یہودی قوم نسل پرست




یہودیوں کی یہی قومی برتری اس بات کی باعث بنی ہے کہ یہودی اپنے دین کی تبلیغ نہیں کرتے اور یہودیت کو صرف اپنے لیے سمجھتے ہیں اور دوسروں کو یہودیوں کا خادم شمار کرتے ہیں۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: یہودی قوم کی ایک خاص اور منفرد خصلت جو شائد ہی کسی دوسری قوم میں پائی جاتی ہو وہ نسل پرستی ہے۔ یہودی قوم صرف خود کو برتر اور انسانی شرافت کی مالک سمجھتی ہے اور اس کے علاوہ دیگر تمام انسانوں کو یا تو انسان ہی نہیں سمجھتی یا اپنا غلام سمجھتی ہے۔ پیغمبر اسلام (ص) کے خلاف یہودیوں کے پروپیگنڈے کی ایک اہم وجہ یہی تھی کہ وہ کہتے تھے کہ اسلام نے عرب و عجم اور یہود و نصاریٰ کے درمیان کوئی فرق ہی نہیں چھوڑا اور تقویٰ کو معیار برتری قرار دے دیا۔ لہذا اسلام قبول کر کے وہ قوم یہود اور یہودیت کو برتر نہیں کہلوا سکتے تھے۔ اس وجہ سے انہوں نے نہ صرف اسلام قبول نہیں کیا بلکہ اسلام کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا شروع کیں۔ اور مختلف بہانوں کے ساتھ پیغمبر اکرم (ص) کے مدمقابل کھڑے ہو گئے اور اسلام کے نہال اور پودے کو جڑ سے اکھاڑنے کی کوشش کی۔ قرآن کریم اس بارے میں فرماتا ہے:
وَقَالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّامًا مَعْدُودَةً قُلْ أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدًا فَلَنْ يُخْلِفَ اللَّهُ عَهْدَهُ أَمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ[۱]

“اوریہ کہتے ہیں کہ ہمیں آتش جہنم چند دنوں کے علاوہ چھو بھی نہیں سکتی ان سے پوچھیے کہ کیا تم نے اللہ سے کوئی عہد لیا ہوا ہے جس کی وہ مخالفت نہیں کر سکتا یا اس کے خلاف جہالت کی باتیں کر رہے ہیں”۔
قوم یہود کا یہ عقیدہ کہ وہ برتر قوم ہے اور ان کے گناہگار صرف چند دنوں کے علاوہ جہنم میں نہیں رہیں گے اور خدا بہشت میں انہیں منتقل کر دے گا یہ اس قوم کے انحراف اور خود پرستی کے دلائل ہیں۔ (۲) وہ قائل ہیں خدا ان پر سب سے زیادہ مہربان ہے اس وجہ سے آخرت میں انہیں کوئی سزا نہیں دے گا اگر سزا دے گا بھی تو زیادہ سے زیادہ چالیس دن یا ستر دن(۳) اس کے بعد انہیں جنت میں اعلیٰ ترین مقامات سے نوازے گا۔ یہ وہ غلط اور بے بنیاد تصورات ہیں جو اس قوم کے برائیوں میں مبتلا ہونے اور دنیا میں ظلم و جنایت کا ارتکاب کرنے کا باعث بنے ہیں۔(۴)
لَيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلَا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ ۗ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ وَلَا يَجِدْ لَهُ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا[۵]
“کوئی کام نہ تمہاری امیدوں سے بنے گا نہ اہل کتاب کی امیدوں سے، جو بھی برا کام کرے گا اس کی سزا بہرحال ملے گی اور خدا کے علاوہ اسے کوئی سرپرست اور مددگار بھی نہیں مل سکتا”۔
اس آیت کی شان نزول میں آیا ہے کہ مسلمان اور اہل کتاب ایک دوسرے پر فخر و مباہات کر رہے تھے؛ اہل کتاب کہتے تھے: ہمارا پیغمبر تمہارے پیغمبر سے پہلے آیا ہے اور ہماری کتاب بھی تمہاری کتاب سے پہلے آئی ہے لہذا ہم تم سے برتر ہیں”۔ مسلمان کہتے تھے: ہمارا پیغمبر خاتم الانبیا ہے اور ہماری کتاب آسمانی کتابوں میں کامل ترین کتاب ہے، لہذا ہم تمہارے اوپر فوقیت رکھتے ہیں”۔ یہودی کہتے تھے ہم برگزیدہ قوم ہیں اور آتش جہنم سوائے چند دنوں کے ہمیں نہیں جلائے گی”۔
وَقَالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّامًا مَعْدُودَةً[۶]
اور یہ کہتے ہیں کہ آتش جہنم چند دنوں کے علاوہ ہمیں چھو بھی نہیں سکتی۔
اور مسلمان کہتے ہیں: ہم بہترین امت ہیں اس لیے کہ خداوند عالم نے ہمارے بارے میں کہا ہے: « كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ»[۷]
تم بہترین امت ہو جسے لوگوں کے لیے منظر عام پر لایا گیا ہے۔
یہودیوں کی یہی قومی برتری اس بات کی باعث بنی ہے کہ یہودی اپنے دین کی تبلیغ نہیں کرتے اور یہودیت کو صرف اپنے لیے سمجھتے ہیں اور دوسروں کو یہودیوں کا خادم شمار کرتے ہیں۔ جیسا کہ تلمود میں بھی اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اور تلمود میں یہودیوں کو یہ بھی تعلیم دی گئی ہے کہ یہودیوں کے لیے جائز نہیں ہے کہ غیریہودیوں پر مہربانی کریں۔
حواشی
[۱] سوره مبارکه بقره آیه ۸۰
[۲] ناصر مکارم، تفسیر نمونه، ج ۱، ص ۳۲۲
[۳] محمد رشيد رضا، ج ۱، ص ۳۶۲ و الطبری، ج ۱، ص ۵۴۰
[۴] ناصر مکارم، همان، ص ۳۲۵
[۵] سوره مبارکه نساء آیه ۱۲۳
[۶] سوره مبارکه بقره آیه ۸۰
[۷] سوره مبارکه آل عمران آیه ۱۱۰
[۸] جعفر مرتضى الحسيني العاملی، ما هو الصحيح من سيرة الرسول الاعظم، ج ۴، ص ۱۱۹

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/۱۰۳