امریکہ اور اسرائیل پر عرب حکمرانوں کا اندھا اعتماد




ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق امریکی صدور کے برخلاف کھلم کھلا عرب حکمرانوں کی توہین کی ہے۔ انہوں نے سعودی حکمرانوں کو دودھ دینے والی گائے سے تشبیہہ دی جس کی جرات اب تک کوئی امریکی صدر نہیں کر سکا تھا۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: بعض عرب حکمران بدستور ڈونلڈ ٹرمپ اور بنجمن نیتن یاہو پر دولت لٹائے جا رہے ہیں اور ان کی چاپلوسی میں مصروف ہیں۔ اسی سلسلے میں ان عرب حکمرانوں نے اسرائیل سے دوستانہ تعلقات قائم کرنے کیلئے عجلت آمیز اقدامات بھی انجام دیے ہیں جنہیں خود ان کی عرب عوام بھی ناپسندیدہ نگاہوں سے دیکھ رہی ہے۔ یہ عرب حکمران اپنے اقتدار کی نجات اسرائیلی اور امریکی حکام کی رضامندی میں دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے انتہائی جلدبازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسرائیل سے دوستانہ تعلقات فاش کر دیے اور اپنا سب کچھ اسرائیل کے حوالے کرنے پر تیار ہو گئے۔ یہ اقدامات اس قدر غیر متوقع تھے کہ خود اسرائیلی حکام ان عرب حکومتوں کی جانب سے تعاون اور بغیر معاوضے کے مدد کی پیشکش دیکھ کر حیرت زدہ ہو گئے۔ ان عرب حکمرانوں نے ایسے حالات میں غاصب صہیونی رژیم کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے جب عرب اقوام اس جعلی اور غاصب رژیم کو انتہائی نفرت کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔ لہذا ان عرب حکمرانوں نے مطلوبہ سیاسی اہداف حاصل کرنے کیلئے ایک طرف تو عرب اسرائیل تنازعہ میں فلسطینیوں کے موقف کی نفی کرنا شروع کر دی جبکہ دوسری طرف اسرائیل کی جگہ ایران کو خطے اور اسلامی دنیا کیلئے سب سے بڑا خطرہ بنا کر پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔

ان عرب حکومتوں نے اسرائل سے دوستانہ تعلقات کا زمینہ فراہم کرنے کیلئے سوشل میڈیا پر بھی بھرپور مہم کا آغاز کر دیا۔ بڑے پیمانے پر پیسہ خرچ کرتے ہوئے انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے گماشتوں کو فلسطینیوں کی توہین کرنے، فلسطین کاز کی اہمیت کم کرنے اور ایران کے خلاف منفی پروپیگنڈے کے احکامات جاری کر دیے۔ انہوں نے اسی حد تک اکتفا نہ کیا بلکہ قبلہ اول مسلمین مسجد اقصی کے تقدس کے خاتمے کیلئے قانونی راستے تلاش کرنے کیلئے ٹیم تشکیل دے ڈالی۔ ان کا مقصد اسلامی دنیا کی رائے عامہ کی نظر میں مسجد اقصی کا تقدس ختم کر کے اس کی قبلہ اول مسلمین کی حیثیت کو دھچکہ پہنچانا ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ عرب حکمرانوں نے اپنے ان مذموم مقاصد کی خاطر ایک صحافی بھی قدس شریف بھیجا جسے فلسطین کے غیور جوانوں نے مار پیٹ کر مسجد اقصی سے نکال باہر کیا۔ اگرچہ ریاض یہ دعوی کر رہا ہے کہ وہ صحافی ذاتی طور پر مقبوضہ فلسطین گیا تھا لیکن کوئی اس کا یہ دعوی ماننے پر تیار نہیں۔ اگر وہ جوان صحافی اپنے طور پر قدس شریف جا کر اسرائیلی ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کر رہا تھا تو ابھی تک سعودی حکومت نے اسے گرفتار کیوں نہیں کیا؟ وہ اب بھی سعودی عرب سے انٹرنیٹ کے ذریعے اسرائیل کے ٹی وی چینلز سے انٹرویو کرنے میں مصروف ہے۔

دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں کہا ہے کہ امریکہ نہ تو دولت مند خلیجی ریاستوں کی حفاظت کرے گا اور نہ ہی آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھالے گا۔ انہوں نے یہ دعوی بھی کیا کہ وہ اسرائیل کے بہترین دوست ہیں۔ امریکہ کی حکمت عملی دو بنیادوں پر استوار ہے؛ ایک تیل اور دوسرا اسرائیل کی قومی سلامتی۔ ان دونوں میں سے پہلی بنیاد میں تبدیلی ممکن ہے لیکن دوسرے میں تبدیلی کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ وہ عرب حکمران جو اسرائیل سے دوستانہ تعلقات کا خواب دیکھ رہے ہیں جان لیں کہ امریکہ صرف اور صرف اسرائیل کی حفاظت کرے گا اور وہ جس قدر بھی اسرائیل سے دوستانہ تعلقات استوار کر لیں امریکہ ان کی حفاظت کیلئے کچھ نہیں کرے گا۔ امریکہ اسرائیل سے قربتیں بڑھانے کو عرب حکمرانوں کی ذمہ داری سمجھتا ہے اور ہر گز ان کا شکریہ ادا نہیں کرے گا۔ عرب حکمران جان لیں کہ انہیں اس کام کا کوئی معاوضہ ادا نہیں کیا جائے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی اب تک کی مدت صدارت کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے سابق امریکی صدر براک اوباما سے مختلف حکمت عملی نہیں اپنائی۔ درست ہے کہ وہ ایران سے جوہری معاہدے سے دستبردار ہو گئے لیکن ایران کے خلاف فوجی اقدام سے بھی باز رہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق امریکی صدور کے برخلاف کھلم کھلا عرب حکمرانوں کی توہین کی ہے۔ انہوں نے سعودی حکمرانوں کو دودھ دینے والی گائے سے تشبیہہ دی جس کی جرات اب تک کوئی امریکی صدر نہیں کر سکا تھا۔ اسی طرح ڈونلڈ ٹرمپ نے قدس شریف کو سرکاری طور پر اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیا اور گولان ہائٹس پر اسرائیل کے قبضے کو بھی قانونی قرار دے دیا۔ اب تک کوئی امریکی صدر اسرائیل کی حمایت میں اس حد تک آگے نہیں گیا تھا۔ عرب حکمران جس قدر امریکہ اور اسرائیل کی چاپلوسی میں مصروف ہیں امریکی اور اسرائیلی حکام اسی قدر ان سے بے اعتنائی برت رہے ہیں۔ عرب حکمران اسرائیل سے قربت جیسے نامعقول اقدام پر پردہ ڈالنے کیلئے ایران سے خطرے کا اظہار کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اپنا تخت و تاج جوے پر لگا رکھا ہے۔ عرب اقوام ہر گز ان کے اس موقف کو قبول نہیں کریں گی کہ ان کے فلسطینی بھائی شرپسند ہیں اور غاصب صہیونی رژیم حق پر ہے۔ عرب عوام ہر گز ایسے حکمرانوں کو معاف نہیں کریں گے جو فلسطین کاز کو پامال کرتے ہوئے اسرائیلی حکمرانوں سے دوستی قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تحریر محمد امین

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/۱۰۳