اسرائیل کے انتخابات اور نیتن یاہو کی زندگی اور موت کا مسئلہ




’’نیتن یاہو انتخابات کے چکر میں ہیں۔ صہیونی رہنماوں کی یہ عادت ہے کہ مقبوضہ فلسطین میں اپنے انتخابات کو علاقے کے مسلمانوں کے خون سے رنگین کرتے ہیں۔ لیکن اس دفعہ اسرائیل کے انتخابات خود اسرائیلیوں کے خون سے رنگین ہوں گے۔ نیتن یاہو آئندہ ماہ ہونے والے انتخابات سے ڈر رہے ہیں کہ ان کی سرنوشت میں یا وزارت عظمیٰ لکھی ہے یا جیل کی سزا‘‘۔



خیبر صہیون تجزیاتی ویب گاہ: نیتن یاہو ۲۰۰۹ سے تاحال اسرائیل کے وزارت عظمیٰ کے عہدے پر براجمان رہنے میں کامیاب ہوئے ہیں لیکن آئندہ ماہ ہونے والے انتخابات نیتن یاہو کی زندگی یا موت کا تعین کرنے میں اہم کردار کریں گے۔ اگر نیتن یاہو انتخابات میں کامیاب ہو گئے تو دوبارہ وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھال کر خود کو جیل سے بچا لیں گے لیکن اگر ناکام ہوئے تو مالی فساد اور پیسے کے گھوٹالوں کے جرم میں انہیں جیل کر رخ کرنا پڑے گا۔
شام، عراق اور لبنان میں اسرائیلی فوج کا حالیہ دنوں وقتا فوقتا بٹاخے پھینکنا اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔
حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے اتوار کو خبردار کیا کہ اگر نیتن یاہو ان کی سرزمین کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھیں گے تو اسرائیل کے انتخاباتی میدان کو جنگی میدان میں بدل کر دیں گے۔
سید حسن نصر اللہ نے کہا: ’’نیتن یاہو انتخابات کے چکر میں ہیں۔ صہیونی رہنماوں کی یہ عادت ہے کہ مقبوضہ فلسطین میں اپنے انتخابات کو علاقے کے مسلمانوں کے خون سے رنگین کرتے ہیں۔ لیکن اس دفعہ اسرائیل کے انتخابات خود اسرائیلیوں کے خون سے رنگین ہوں گے۔ نیتن یاہو آئندہ ماہ ہونے والے انتخابات سے ڈر رہے ہیں کہ ان کی سرنوشت میں یا وزارت عظمیٰ لکھی ہے یا جیل کی سزا‘‘۔
دوسری جانب جمعہ کے روز مغربی کنارے میں ایک بم دھماکے میں یہودی ربی Rabbi Eitan Shner کو نشانہ بنایا گیا جو اسرائیلی فوج میں سرگرم تھے اس دھماکے میں یہودی ربی زخمی ہوئے جبکہ ان کی بیٹی ہلاک ہوئی۔
مغربی کنارے میں ہونے والا یہ بم دھماکہ ایسے علاقے میں ہوا جو مکمل طور پر یہودی آباد کاروں کا علاقہ تھا یہ بم دھماکہ نیتن یاہو کے لیے سخت گراں گزرا اس لیے کہ اس دھماکے کے بعد دیگر سیاسی پارٹیوں کو نیتن یاہو پر کیچڑ اچھالنے کا موقع مل گیا اور انہوں نے انہیں ڈرپوک اور کمزور آدمی کہنا شروع کر دیا۔
’’اسرائیل ہمارا گھر‘‘ نامی پارٹی کے سربراہ لیبرمین نے نیتن یاہو کا مزاق اڑاتے ہوئے کہا: نیتن یاہو کی وزارت کے دور میں فلسطینیوں کے حملے در حقیقت ان کے منہ پر مضبوط طمانچہ ہیں۔ نیتن یاہو کی حکومت ہاتھ باندھ کر فلسطینیوں کے آگے تسلیم ہو چکی ہے۔ نیتن یاہو نے حماس کو رشوت دی ہے تاکہ وہ انتخابات کے زمانے میں کوئی اقدام نہ کریں‘‘۔
سید حسن نصر اللہ کی دھمکیوں کے باوجود، ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق، پیر کے روز ایک اسرائیلی فوجی جہاز نے لبنان کی سرحد کو پار کیا اور لبنان میں فلسطینی گروہ کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔
سید حسن نصر اللہ کے سخت لہجہ بیان کے باوجود نیتن یاہو کا اپنی حرکتوں سے باز نہ آنا اور بار بار لبنان کو چھیڑنا اس بات کی دلیل ہے کہ نیتن یاہو کے سامنے موت و حیات کا مسئلہ ہے یا اس طرح کے تدبیری حملے انجام دے کر خود کو بہادر ثابت کر کے انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے خود کو بچا پائیں گے یا حزب اللہ سے ڈر کر خاموشی اختیار کر لیں گے اور ناکام ہو کر جیل کا رخ کریں گے۔ لیکن شاید وہ یہ بات بھول گئے ہیں کہ اگر حزب اللہ نے دندان شکن جواب دے دیا تو پھر نیتن یاہو کی زندگی و موت کا مسئلہ نہیں رہے گا بلکہ اسرائیل کی زندگی بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍۱۰۳