میکائیل لیکر کون ہیں؟ ابتدائے اسلام کی تاریخ کے بارے میں عہد حاضر کے یہودیوں کی تحقیقات




عہد حاضر کے معروف مستشرقین میں میکائیل لیکر (Michael Lecker) وہ شخصیت ہیں جنہوں نے صدر اسلام کے بارے میں کافی تحقیق کر کے متعدد کتابیں اور علمی مقالات لکھے ہیں



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: عہد حاضر میں جہاں بہت سارے مسلمان محققین ابتدائے اسلام کے یہودیوں اور مسلمانوں کے ساتھ ان کے روابط کے بارے میں تحقیق کرتے ہیں وہاں یہودی محققین بھی ان موضوعات کو کافی اہمیت دیتے اور اسلام کے ابتدائی دور کے مسلمانوں اور یہودیوں کے حوالے سے دقیق مطالعہ کرتے ہیں کتابیں تحریر کرتے اور یونیورسٹیوں میں تھیسز لکھتے ہیں۔
عہد حاضر کے معروف مستشرقین میں میکائیل لیکر (Michael Lecker) وہ شخصیت ہیں جنہوں نے صدر اسلام کے بارے میں کافی تحقیق کر کے متعدد کتابیں اور علمی مقالات لکھے ہیں۔ وہ یروشلم عبرانی یونیورسٹی کے استاد ہیں ۱۹۵۱ میں اسرائیل کے شہر حیفا میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم سے لے کر اعلیٰ تعلیم اسی شہر میں حاصل کی۔ عربی زبان میں پی ایچ ڈی کی ڈگڑی حاصل کر کے یروشلم یونیورسٹی میں عربی زبان کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ انہوں نے ایم اے کا رسالہ ’’تلمود کی تشکیل کے دور میں بابل میں یہودیوں کی سکونت‘‘ کے موضوع اور پی ایچ ڈی کا رسالہ ’’مدینہ میں پیغمبر محمد کی سرگرمیاں‘‘ کے موضوع پر لکھا۔
متعلقہ موضوعات پر تحریر کردہ ان کے متعدد مقالات حسب ذیل ہیں؛
• محمد مدینہ میں
• مدینہ کے بازار
• یہودیوں اور قریش کے درمیان شادیاں
• فلسطین میں عمرو بن عاص کی حکومت
• یہودیوں کے ذریعے محمد کو دھوکا دیا جانا
• حذیفہ بن یمان اور عمر بن یاسر
• اسلام سے پہلے مدینہ میں بت پرستی
• وہ یہودی جو مسلمان ہوئے
• مدینہ کے یہودیوں کے بارے میں واقدی کا موقف
• کندہ کے یہودی
• بنی قریظہ کے یہودی
• محمد کے والد کی موت
• یہودیوں کے ساتھ مسلمانوں کے پیغمبر کا کردار
• اسلام کے ابتدائی دور میں خراج
۔ ان کی تحریر کردہ کتابیں؛
• بنوسلیم
• مسلمان، یہودی اور مشرکین
• صدر اسلام میں یہودی اور عرب
• پیغمبر اسلام کے دور میں معاشرہ، قبیلہ اور لوگ
• مدینہ کی بناوٹ
اگر چہ میکائیل لیکر کے بارے میں ہمارے پاس معلومات بہت کم ہیں لیکن ان کے مقالات اور کتابوں کی فہرست کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے صدر اسلام کی تاریخ اور جزیرہ نما عرب کے بارے میں کافی دقیق مطالعہ کیا ہے لہذا ان کے مقالات اور کتابیں مسلمان محققین کے لیے بھی مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍۱۰۳