مسئلہ کشمیر اور عالم تشیع




خیبر صہیون تجزیاتی ویب گاہ: حقیقت یہ ہے کہ بہت سے مسائل عالم اسلام میں مشترک ہیں اور سارے مسلمانوں کو ان سے دلچسپی ہے۔ مسلمانوں کو جہاں بھی مشکلات اور مصیبتیں درپیش ہیں، دنیا میں مسلمان جہاں بھی بستا ہے، وہ ان پر اپنے دل میں رنج و غم محسوس کیے بغیر نہیں رہ […]



خیبر صہیون تجزیاتی ویب گاہ: حقیقت یہ ہے کہ بہت سے مسائل عالم اسلام میں مشترک ہیں اور سارے مسلمانوں کو ان سے دلچسپی ہے۔ مسلمانوں کو جہاں بھی مشکلات اور مصیبتیں درپیش ہیں، دنیا میں مسلمان جہاں بھی بستا ہے، وہ ان پر اپنے دل میں رنج و غم محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ انہی میں سے ایک مسئلہ کشمیر ہے۔ اس معاملے میں مسلمان کسی بھی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہوں، الگ نہیں رہ سکتے۔ کشمیر کے مسلمان ایک طویل عرصے سے برہمن سامراج کے ظلم و ستم کی چکی میں پس رہے ہیں۔ وہ اپنے لیے وہی حق طلب کرتے ہیں، جسے عالمی ادارے بھی ساری قوموں اور سارے انسانوں کے لیے جائز اور فطری تسلیم کرتے ہیں اور وہ ہے حق خودارادیت۔ اس حق کے راستے میں بھارت کا برہمن سامراج اپنی پوری طاغوتی طاقت کے ساتھ حائل ہے۔

آج کشمیر کا کوئی گھر ایسا نہیں جس نے کوئی شہید نہ دیا ہو یا جس پر بھارت کی سفاک اور وحشی فوج نے کوئی ستم نہ ڈھایا ہو، اب یہ ستم اور بھی بڑھ گیا ہے اور کشمیر کی سرزمین کو برسراقتدار مودی ٹولے نے دہشت گرد ہندوﺅں کی چراگاہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارت کی پارلیمان میں اپنی اکثریت کے بل بوتے پر بی جے پی نے کشمیر کے لیے خصوصی حیثیت رکھنے والے قوانین کو ختم کر دیا ہے، تاکہ کشمیر کی سرزمین پر بسنے والے مسلمانوں کو ان کے اپنے ہی علاقے میں محصور اور مجبور کر دیا جائے۔ اس پر پورے عالم اسلام میں ردعمل کا سلسلہ جاری ہے، یہ بات باعث اطمینان ہے کہ جیسے عالم تشیع نے فلسطین کے مسئلے پر پوری اجتماعی قوت سے اپنے فلسطینی بھائیوں کی مسلسل حمایت جاری رکھی ہوئی ہے آج وہ اسی طرح سے کشمیر کے محروم و مقہور مسلمانوں کی حمایت میں بھی سراپا احتجاج نظر آتے ہیں۔

۵ اگست ۲۰۱۹ء کو ایک طرف بھارتی پارلیمنٹ میں کشمیریوں کو خصوصی حیثیت سے محروم کیا گیا اور دوسری طرف کشمیر کے اندر کشمیر کی ساری آبادی کو کرفیو لگا کر گھروں میں محصور کر دیا گیا۔ اس سلسلے میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے اندر سب سے پہلا بھرپور عوامی مظاہرہ کارگل میں ہوا، جو شیعہ اکثریتی علاقہ ہے، ان کے مظاہرے کی ویڈیو دنیا بھر میں دیکھی گئی اور وہ بھارتی ظلم کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ اس کے بعد پوری دنیا میں احتجاج کا یہ سلسلہ شروع ہوگیا۔ لندن اور دیگر کئی یورپی شہروں میں مظاہرے ہوئے۔ ایک بڑا مظاہرہ تہران میں دیکھنے میں آیا، جہاں ۱۲ اگست کو یونیورسٹیوں، دینی مدارس اور کالجوں کے طلبہ بھارتی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے حکومت ہند کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور نعرے بازی کی۔ انہوں نے انسانی حقوق کے عالمی اداروں پر زور دیا کہ وہ کشمیری عوام پر ہونے والے مظالم کو رکوانے میں اپنی انسانی اور اخلاقی ذمہ داریاں ادا کریں۔ اسی طرح ایک بڑا مظاہرہ مذہبی شہر قم میں بھی کیا گیا۔ ایک اور مظاہرہ مشہد مقدس میں ہوا۔ خطبات جمعہ میں پورے ملک کے آئمہ جمعہ نے بھارتی حکمرانوں کے کشمیری عوام پرظلم کے خلاف بھرپور آواز بلند کی۔

