیان کیا کہ ماضی میں ہم نے نعمتیں دیں، موصوف نے حال اور آئندہ کیسے مراد لیا؟ کس دلیل کہ تحت کہہ دیا کہ اب بھی بنی اسرائیل پر اللہ کی نعمتیں ہیں۔؟ اور ساتھ فضلتکم بھی ماضی کا صیغہ ہے جس کا ترجمہ بنتا ہے فضیلت دی۔ نہ کہ فضیلت ہے اور رہے گی۔ اس سے بھی موصوف نے حال اور آئندہ مراد کیسے لے لی؟ اور کیسے کہہ دیا کہ قیامت تک فضیلت دی ہے آپ انکار نہیں کر سکتے۔ نعمتیں تو خدا کفار کو بھی دیتا ہے تو کیا ہم ان کے راستے پر بھی چلیں؟؟؟ بنی اسرائیل اپنے لئے خود نمونہ عمل نہیں تھے بلکہ ان کے لئے بھی حضرت عیسی (ع) نمونہ عمل تھے ۔۔ إِنْ هُوَ إِلاَّ عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَ جَعَلْنَاهُ مَثَلاً لِبَنِي إِسْرَائِيلَ ( زخرف ۵۹) مسیح فقط ہمارا بندہ تھا اور ہم نے انہی کو نعمت دی اور بنی اسرائیل کے لئے نمونہ عمل بنایا۔

اس آیت میں نہیں کہا کہ عیسی (ع) کو بھی انعام دیا اور بنی اسرائیل کو بھی، جس کا یہ مطلب سمجھ آتا ہے کہ خدا نے دائما بنی اسرائیل کو نعمات نہیں دیں۔ اور بنی اسرائیل کے لئے حضرت عیسی (ع) کو نمونہ عمل قرار دینا اس بات کی دلیل ہے کہ خود بنی اسرائیل راستے کے محتاج تھے اور ان کا راستہ حجت نہیں بلکہ عیسی (ع) کا راستہ حجت ہے۔ جتنی مقدار میں حضرت عیسی ع کے نقش قدم پر رہیں گئے قابل قبول ہے باقی رد ہے۔۔ اس آیت میں جن پر انعام کیا گیا ان کا ذکر کرنے سے پہلے اطاعت کی بات کی تاکہ واضح ہو جائے کن لوگوں کا راستہ ہم مانگتے ہیں جن کی اطاعت کرنی ہے جو صراط مستقیم بھی ہے۔۔۔ بنی اسرائیل کی نعمتوں کے ساتھ کہیں نہیں لکھا کہ ان کے راستے پر آپ بھی چلو اس راستے کی اطاعت کرو۔ ہدایت یافتہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ایمان کو ظلم سے نہیں ملایا ” الَّذِينَ آمَنُوا وَ لَمْ يَلْبِسُوا إِيمانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَ هُمْ مُهْتَدُونَ” قرآن کی روشنی میں انعمت سے مراد کون لوگ ہیں؟ اور کس راستے پر چلنا ہے۔ قرآن نے جس راستے راستے کی طرف ہدایت مانگنے کو کہا ہے وہ قرآن نے بیان کیا ہے۔ ساتھ کہا ہے اس راستے کی اتباع کرو، جو اتباع کرے گا وہ بھی ان میں شمار ہو گا جن پر انعام کیا گیا۔ وَ مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَ الرَّسُولَ فَأُولٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَ الصِّدِّيقِينَ وَ الشُّهَدَاءِ وَ الصَّالِحِينَ وَ حَسُنَ أُولٰئِكَ رَفِيقاً ﴿نساء ۶۹﴾ اور جو لوگ خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں وہ (قیامت کے روز) ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر خدا نے بڑا فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ اور ان لوگوں کی رفاقت بہت ہی خوب ہے۔

