اسرائیل نے ۲۰۰۰ سپائس بم کی پہلی کھیپ بھارت پہنچا دی




صہیونی ریاست نے ایسے حال میں اپنے جدید سپائس ۲۰۰۰ بموں کی پہلی کھیپ ہندوستانی فضائیہ کے حوالے کر دی ہے کہ بھارت اور ہندوستان کے درمیان کشمیر کے مسئلے پر شدید کشیدگی کا ماحول پایا جاتا ہے۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، صہیونی ریاست نے مسئلہ کشمیر پر ہند و پاک میں شدید کشیدگی کے باوجود بنکربوسٹر بموں کی پہلی کھیپ “گوالیار” ہوائی اڈے پر بھارتی فضائیہ کے حوالے کر دی ہے۔
اسپوٹنک نیوز ایجنسی نے خبر دیتے ہوئے کہا ہے کہ گوالیار ہوائی اڈہ ہندوستانی فضائیہ کے میرج ۲۰۰۰ بیڑے کا اڈہ ہے جسے فروی ۲۰۱۹ میں پاکستان کے علاقے بالاکوٹ کے فضائی حملے میں استعمال کیا گیا تھا۔
بھارتی ذرائع نے سپائس ۲۰۰۰ بموں کی پہلی کھیپ کو ہندوستانی فضائیہ کو پہنچانے کی تصدیق کر دی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ باقیہ کھیپ اگلے تین ماہ کے اندر ہندوستان کو فراہم کر دئے جائیں گے۔
یہ جدید ترین بم عمارتوں کو اور کنکریٹ کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور یہ ہدایت شدہ بم عمارت کو کسی قسم کا نقصان پہنچائے بغیر عمارتوں کی چھت میں گہرا خلا پیدا کرتے ہیں اور عمارت کے اندر جا کر پھٹتے ہیں۔ ان میں ۷۰ سے ۸۰ کلوگرام تک دھماکہ خیز مواد کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ اسپائس ۲۰۰۰ بموں کی فراہمی اسرائیل بھارت کے درمیان ۳۰۰ کروڑ روپے کے دفاعی معاہدے کا حصہ ہے۔بھارت اور اسرائیل کے درمیان ۱۰۰ سے زائد اسپائس بموں کی خریداری کا معاہدہ رواں برس جون میں طے پایا تھا۔ بھارتی ائیرفورس کا دعوی ہے کہ بھارت نے بالاکوٹ حملے میں اسپائس بموں سے بمباری کی تھی۔ بھارتی فضائیہ اسرائیلی دفاعی ساز و سامان بنانے والی کمپنی رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمز سے ۱۰۰ اسپائس بم خریدے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/۱۰۳