ڈاکٹر محمدی کے ساتھ خیبر کی گفتگو کا دوسرا حصہ

پیغام غدیر کی تحریف میں یہودیوں کا کردار




خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر: گزشتہ سے پیوستہ واقعہ غدیر کو رحلت رسول اسلام(ص) کے فورا بعد مسلمانوں کی جانب سے فراموش کئے جانے کی وجوہات کیا تھیں؟ کیا اس درمیان یہودیوں کا بھی کردار تھا؟ اس حوالے سے خیبر نے ڈاکٹر محسن محمدی کے ساتھ گفتگو کی اس گفتگو کا دوسرا حصہ قارئین کے لیے […]



خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر: گزشتہ سے پیوستہ

واقعہ غدیر کو رحلت رسول اسلام(ص) کے فورا بعد مسلمانوں کی جانب سے فراموش کئے جانے کی وجوہات کیا تھیں؟ کیا اس درمیان یہودیوں کا بھی کردار تھا؟ اس حوالے سے خیبر نے ڈاکٹر محسن محمدی کے ساتھ گفتگو کی اس گفتگو کا دوسرا حصہ قارئین کے لیے پیش کیا جاتا ہے؛

خیبر: ابھی تک آپ کی گفتگو سے کافی باتیں واضح ہو گئیں ہیں لیکن ایک سوال جو ابھی تک ہمارے ذہن میں کھٹک رہا ہے وہ یہ ہے کہ کیا یہودیوں کا بھی اس درمیان کوئی کردار تھا۔

۔ اگر ہم سیاسی زاویہ نگاہ سے واقعہ غدیر کا جائزہ لیں گے تو اس میں یقینا بیرونی عوامل بھی نظر آئیں گے جن میں سے ایک یہودیوں کا کردار ہے۔

اس سے پہلے کہ ہم اس موضوع پر گفتگو کریں، ایک اہم نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ اگر چہ ہم واقعہ غدیر کو ایک الہی امر کے عنوان سے دیکھتے ہیں اور پیغمبر اکرم (ص) کی جانشینی کو ہدایت بشریت کا تسلسل مانتے ہیں لیکن بعض نظریات اس موضوع کو دنیوی اقتدار کے حصول کی راہ میں صرف ایک دنیوی منصب قرار دیتے ہیں۔ صدر اسلام میں بھی بعض لوگ نہ صرف پیغمبر اکرم کی جانشینی کو ایک الہی اور معنوی منصب نہیں سمجھتے تھے بلکہ خود پیغمبر اکرم کو بھی دنیوی بادشاہ کے عنوان سے دیکھتے تھے۔

خیبر: یہودیوں کے کردار کو بھی اسی سیاسی زاویہ نگاہ کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے؟

۔ جی ہاں، اگر ہم واقعہ غدیر کا سیاسی تجزیہ و تحلیل کریں گے تو ہمیں یہودیوں کا کردار بھی واضح نظر آئے گا۔

قرآن کریم کی آیات کے مطابق، یہودیوں نے ہر دور میں بنی اسرائیل کے نبیوں کی مخالفت کی اور انہیں قتل کیا،  حضرت عیسیٰ کے قتل کا منصوبہ بنا کر مسیحیت کا مقابلہ کرنے اور اسے تحریف کرنے کے لیے بعض یہودی علما نے عیسائیت کا لبادہ اوڑھا اور عیسائی عالم دین بن کر عیسائیت کو تحریف کر دیا۔

یہودیوں نے اسلام کے خلاف بھی یہی طریقہ کار استعمال کیا۔ یا خود اسلام کا لباس پہن کر یا کچھ صاحب نفوذ مسلمانوں کو خرید کر اپنے مقصد تک پہنچنے کی کوشش کی۔ اصحاب پیغمبر میں ان کا نفوذ اس قدر تھا کہ حتیٰ بعض لوگ کچھ دوسرے افراد کو پیغمبر کے برابر کا درجہ دیتے تھے اور ان کی اطاعت میں حضرت علی علیہ السلام کی بیعت سے انکار کرتے تھے۔