بنی اسماعیل کا ذکر:
اور اس وقت کو یاد کرو جب ابراہیم علیہ السّلام و اسماعیل علیہ السّلام خانہ کعبہ کی دیواروں کو بلند کر رہے تھے اور دل میں یہ دعا تھی کہ پروردگار ہماری محنت کو قبول فرما لے کہ تو بہترین سننے والا اور جاننے والا ہے، پروردگار ہم دونوں کو اپنا مسلمان اور فرمانبردار قرار دے دے اور ہماری اولاد میں بھی ایک فرمانبردار امت پیدا کر۔ ہمیں ہمارے مناسک دکھلا دے اور ہماری توبہ قبول فرما کہ تو بہترین توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ (بقرہ ۱۲۷ اور ۱۲۸)۔ بقرہ ۱۲۴ کے مطابق حضرت ابراہیم نے جب خدا سے کہا کہ میری ذریت میں بھی امامت رکھنا تو اللہ نے کہا کہ میرا یہ عھد ظالمین کو نہیں پہنچے گا۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے ظالم کون ہیں؟؟؟ تو اللہ نے سورہ صف میں صریحا بنی اسرائیل کو ظالم کہا، اس کے علاوہ، ان کا انبیاء کو قتل کرنا، زمین پر فساد کرنا وغیرہ سب بنی اسرائیل کے بارے میں آیا، کہیں پر بھی بنی اسماعیل کے بارے میں نہیں آیا، اس لئے بنی اسرائیل تو اس عہد سے خارج ہو گئی ۔ اس طرح باقی بنی اسماعیل میں یہ فضیلت باقی بچی۔؎ اور عملا بھی خدا نے یہ فضیلت بنی اسماعیل کو دی۔ وَ إِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَاماً قَالَ وَ مِنْ ذُرِّيَّتِي قَالَ لاَ يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ ( بقرہ ۱۲۴) اور اس وقت کو یاد کرو جب خدا نے چند کلمات کے ذریعے ابراہیم علیہ السّلام کا امتحان لیا اور انہوں نے پورا کردیا، تو اس نے کہا کہ ہم تم کو لوگوں کا امام اور قائد بنا رہے ہیں۔ انہوں نے عرض کی کہ میری ذریت؟ ارشاد ہوا کہ یہ منصب امامت ظالمین تک نہیں جائے گا۔

قرآن میں بنی اسرائیل کے علاوہ دوسرے انبیاء کی آل کی فضیلت اور ان پر اپنے انعام کا ذکر کیا ہے۔ جیسے اس آیت میں أُولٰئِكَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ مِنْ ذُرِّيَّةِ آدَمَ وَ مِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ وَ مِنْ ذُرِّيَّةِ إِبْرَاهِيمَ وَ إِسْرَائِيلَ وَ مِمَّنْ هَدَيْنَا وَ اجْتَبَيْنَا إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوا سُجَّداً وَ بُكِيّاً (مریم ۵۸) لیکن بنی اسرائیل کا قرآن نے بیان کیا ہے یہ منحرف ہو گئے نبی (ص) پر ایمان نہیں لائے، اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا جبکہ دوسرے انبیاء کی آل کے بارے میں کہیں بھی ایسا نہیں کہا۔ جب حضرت نوح کا بیٹا، گمراہ ہوا اور ڈوبنے لگا تو حضرت نوح علیہ السلام نے خدا کو پکارا؛ تو خدا نے نہیں کہا کہ اے نوح تیری آل گمراہ ہو گئی، اب اولاد نوح پر عذاب آئے گا بلکہ یہ کہا کہ یا نوح یہ تیری آل میں سے نہیں اس کا عمل غیر صالح ہے۔ (ھود ۱۲ و ۱۳)۔۔ اس طرح بنی اسرائیل کے بارے میں کہیں نہیں کہا کہ جس کا عمل غیر صالح ہو گا وہ بنی اسرائیل سے نہیں بلکہ واضح الفاظ کے ساتھ بنی اسرائیل پر انبیاء اور اپنی لعنت بیان کی۔ ان کی گمراہیوں کو خود بنی اسرائیل سے نسبت دی۔۔ کسی آیت میں کسی نبی کی آل کے بارے میں ایسا نہیں کہا۔۔ امامت اور نبوت کا بنی اسماعیل کی آل میں رہنا ہی، بنی اسماعیل کی فضیلت ہے۔

