سلطنت برطانیہ بحری ڈاکؤوں کی یادگار؛ (3)

بحری قزاقوں نے برطانیہ کو کس طرح بچایا؟




یہ مختصر سی تاریخ گواہ ہے کہ برطانیہ کے استعمار اور دولت سمیٹنے کا اہم ترین دور الیزبتھ اول اور سمندری قزاقوں کے براہ راست تعاون کا نتیجہ تھا۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: گزشتہ سے پیوستہ؛

برطانیہ نے اسی زمانے میں جو اگلا قدم سمندروں پر تسلط جمانے اور ہسپانیہ اور پرتگال کو پیچھے دھکیلنے کے لئے اٹھایا وہ ہسپانیہ کے بادشاہ فلپ دوم ([۱]) کے عظیم بحری بڑے کو شکست دینے سے عبارت تھا۔ فلپ دوم جو لاطینی امریکہ سے مشرق بعید تک، وسیع سرزمینوں پر حکمرانی کررہا تھا، اور اپنی بحریہ کے خلاف برطانوی قزاق فرانسس ڈریک کے حملوں سے تنگ آگيا تھا، نے جزیرہ برطانیہ پر حملے کا حکم دیا۔

طے یہ پایا تھا کہ عظیم ہسپانوی بحریہ خلیج ٹیمز پر حملہ کرکے برطانوی سرزمین پر چڑھ دوڑنے کے لئے ضروری امکانات فراہم کرے اور بالآخر ۱۵۰۰۰ پورپی سپاہی برطانیہ میں اتر کر لندن کی طرف پیشقدمی کریں۔

حملہ آور پسپانوی بحری بیڑا ۱۳۰ جنگی جہازوں اور ۲۰ ہزار ملاحوں پر مشتمل تھا۔ یہ بیڑا بغیر کسی رکاوٹ کے  آبنائے ڈوور ([۲]) پہنچا لیکن نہایت خطرناک مقام پر فرانسس ڈریک کے حملے سے دوچار ہوا۔ ڈریک نے رات کی تاریکی میں ۳۰ توپوں سے لیس چھوٹی چھوٹی کشتیوں سے ہسپانوی جہازوں پر پیچھے سے حملے کئے اور جہاں تک ممکن تھا انہيں نشانہ بنایا اور لوٹ لیا۔

ہسپانوی بحریہ پسپا ہوکر فرانسیسی بندرگاہ “کالے” ([۳]) میں رک گئی اور اس بار برطانیہ کے گرد کا چکر کاٹ کر ایک بار پھر بخت آزمائی کا فیصلہ کیا لیکن اس مرتبہ بھی اس شدید آندھی اور انگریزی کشتیوں کے چھاپہ مار حملہ کا سامنا کرنا پڑا اور بہت سے جہاز آئرلینڈ کی پتھریلی چٹانوں سے ٹکرا کر تباہ ہوئے اور ملاحوں کا قتل عام ہوا اور جو ملاح زندہ بچے تھے انہیں آئرلینڈ کے مقامی لوگوں نے قتل کیا۔

بالآخر ہسپانوی بیڑا ـ جبکہ اپنی نصف نفری اور جہازوں کو کھو چکا تھا ـ واپس اپنی بندرگاہ پر واپس آیا۔ اس شکست کے بعد ہسپانوی بحریہ کبھی بھی اپنی کمر کو سیدھا نہيں کرسکا اور دنیا کے سمندروں پر تسلط کو عملی طور پر برطانیہ کے سپرد کردیا۔

دوسری طرف سے برطانیہ نے ایران کی صفوی سلطنت کے تعاون سے بندر گمبرون ([۴]) کو پرتگیزوں سے خالی کروا کر انہیں خلیج فارس سے مار بھگایا اور یوں ہندوستان اور مشرق بعید میں پرتگیزی نوآبادیاتی دور کے اختتام کی بنیاد پڑی۔ بس تھوڑے سے وقت کی ضرورت تھی کہ برطانیہ ہندوستان کے علاقے پر مسلط ہوکر دنیا کی اصلی استعماری طاقت میں بدل جاتا۔

عظمت جو بحری ڈاکؤوں کے مرہون منت تھی

یہ مختصر سی تاریخ گواہ ہے کہ برطانیہ کے استعمار اور دولت سمیٹنے کا اہم ترین دور الیزبتھ اول اور سمندری قزاقوں کے براہ راست تعاون کا نتیجہ تھا۔

لوٹ مار اور ڈاکہ زنی سے حاصل ہونے والی اصل آمدنی البتہ کبھی بھی برطانوی عوام کی جیب میں نہیں گئی بلکہ بلاواسطہ طور پر نجی کمپنیوں کی تجوریوں میں جاتی رہی اور ان تمام کمپنیوں میں انگریزی شاہی دربار بنیادی حصہ دار ([۵]) تھا۔

ان ہی غارتگریوں اور ڈکیتیوں ہی سے حاصل ہونی والی کمائی نے اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں برطانیہ میں صنعتی انقلاب کو ممکن اور مغرب کو دنیا کا پہلے درجے کا سرمایہ دار بنایا۔ شاید اس داستان کا مضحک ترین نکتہ یہ ہو کہ برطانیہ نے فرانسس ڈریک کے جہاز کا ایک مکمل نمونہ تعمیر کرکے دریائے ٹیمز میں اتارا۔ وہی جہاز جو ڈریک کی ڈاکہ زنی کے عروج کے زمانے میں گولڈن ہنڈ ([۶]) کہلاتا تھا۔ یہ جہاز شاید برطانوی عوام نیز دنیا بھر کے انسانوں کو یاددہای کروا رہا ہے کہ جو کچھ بھی برطانیہ کے پاس ہے وہ سب بحری ڈاکؤوں کی کمائی ہے۔ چوری اور لوٹ مار سے حاصل ہونے والا مال، جس نے برطانیہ کو پانچ بڑی طاقتوں کے زمرے میں لاکھڑا کیا ہے؛ اور خبردار کررہا ہے کہ آج کا برطانیہ فرانسس ڈریک جیسے ڈاکو کو اپنا ہیرو سمجھتا ہے لہذا یہ ممکن نہیں ہے کہ اس نے چوری اور ڈکیتی سے توبہ کی ہو، لہذا خبردار رہئے، گوکہ یہ قزاق اب کمزور ہوچکا ہے لیکن آج بھی قزاق ہی ہے۔

یاد رہے کہ حال ہی میں مقبوضہ جبل الطارق کے ساحل پر ایران کے سوپر ٹینکر پر برطانوی کے حکمران قزاقوں کے حملے کے بعد ایرانی طلبہ نے تہران میں برطانوی سفارتخانے کے سامنے مظاہرہ کیا اور برطانوی سفیر کو بحری قزاقوں کا جھنڈا بطور تحفہ عطا کیا!

حواشی

[۱]۔ Philip II of Spain

[۲]۔ Strait of Dover

[۳]۔ Port of Calais

[۴]۔ موجودہ بندر عباس جس کو پرتگیز سامراجیوں نے کیکڑوں کی بہتات کی وجہ سے کیکڑوں کی بندرگاہ (Porto de Camarão) کا نام دیا تھا جس کی وجہ سے ـ شاید ـ مقامی لوگ اسے “گمبرون” کہتے تھے۔

[۵]۔ Shareholder

[۶]۔ Golden Hind

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بقلم: مہدی پورصفا

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

فارسی لنک: http://fna.ir/dau3vd

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تمام شد/۱۰۱