سعودی وہابی رژیم کا خاتمہ اہل یمن کے ہاتھوں یقینی ہے/ وہابیت اور صہیونیت کے درمیان شباہتیں




یہ میرے سچے نبی کا فرمان ہے کہ آپ نے فرمایا: (اني لأجد نفس الرحمن من قبل اليمن) میں یمن کی جانب سے نفس رحمان کا احساس کر رہا ہوں۔ (إذا هاجت الفتن فعليكم باليمن) اگر فتنے تمہیں گھیر لیں تو یمن کی طرف رخ کرنا۔ لہذا اہل یمن علاقے سے شیاطین کے ٹھکانوں کو نابود کر کے سانس لیں گے اور انشاء اللہ بہت جلد وہابی اور یہودی تفکر کی حامل ریاستوں کا علاقے سے خاتمہ ہو جائے گا۔



خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر: بہت سارے دھشتگرد گروہ جو انسانی معاشروں میں خوف و دھشت پھیلا رہے ہیں اور دنیا کے کونے کونے میں خونی واقعات کا ارتکاب کر رہے ہیں ان کی آئیڈیالوجی کا ڈھانچہ وہابی تفکر پر استوار ہے۔ یہ وہ گروہ ہیں جن کی نابودی پوری دنیا کا چیلنج بن چکی ہے اور ان کی سربراہی آل سعود کے پاس ہے اسی وجہ سے آج حتیٰ آل سعود کے اتحادی بھی سعودی عرب کا دفاع کرنے سے کتراتے ہیں جبکہ سعودی عرب نے ان پر کروڑوں ریال خرچ کئے ہیں تاکہ وہ اس کی کارستانیوں کے گن گاتے رہیں۔
سعودی عرب جہاں ایک طرف خفیہ طور پر دھشتگرد گروہوں منجملہ داعش، القاعدہ اور طالبان جیسوں کی حمایت کر رہا ہے وہاں دوسری طرف کھلے عام یمن میں مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہا رہا ہے۔ اسی بنا پر ہمارے نمائندے نے یمن کے ممتاز عالم دین، انجمن علمائے یمن کے نائب سربراہ، تحریک انصار اللہ کے رہنما عبد الملک بدر الدین الحوثی کے چچازاد بھائی “علامہ عبد المجید عبد الرحمن الحوثی” کے ساتھ ایک خصوصی گفتگو کی ہے جس کا ترجمہ قارئین کے لیے پیش کیا جاتا ہے؛
خیبر: یہودیوں کا دنیا میں اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک اہم طریقہ کار نئے فرقوں کی ایجاد ہے انہیں فرقوں میں سے ایک وہابیت ہے جس کی سربراہی سعودی عرب کے ہاتھ میں ہے۔ آپ یہودیوں اور وہابیوں کے درمیان تعلقات کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں؟
۔ عالمی سامراجیت کا مشرق وسطیٰ پر جب عسکری قبضہ ختم ہو گیا تو اس نے علاقے میں اپنا نفوذ باقی رکھنے کے لیے دو کٹھ پتلی حکومتیں قائم کیں اور ان کے ذریعے مشرق وسطیٰ مخصوصا دنیائے عرب اور عالم اسلام پر اپنا تسلط باقی رکھا۔ یہ دو کٹھ پتلی حکومتیں؛ ایک صہیونی ریاست ہے جس نے مسجد الاقصیٰ اور فلسطین پر ناجائز قبضہ کیا اور ملت فلسطین کو آوارہ وطن کیا اور دوسری حکومت سعودی وہابی حکومت ہے کہ جسے مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات یعنی حرمین شریفین پر مسلط کیا۔ ان دونوں ریاستوں نے گزشتہ صدی میں امریکہ اور برطانیہ کی سربراہی میں عالمی سامراجی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے اور اسلام و مسلمین کو کمزور بنانے میں کوئی لمحہ فروگذاشت نہیں کیا۔
