عراقی قومی تنظیم ’حکمت‘ کے رکن کے ساتھ خیبر کی گفتگو؛

اسرائیل کی نابودی حسینیوں کے ہاتھوں ہو گی/ امام حسین (ع) کے پرچم تلے عالمی حشد الشعبی کی تشکیل ممکن




جب مزاحمتی قوتیں اس ملین مارچ کو دیکھتی ہیں تو احساس کرتی ہیں کہ بشریت کا ایک سیلاب ان کے ساتھ ہے اور ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گا۔ یہ چیز انقلابیوں کے ارادوں کو مضبوط بناتی ہے اور وہ تیزی کے ساتھ اپنے مقاصد کی طرف بڑھتے ہیں۔ صہیونی ریاست کو یہ یقین ہے کہ اسے حسینی راہ اور مشن پر چلنے والوں اور اربعین مارچ کرنے والے عزاداروں کے ہاتھوں ہی نابود ہونا ہے۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: ایام، سید الشہدا حضرت امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کے ایام ہیں، دنیا کے کونے کونے میں یا حسین یا حسین کی آوازیں گونج رہی ہیں۔ پورے عالم اسلام میں عزا و ماتم کا ماحول ہے۔ لیکن ان عزاداریوں کے اسلامی معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں اس بارے میں خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر نے عراق کی قومی اسلامی تنظیم ’حکمت‘ کی جنرل اسمبلی کے سربراہ ’’شیخ حمید معلہ الساعدی‘‘ کے ساتھ ایک گفتگو کی ہے؛
۔ عالم اسلام کے موجودہ حالات میں مکتب عاشورا سے کیا درس حاصل کیا جا سکتا ہے؟ ظالموں اور ستمگروں کے خلاف برسرپیکار افراد جیسے یمنیوں نے اہل بیت(ع) اور امام حسین(ع) کو کس حد تک نمونہ عمل بنایا ہے؟
واقعہ کربلا انسانی تاریخ کا ایک ایسا عظیم اور بے مثال واقعہ ہے جس میں بے شمار دروس اور عبرتیں موجود ہیں ہم اس واقعہ سے حاصل ہونے والے تین بنیادی دروس کو یہاں پر بیان کر سکتے ہیں؛
۱۔ حق کی باطل پر کامیابی: یہ حماسہ عاشورہ میں سب سے زیادہ نمایاں اور عمیق درس ہے جو نہ صرف یمنی بلکہ پوری دنیا کے تمام انقلابیوں نے یہ درس حاصل کیا ہے۔ تلوار پر خون کی کامیابی یعنی آزاد اور حق کے ارادے کی عالمی سامراجی طاقتوں پر کامیابی۔ یہ درس یقینی ہے اسے ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔
۲۔ صبر و استقامت: ہر کامیابی اور کامرانی کے لیے یہ دو بنیادی ستون ہیں۔ حسینی صبر و استقامت اس قدر واضح تھا کہ دشمن مبہوت و پریشان ہو کر رہ گئے۔ اگر صبر نہ ہوتا تو شجاعت کے جوہر نظر نہ آتے اور استقامت نہ ہوتی تو فداکاری اور جانثاری نظر نہ آتی۔ لہذا انقلابیوں کو درک کرنا چاہیے کہ صبر کامیابی کی کنجی ہے۔
۳۔ عدالت؛ قوموں کے عادلانہ مسائل طولانی زمانے تک باقی رہیں گے اگر چہ ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ختم ہو چکے ہیں۔ یہ وہ دروس ہیں جو سرنوشت ساز ہیں جو حق کو باطل پر فوقیت دیتے ہیں۔ لہذا جو افراد اور قومیں ان دروس کو اپنی تحریک کا سرلوحہ قرار دیں گی وہ یقینا کامیابی سے ہمکنار ہوں گی اور تاریخ انہیں اپنے دامن میں ہمیشہ کے لیے زندہ رکھے گی۔
۔ ابا عبد اللہ الحسین (ع) کی انقلابی تحریک اور موجودہ مزاحمتی تحریک میں مزاحمت کا عنصر کس حد تک نمایاں ہے؟
امام حسین علیہ السلام کا قیام سارے کا سارا انحراف اور باطل کے مقابلے میں مزاحمت تھا تاکہ اس طریقے سے خالص اسلام محمدی کو بچایا جا سکے جیسا کہ خود امام علیہ السلام نے فرمایا: ( واني لم اخرج أشرا ولا بطرا ، ولا ظالما ولا مفسدا، وانما خرجت لطلب الأصلاح في أمة جدي ، اريد ان آمر بالمعروف ، وانهى عن المنكر ، وأسير بسيرة جدي رسول الله وابي علي بن ابي طالب الخ ..). امام کا یہ بیان آپ کی نہضت کے مقصد اور روش کو بیان کرتا ہے۔ درحقیقت امت پیغمبر میں پائے جانے والے انحراف کی اصلاح کرنا امام کا مقصد تھا۔ اور روش امر بالمعروف اور نہی عن المنکر تھی جو پیغمبر اور امام علی علیہما السلام کی سیرت تھی۔