اہل بیت کی فضیلت قیامت کے بعد بھی:
موصوف نے بنی اسرائیل کی قرآن کی کچھ آیات سے فضیلت بیان کی، فضیلت والی تمام آیات میں ماضی کا صیغہ ہے، یعنی فضیلتیں اور نعمتیں ماضی میں دی گئی۔ قیامت تک آپ اسے مضارع نہیں بنا سکتے۔ جبکہ اہل بیت کی فضیلت خدا نے قرآن میں مضارع کے صیغے کے ساتھ بیان کی۔ اس کے ساتھ چند تاکیدیں بھی استعمال کی۔ انَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيراً (احزاب ۳۳) بس اللہ کا ارادہ یہ ہے اے اہلبیت علیہ السّلام کہ تم سے ہر برائی کو دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جس طرح سے پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔ ذٰلِكَ الَّذِي يُبَشِّرُ اللَّهُ عِبَادَهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ قُلْ لاَ أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى وَ مَنْ يَقْتَرِفْ حَسَنَةً نَزِدْ لَهُ فِيهَا حُسْناً إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ شَكُورٌ (شوری ۲۳) یہی وہ فضلِ عظیم ہے جس کی بشارت پروردگار اپنے بندوں کو دیتا ہے جنہوں نے ایمان اختیار کیا ہے اور نیک اعمال کئے ہیں تو آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس تبلیغ رسالت کا کوئی اجر نہیں چاہتا علاوہ اس کے کہ میرے اقربا سے محبت کرو اور جو شخص بھی کوئی نیکی حاصل کرے گا ہم اس کی نیکی میں اضافہ کردیں گے کہ بیشک اللہ بہت زیادہ بخشنے والا اور قدرداں ہے۔ موصوف قیامت تک کوئی ایک آیت لے آئیں جہاں ایسی فضیلت کسی نبی کی ذریت کے لئے بیان ہوئی ہو۔ کہیں کہا ہو بنی اسرائیل سے مودت کرو۔ بنی اسرائیل کو ہم نے پاک کیا ہے۔۔۔سب نبیوں کی رسالت کا اجر نبی اکرم صلی اللہ و آلہ وسلم کے اقرباء سے مودت ہے۔ ان دو ْآیات کا کوئی ترجمہ بھی کریں لیکن اہل اسلام پر ان دو آیات سے ہی واضح ہو جاتا ہے کہ اہل بیت کی فضیلت قیامت کے بعد بھی ہے۔ اور بنی اسرائیل کو ماضی میں بھی ایسی فضیلت نہیں ملی۔۔۔

نوٹ: ہم قرآن کے علاوہ احادیث کو بھی حجت سمجھتے ہیں۔ حدیث کو پرکھنے کا راستہ موجود ہے اس لئے یہ عذر قبول نہیں کہ احادیث جعلی بھی ہیں اور انسان تمام احادیث کا منکر ہو جائے۔ بنی اسرائیل کے بارے میں احادیث واضح طور پر بیان کرتی ہیں کہ وہ کیسی مخلوق ہے اور اسی طرح انعمت سے کیا مراد ہے؟ وغیرہ۔ لہٰذا پہلی بحث وہاں ہونی چاہیئے۔۔۔ تعجب ہے ایسے افراد پر جو قرآن سمجھنے کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی احادیث کو قبول نہیں کرتے لیکن اپنی مرضی کی بات سمجھنے پر زور دیتے ہیں۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بات حجت نہیں تو ایک عام آدمی کی بات کیسے حجت ہو سکتی ہے؟

بقلم: مسلم عباس

بشکریہ اسلام ٹائمز

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/ی/۱۰۰۰۳