وہ لوگوں کو یہ باور کرواتے تھے کہ علی (ع) بھی دیگر اصحاب کی طرح ایک صحابی ہیں اگر انہیں خلافت نہیں ملی تو کیا ہوا جو بھی تخت خلافت پر بیٹھا وہ صحابی رسول ہی تو ہے۔

خیبر: ایسے لوگوں یا اصحاب کو کیا منافق نہیں کہا جائے گا جو بظاہر رسول اکرم کا ساتھ دیتے تھے لیکن اندر اندر سے اسلام کی جڑوں کو کاٹ رہے تھے؟

جی ہاں منافقین کے پیچھے یہودیوں کا ہاتھ تھا۔ بنی امیہ جو صدر اسلام سے ہی اسلام کے دشمن تھے اور جو مسلمان بھی ہوئے وہ صرف ظاہری طور پر مسلمان ہوئے ان کے یہودیوں سے گہرے روابط تھے؛

۱۔ امیہ جو عبد شمس کا منہ بولا بیٹا تھا وہ روم سے مکہ آیا تھا اور عبد شمس کے بھائی ہاشم کے ساتھ اس کا اختلاف ہوا جس کی بنا پر اسے دوبارہ مکہ سے نکال کر روم بھیج دیا گیا روم جو اس زمانے میں یہودیوں کا ایک اہم مرکز تھا۔

۲۔ قرآن کریم نے بھی بہت باریکی کے ساتھ بنی امیہ اور یہودیوں کے درمیان روابط کو بیان کیا ہے۔ ایک طرف پیغمبر اکرم نے خواب دیکھا کہ بندر ان کے منبر پر چڑھ گئے ہیں۔(۱) دوسری طرف قرآن کریم نے بنی اسرائیل کو بندروں سے تشبیہ دی۔(۲)۔ معلوم ہوا کہ وہ بندر جو منبر رسول پر چڑھتے ہوئے رسول نے خواب میں دیکھے وہی یہودی تھے جو بنی امیہ کی شکل میں اسلام کا چہرہ بگاڑنے کے لیے مسلمان بنے تھے۔(۳)

۳۔ معاویہ کا یہودیوں کے ساتھ گہرہ رابطہ تھا یہاں تک کہ یہودیوں کی بعض نمایاں شخصیات جیسے کعب الاحبار یا ابوہریرہ امیر المومنین علی علیہ السلام کے دور خلافت میں مدینہ چھوڑ کر معاویہ کے پاس شام منتقل ہو گئیں۔

شام اس دور میں وہ سرزمین تھی جہاں بیت المقدس بھی واقع تھا یعنی آج کا فلسطین بھی شامی حکومت کے زمرئے میں آتا تھا اور یہ یہودیوں کے لیے بہت اہم موضوع تھا۔ لہذا وہ بنی امیہ کے بادشاہوں کو ان کے حال پر نہیں چھوڑ سکتے تھے۔

حواشی

(۱) . وَ مَا جَعَلْنَا الرُّؤْیا الَّتِی أَرَینَاکَ إِلاَّ فِتْنَةً لِلنَّاسِ وَ الشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِی الْقُرْآنِ سوره اسراء، آیه ۶۰٫

(۲). سوره مائده، آیه ۶۰: قُلْ هَلْ أُنَبِّئُکُمْ بِشَرٍّ مِنْ ذلِکَ مَثُوبَةً عِنْدَ اللَّهِ مَنْ لَعَنَهُ اللَّهُ وَ غَضِبَ عَلَیهِ وَ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَ الْخَنَازِیرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوتَ أُولئِکَ شَرٌّ مَکَاناً وَ أَضَلُّ عَنْ سَوَاءِ السَّبِیلِ‌؛

(۳) المیزان فی تفسیر القرآن، ج۱۳، ص ۱۳ و ۱۴۹

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍۱۰۳