لہذا ہر طرح کی مزاحمت کے لیے حماسہ حسینی کا بہترین درس یہ ہے کہ سب سے پہلے مزاحمت کے مقاصد کو واضح کیا جائے تاکہ عوام الناس انہیں سمجھ سکے۔ دوسرے اس کی روش اور طریقہ کار کو بھی متعین کیا جائے اس لیے کہ باطل وسیلہ سے مقصد حق تک نہیں پہنچا جا سکتا۔ تیسرے ایک سماجی اور سیاسی مستقبل کا نقشہ کھینچا جائے تاکہ مجاہد اور مبارز دلیل کے ساتھ قدم اٹھائے اور لوگ جان سکیں کہ وہ کیا کرنا چاہتا ہے تاکہ اس کا ساتھ دے سکیں۔
۔ کیا شمر کی شخصیت اور کردار کو عالمی سامراج خصوصا امریکہ اور صہیونیوں کے افکار و اقدامات کے ساتھ موازنہ کیا جا سکتا ہے؟
نہیں، شمر کی فکر کو عالمی سامراج کی فکر و کردار سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے کہ شمر خود ایک بڑے مستکبر جسے یزید کہتے ہیں کا آلہ کار تھا۔ شمر اور اس کے جیسے افراد جیسے عمر سعد اور ابن زیاد پست صفت آلہ کار کی مثالیں ہیں جو پیسے اور مقام کی خاطر اپنے ایمان اور دین کو بیچ ڈالتے ہیں۔ اور انحرافات کے مقابلے میں سرتسلیم خم ہو جاتے ہیں۔ عالمی سامراج شمر اور شمر جیسے نہیں تھے بلکہ عالمی سامراج یزیدی حکومت اور معاویائی فکر تھی جو یقینا آج کے سامراج کے اندر بھی پائی جاتی ہے۔
۔ اربعین کی پیدل مارچ مزاحمتی تحریک کی طاقت میں اضافے اور اسرائیل کی نابودی کے لیے زمینہ سازی میں کتنا اثر انداز ہو سکتی ہے؟
اربعین کی عظیم مارچ عصر حاضر کا ایک حیران کن کرشمہ ہے اور ہمارے میڈیا اور مواصلاتی چینلز کو اسے منعکس کرنے اور اس کے پیغام کو دنیا میں پہنچانے کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔ اربعین مارچ عام لوگوں پر بہت اثرانداز ہوئی ہے اور آئندہ بھی ہو گی۔ اور ایثار اور فداکاری جیسے اقداروں کی مثالیں پیش کرتی رہے گی۔ اربعین مارچ نہ صرف اسلامی مزاحمتی تحریک بلکہ غیر اسلامی تحریکوں پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ اور ان کے عزم و ارادوں کو مضبوط بنا رہی ہے۔ اور ثبات اور ترقی کے مختلف دروس انہیں دے رہی ہے۔ یہاں تک کہ جب مزاحمتی قوتیں اس ملین مارچ کو دیکھتی ہیں تو احساس کرتی ہیں کہ بشریت کا ایک سیلاب ان کے ساتھ ہے اور ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گا۔ یہ چیز انقلابیوں کے ارادوں کو مضبوط بناتی ہے اور وہ تیزی کے ساتھ اپنے مقاصد کی طرف بڑھتے ہیں۔ صہیونی ریاست کو یہ یقین ہے کہ اسے حسینی راہ اور مشن پر چلنے والوں اور اربعین مارچ کرنے والے عزاداروں کے ہاتھوں ہی نابود ہونا ہے۔
۔ کیا امت اسلامی کے دشمنوں کے خلاف امام حسین (ع) کے پرچم تلے ایک عالمی حشد الشعبی کی تشکیل کا امکان پایا جاتا ہے؟
کیوں نہیں۔ امام حسین (ع) ایک ایسا مشترکہ عامل ہیں جو تمام مومنین اور مسلمانوں کے دلوں میں موجود ہیں اور حریت پسندوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ اس موضوع پر اسپیشل طور پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔
۔ بہت بہت شکریہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍۱۰۳