شیعہ مراجع، فقہاء اور علماء نے پوری دنیا میں بیانات جاری کیے اور کشمیری مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر غم اور افسوس کا اظہار کیا۔ آیت اللہ نوری ہمدانی نے اپنے ایک بیان میں اسلامی ممالک کے حکمرانوں، عالمی اداروں، سیاستدانوں، علماء اور دانشوروں پر زور دیا کہ وہ کشمیر کے بارے میں خاموش تماشائی نہ رہیں اور کشمیری عوام پر ہونے والے ظلم و ستم کو روکنے کے لیے اپنی ذمہ داریوں پر عمل کریں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں ہندوستانی حکام کے ظالمانہ اقدام سے عدم استحکام پیدا ہو جائے گا۔ علامہ ذاکر حسین ذاکری نے ایک انٹرویو میں کہا کہ کشمیر پاک و ہند کے درمیان متنازع مسئلہ ہے، جو اس وقت قضیہ فلسطین کے مشابہ ہوچکا ہے، اس اعتبار سے کہ جس طرح فلسطینیوں کی زمین ان کی اجازت کے بغیر ہتھیا لی گئی تھی اور دنیا ساری مانتی ہے کہ اسرائیل کا فلسطین پر غاصبانہ اور ناجائز قبضہ ہے، اسی طرح اب دفعہ ۳۷۰ کو ہٹا کر کشمیر کی ریاستی حیثیت کو ختم کرکے، کشمیر کو تقسیم کرکے، کشمیریوں کی رائے لیے بغیر ان کی زمینوں پر غیروں کے قبضے کے لیے راستہ ہموار کرنا، تمام کشمیریوں اور دنیا والوں کی نظر میں ایک ناجائز اور غیر قانونی اقدام ہے، جو یقیناً صہیونی ریاست کے اقدام کے مساوی اور مشابہ ہے۔

وفاق المدارس شیعہ اور ملی یکجہتی کونسل کے نائب صدر قاضی نیاز حسین نقوی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان کو چاہیئے کہ کشمیریوں کے حق خودارادیت اور آزادی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے۔ افسوس کہ مسئلہ کشمیر ۷۲ سال سے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر ہونے کے باوجود انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سلامتی کونسل بھارتی مظالم کو بند نہیں کروا سکی۔ اس سلسلے میں سب سے اہم پیغام اور بیان یقینی طور پر ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کا ہے، جنھوں نے گذشتہ روز (۲۱ اگست ۲۰۱۹ء) ایران کے صدر ڈاکٹر روحانی اور دیگر حکومتی اراکین سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر کے بارے میں نہایت درد و رنج میں ڈوبی ہوئی آواز سے گفتگو کا آغاز کیا۔ انھوں نے کہا: میں کشمیر کے لیے بہت غمزدہ ہوں، یہ جملہ کہنے کے بعد انہوں نے کہا کہ وزارت خارجہ کے ذمہ داران اس وقت موجود نہیں ہیں، گویا وہ وزارت خارجہ کے ذمہ داروں سے مسئلہ کشمیر کے بارے میں خصوصی توجہ کا تقاضا کر رہے تھے۔ پھر انھوں نے کہا: واقعاً کشمیر کے لوگوں کے ساتھ ظلم کیا جا رہا ہے، ان کے بارے میں جھوٹ بولا جا رہا ہے۔ ان پر جبر کیا جا رہا ہے۔ حکومت ہندوستان کی طرف سے ان شریف انسانوں کے لیے منصفانہ سیاست بروئے کار لائی جانا چاہیئے، اگرچہ ہندوستانی حکومت کے ساتھ ہمارے روابط اچھے ہیں، لیکن ہمیں اس سے یہ امید اور توقع ہے کہ وہ کشمیر کے لوگوں کے ساتھ انصاف کا راستہ اختیار کرے گی۔”