اس کے علاوہ دشمنان اسلام کے تمام منصوبوں کو مختلف طریقوں سے علاقے میں عملی جامہ پہنایا، ایک جانب صہیونی ریاست عربی اسلامی ممالک پر اپنا ناجائز تسلط قائم کر رہی تھی تو دوسری طرف وہابی حکومت اسلام کا چہرہ بگاڑ کر مسلمانوں میں تفرقہ اندازی کا بیج بو رہی تھی۔ علاوہ از ایں، سعودی ریاست نے تکفیری وہابی افکار کا عالم اسلام کے اندر ایسا زہر گولا کہ القاعدہ، داعش اور جبہۃ النصرہ جیسے تکفیری ٹولے اس کے نتیجے میں وجود میں آئے اور دنیا میں اسلام و مسلمین کا چہرہ مسخ کرکے رکھ دیا۔ سعودیوں کے ان اقدامات نے جتنا اسلام کو نقصان پہنچایا ہے اتنا کسی دور میں کسی ظالم حاکم نے نہیں پہنچایا اور شاید اس کے منفی اثرات صہیونی ریاست کے ظلم و ستم کی بنسبت کہیں زیادہ ہوں گے۔
خیبر: اہل سنت کے بعض گروہ شیعوں کو یہودیوں سے نسبت دیتے ہیں اور ان دونوں کو ہمفکر سمجھتے ہیں، آپ کا ان ناروا تہمتوں کے مقابلے میں کیا جواب ہے؟
۔ یہ تہمتیں تازہ اور نئی نہیں ہیں بلکہ شیعہ مخالف ناصبیوں کی جانب سے گزشتہ دور میں بھی یہ تہمتیں شیعوں پر لگائی گئیں اور عبد اللہ بن سبا کا افسانہ بنا کر پیش کیا گیا اور کوشش کی گئی کہ اس افسانے کو شیعوں اور پیغمبر و اہل بیت پیغمبر (ع) کے چاہنے والوں کی طرف منسوب کریں، لیکن یہ سب دعوے جھوٹے ہیں اور ضعیف النفس اور بیمار دل افراد کے علاوہ ان باتوں پر کوئی یقین نہیں کرتا۔ دنیا کا ہر عاقل انسان یہ جانتا ہے کہ ایران کا اسلامی انقلاب، یمن، حزب اللہ اور فلسطین کی تحریک مزاحمت صرف یہودیوں اور صہیونیوں کے ساتھ دشمنی کی وجہ سے ہی عالمی استکبار کی سازشوں کا شکار ہے۔
وہ جنگ جو ۸ سال اسلامی جمہوریہ ایران پر مسلط کی گئی اور اب ۴ سال سے یمن پر مسلط کی گئی ہے یہ علاقے میں یہودی صہیونی منصوبوں کی مخالفت کا نتیجہ ہے اور امریکہ کی عربی اسلامی ممالک پر مسلط کی جانے والی استعماری سیاست کو قبول نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔ اگر آج تحریک مزاحمت غاصب صہیونی ریاست کو تسلیم کر کے خلیجی عرب ریاستوں کی طرح اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا دے تو یقین مانیے ہمارے خلاف کوئی جنگ نہیں رہے گی سب محاصرے ختم ہو جائیں گے اور ہماری قوم پر نہ عسکری حملہ ہو گا نہ اقتصادی اور ثقافتی حملہ۔
ہم تو یہودیوں اور عیسائیوں سے دوستی کی اپنے اہل سنت بھائیوں کی طرف بھی نسبت نہیں دیتے جبکہ آج اہل سنت کے اکثر حکمران اسرائیل کے ساتھ دوست ہیں لیکن وہ الٹا ہم پر یہودیوں سے دوستی کی تہمت لگاتے ہیں اگر آنکھیں کھول کر دیکھا جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ کون یہودیوں اور عیسائیوں کی آغوش میں بیٹھا ہے اور عالمی سامراجیت اور استکباریت کے ساتھ ہم نوالہ و ہم پیالہ ہے۔ اور کون میدان کارزار میں یہودیت اور صہیونیت کے مقابلے میں سینہ سپر ہے۔
خیبر: صہیونی ریاست اور عرب کٹھ پتلیوں مخصوصا سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی جو لہر چلی ہے اس کے بارے میں آپ کا کیا تجزیہ ہے؟
صہیونی ریاست اور سعودی حکومت کے درمیان تعلقات کی جڑیں در حقیقت صہیونیت کے ساتھ وہابیت کے تعلقات کی جڑوں میں پیوستہ ہیں اور ان دو حکومتوں کی تشکیل کے ابتدائی دور سے ہی یہ تعلقات موجود تھے اگر چہ ایک زمانے تک خفیہ اور پشت پردہ تھے لیکن اب دھیرے دھیرے سامنے آ رہے ہیں۔
ان دو ریاستوں کے درمیان روابط کو معمول پر لانے یا دوسرے لفظوں میں آشکارا بنانے میں سب سے زیادہ کردار واشنگٹن کا ہے۔
