یہودیت اور صہیونیت میں فرق




صہیونیت در حقیقت ایک ایسی جماعت ہے جو انیسویں صدی عیسوی کے اواخر میں ایک یہودی ملک کی تشکیل کے مقصد سے وجود میں آئی۔ یہ جماعت ایسے حال میں دین اور شریعت موسیٰ(ع) اور سرزمین موعود کی بات کرتی اور صہیونی ریاست کی بقا کے لیے تلاش کرتی ہے کہ اس کے بانی ملحد اور بے دین ہیں۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: آج کے صہیونی معاشرے کی جڑیں در حقیقت یہودی آئین و تاریخ میں پیوستہ ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، صہیونیت یہ کوشش کر رہی ہے کہ تمام یہودی فرقوں کو ایک ہی عنوان کے نیچے جمع کرے۔ یہ ایسے حال میں ہے کہ دنیا کے مختلف یہودی فرقوں کا توریت کی نسبت نقطہ نظر مختلف ہے۔ جیسا کہ بعض کا عقیدہ ہے کہ یہ کتاب حضرت موسی(ع) کے بعد لکھی گئی ہے۔

یہودیت اور صہیونیت میں بنیادی فرق

اصطلاح میں یہودی اسے کہا جاتا ہے جو حضرت موسیٰ (ع) کا پیرو ہو اور توریت کو آسمانی کتاب مانتا ہو۔ لیکن اس وقت یہودی مختلف گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں؛ ان میں سے کچھ گروہ ایسے ہیں جو صہیونی افکار کے مالک ہیں اور اس جماعت کا ساتھ دیتے ہیں۔

صہیونیت در حقیقت ایک ایسی جماعت ہے جو انیسویں صدی عیسوی کے اواخر میں ایک یہودی ملک کی تشکیل کے مقصد سے وجود میں آئی۔ یہ جماعت ایسے حال میں دین اور شریعت موسیٰ(ع) اور سرزمین موعود کی بات کرتی اور صہیونی ریاست کی بقا کے لیے تلاش کرتی ہے کہ اس کے بانی ملحد اور بے دین ہیں۔

صہیونیت نسل پرستی، قوم پرستی اور استکباری فکر پر مبنی جماعت ہے(۱)۔ اسی وجہ سے یہودیوں کا ایک مذہبی گروہ “نیٹوری کارٹا (Neturei Karta) “صہیونیوں کو بالکل یہودی نہیں مانتا اور صہیونیوں کے خلاف جد وجہد کرتا ہے۔ ان کی نگاہ میں صہیونیوں کا کردار سنت الہی کے مخالف ہے۔ نیٹوری کارٹا کا ماننا ہے کہ صہیونیت اپنے مقاصد کے حصول کے لیے یہودیوں اور غیر یہودیوں کو استعمال کر رہی ہے۔ (۲)۔ اسرائیل کے اندر پائی جانی والی مذہبی جماعتیں بھی شدید اختلافات کا شکار ہیں یہاں تک کہ صہیونی ریاست کی فوج میں ایک مشترکہ شکل کی نماز پڑھوانا دشوار ہے۔ اس لیے کہ ہر گروہ جیسے اشکنازی یہودی ( Ashkenazi Jews) اور سفاردی یہودی(Sephardi Jews) کے یہاں نماز کی ادائیگی کے اپنے اپنے طریقے ہیں، جس کی اصل وجہ طبقاتی اختلاف ہے جو یہودیوں کے اندر کثرت سے دکھائی دیتا ہے اور صہیونی ریاست کی بناوٹ میں بھی یہ اختلاف بے انتہا موثر ہے۔ (۳)

اختلافات کے مذکورہ موارد کے علاوہ عالمی صہیونیت کے ذریعے دنیا بھر سے مختلف کلچر اور ثقافت کے حامل یہودیوں کو اسرائیل میں اکٹھا کرنا ان مشکلات کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ یہ ایسی تلاش و کوشش ہے جو یہودیت مخالف جماعت سے بھی غیر منسلک نہیں ہے۔ ایک امریکی یہودی مولف ’لینی برنر‘ (Lenni Brenner) اپنے کتاب ’’ڈکٹیٹرشپ کے دور میں صہیونیت‘‘ میں صہیونیت کے یہودیت مخالف جماعتوں کے ساتھ پائے جانے والے روابط سے پردہ ہٹاتے ہیں۔

اسرائیل کی تشکیل

کسی بھی ملک کی تشکیل کا قانونی طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ ایک جغرافیہ اور تاریخ کے دامن میں پائے جانے والے لوگ اکٹھا ہوں اور ایک خاص سرزمین پر حکومت تشکیل دیں۔ لیکن صہیونی ریاست کی تشکیل کے حوالے سے کچھ مختلف طریقہ کار اپنایا گیا۔ صہیونی شروع میں بندوق اور اسلحہ کے ساتھ سرزمین فلسطین میں داخل ہوئے اور فلسطین پر قبضہ کیا اس کے بعد انہوں نے کچھ جھوٹے سچے وعدے یا زور و زبردستی کے ساتھ دنیا بھر سے یہودیوں کو اس غصب شدہ زمین پر اکھٹا کیا تو اس طریقے سے اسرائیل نامی ایک جعلی ریاست معرض وجود میں آئی۔

البتہ صہیونیوں نے دنیا بھر سے یہودیوں کو اکٹھا کرنے کے لیے کسی ایک قاعدہ و قانون کی پیروی نہیں کی۔ مثال کے طور پر اتھیوپیا کے یہودیوں کو اسرائیل منتقل کرنے کے لیے ان کی اقتصادی مشکلات کو حل کرنے کا وعدہ دیا۔ امریکہ کے ثرتمند یہودیوں کے ساتھ سرزمین موعود اور ظہور مسیح کی بات کی وغیرہ وغیرہ(۴) یہی وجہ ہے کہ اسرائیل میں دنیا بھر سے اکٹھا ہونے والے یہودی مختلف اہداف و مقاصد اور مختلف طرز تفکر کے ساتھ وہاں جمع ہوئے ہیں لہذا صہیونی معاشرے میں پایا جانے والا یہ بنیادی اختلاف صہیونی ریاست کے لیے وبال جان بنا ہوا ہے جو عنقریب اسے لے ڈوبے گا۔

حواشی:

۱ – سایت موعود، اخبار، اخبار سیاسی، صهیونیسم و تفاوت آن با یهود، کد خبر: ۸۶۸۲، www.mouood.org.

۲- https://kheybar.net/?p=3627.

۳- https://www.mashreghnews.ir/news/239218.

۴- فصلنامه کتاب نقد، هویت یهود از شعار تا واقعیت، دهقانی نیا، امیررضا، پاییز۱۳۸۳، شماره ۳۲، ص ۲۹۲-۲۶۸

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/۱۰۳