انھوں نے مزید کہا: میں آپ سے یہ بھی کہوں کہ یہ خبیث برطانیہ کا کام ہے، یہ وہ زخم ہے جو برصغیر میں ۱۹۴۷ء میں برطانوی حکومت کی طرف سے کاشت کیا گیا۔ جب اس نے برصغیر سے نکلنے کا فیصلہ کیا اور برصغیر کو دو حصوں میں تقسیم کیا جانے لگا تو اسی وقت اس نے کشمیر کا زخم یہاں پر کاشت کیا اور اسے اسی طرح سے رہنے دیا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ یہ زخم ٹھیک ہو۔ اس نے جان بوجھ کر ایسا کیا، تاکہ ان دونوں ملکوں کے درمیان ہمیشہ ایک مشکل پڑی رہے۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ ان دو ملکوں کے مابین اچھے تعلقات قائم ہوں۔ اب جو کچھ ہو رہا ہے یہ سب اسی کے بوئے ہوئے زخم کا نتیجہ ہے۔ اس بیان کی بازگشت پوری دنیا میں سنائی دے رہی ہے۔ عراق اور لبنان کے شیعوں نے بھی کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے لیے آواز بلند کی ہے۔ آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی نے جو عراق کے سب سے بڑے مرجع ہیں، کشمیر کے مسلمانوں کے لیے ایک بیان جاری کیا ہے۔ قم کے مراجع میں سے آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی اور آیت اللہ صافی گلپائیگانی نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔

دنیا کے مختلف ملکوں میں شیعوں نے مظاہرے کیے ہیں۔ پاکستان میں جہاں دیگر مسلمانوں اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر شیعوں نے مظاہرے کیے ہیں، وہاں پر شیعہ تنظیموں اور اداروں نے الگ الگ بھی مظاہرے کیے ہیں، سیمینار اور کانفرنسیں منعقد کی ہیں۔ دینی مدارس نے اجتماعات منعقد کیے ہیں۔ شیعہ مذہبی، سیاسی اور طلبہ تنظیموں نے بھی اس سلسلے میں ریلیاں نکالی ہیں، اجتماعات منعقد کیے ہیں اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ علامہ سید ساجد علی نقوی، علامہ راجہ ناصر عباس اور دیگر ممتاز شیعہ راہنماﺅں نے الگ الگ بیانات بھی جاری کیے ہیں۔ ان بیانات و اقدامات کو دیکھ کر نبی کریم کا یہ فرمان یاد آتا ہے کہ تمام مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں، جب اس جسم کے کسی ایک حصے کو تکلیف پہنچتی ہے تو سارا جسم بے قرار و مضطرب ہو جاتا ہے۔ آج کشمیر کے مسلمانوں کے دکھ پر جو بھی مضطرب ہے، وہ اپنے اضطراب سے گویا یہ ثابت کر رہا ہے کہ وہ ایک مسلمان ہے اور نبی کریم کے فرمان کا ایک مصداق ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں ایک سَچا اور سُچا مسلمان بننے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں گروہوں اور فرقوں سے بالاتر ہو کر تمام انسانی اور اسلامی مسائل میں مل کر دوش بدوش آگے بڑھنے کی ہمت اور شعور مرحمت فرمائے۔

بقلم ثاقب اکبر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍۱۰۳