روابط کو خفیہ رکھنا یا آشکار بنانا یہ ان اپنے ہاتھ میں نہیں ہے بلکہ یہ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور دیگر مغربی ممالک کے اشاروں پر انجام پاتا ہے اور مستقبل قریب میں صہیونیت اور وہابیت کے درمیان مزید گہرے روابط کھل کر سامنے آئیں گے۔
یہ ایسے حال میں ہے کہ خداوند عالم نے قرآن میں یہود و نصارایٰ سے دوستی کو سختی سے منع فرمایا ہے:
«يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَتَتَّخِذُواْ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاء بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاء بَعْضٍ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللّهَ لاَيَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ»
(ایمان والو یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا دوست اور سرپرست نہ بناو کہ یہ خود آپس میں ایکدوسرے کے دوست ہیں اور تم میں سے جو کوئی انہیں دوست بنائےگا تو انہیں میں شمار ہو جائے گا بیشک اللہ ظالم قوم کی ہدایت نہیں کرتا ہے)
خیبر: کیا آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ وہابی اور یہودی فکر کے درمیان کون کون سے شباہتیں پائی جاتی ہیں اور یہ فکری شباہتیں علاقے کے حالات پر کتنا اثر انداز ہو سکتی ہیں؟
پہلی شباہت یہ ہے کہ اس فکر کی حامل دونوں ریاستیں استعماری طاقتوں کے ذریعے اسلام کے ساتھ مقابلہ کرنے کی غرض سے وجود میں لائی گئیں۔
دوسری یہ کہ یہ دونوں عالم اسلام اور دنیائے عرب میں عالمی استکبار کی پالیسیوں کے نفاذ کا اصلی مہرہ ہیں۔
تیسری یہ کہ دونوں انتہا پسند دینی نسل پرستی کی آئیڈیالوجی کی بنا پر تشکیل پائی ہیں جس کا مقصد دھشتگردی پھیلانا اور علاقے میں ہمیشہ جنگ و جدال کی کیفیت جاری رکھنا ہے۔
چوتھی شباہت یہ ہےکہ یہ دونوں حکومتیں دنیائے عرب پر اپنا قبضہ جمانے اور پھر پوری دنیا میں اپنا نفوذ پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
علاقے میں ان دونوں کے اثرات کے حوالے سے گزارش کروں کہ گزشتہ دور میں عربی و اسلامی قومیں ان دونوں ریاستوں کے خطرات سے آگاہ نہیں تھیں تو اس بنا پر خصوصا وہابی تفکر علاقے میں کافی اثرانداز ہوا لیکن مجھے یقین ہے کہ دھیرے دھیرے قومیں بیدار ہو رہی ہیں حقائق کھل کر سامنے آ رہے ہیں اور قبلہ اول، مسئلہ فلسطین اور اب صدی کی ڈیل جیسے مسائل میں ان دونوں ریاستوں کے باہمی تعلقات سے علاقے کے عوام باخبر ہو رہے ہیں لہذا اسلامی اور عربی دنیا میں ان کا نفوذ دھیرے دھیرے ختم ہوتا جا رہا ہے اور یہ نکتہ آغاز ہے ان دو خبیث ریاستوں کی نابودی اور خاتمے کا۔
تفکیری وہابی رژیم کی نابودی انشاء اللہ یمن سے شروع ہو چکی ہے اور یمن کے عوام وہ لوگ ہیں جو خداوند متعال کی نصرت سے اسلام اور مسلمین کو سعودی اور اسرائیلی ظلم و ستم سے نجات دلا کر دم لے گی۔
یہ میرے سچے نبی کا فرمان ہے کہ آپ نے فرمایا: (اني لأجد نفس الرحمن من قبل اليمن) میں یمن کی جانب سے نفس رحمان کا احساس کر رہا ہوں۔ (إذا هاجت الفتن فعليكم باليمن) اگر فتنے تمہیں گھیر لیں تو یمن کی طرف رخ کرنا۔ لہذا اہل یمن علاقے سے شیاطین کے ٹھکانوں کو نابود کر کے سانس لیں گے اور انشاء اللہ بہت جلد وہابی اور یہودی تفکر کی حامل ریاستوں کا علاقے سے خاتمہ ہو جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/۱۰۳