سی این این: سعودی اتحاد میں دراڑیں، ٹرمپ انتظامیہ کی نئی مصیبت




بنی سعود کی سرکردگی میں قائم ٹوٹتے ہوئے اتحاد کے درمیان شدید اختلافات ٹرمپ انتظامیہ کے لئے تازہ مصیبت میں تبدیل ہوچکے ہیں۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، سی این این نے اپنی ایک رپورٹ میں یمن دشمن سعودی اتحاد کے بنیادی اراکین ـ یعنی بنی سعود اور بنی نہیان ـ کے درمیان شدید اختلافات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس کو ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے لئے “بری خبری Bad news” قرار دیا ہے۔
سی این این نے سعودی-اماراتی شراکت کو مغربی ایشیا کے مضبوط ترین شراکت قرار دیا ہے جس کا آغاز کئی عشرے قبل ہوا تھا اور اس کی بنیاد ایران کے ساتھ مشترکہ دشمنی اور عالم اسلام میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر سنی مسلمانوں کو اپنی جماعت بنانے کی غرض سے ہوا تھا۔
سی این این کی رپورٹ کے اہم نکتے:
– مصر میں اخوانی حکومت کا تختہ الٹنے میں جنرل عبدالفتاح السیسی کی مشترکہ حمایت اور ایم بی ایس (محمد بن سلمان) اور ایم بی زیڈ (محمد بن زاید) کے ذاتی دوستانہ تعلقات نے بھی اس شراکت میں مؤثر کردار ادا کیا ہے۔
– لیکن، جب سے یمن کی جنگ بند گلی کی طرف بڑھی ہے اور خلیج فارس میں ایران کا مقابلہ کرنے کی روشوں میں اختلاف رائے کی بنا پر مغربی ایشیا کے اس اہم اتحاد میں دراڑیں آشکار ہونا شروع ہوئیں جو روز بروز گہری سے گہری ہوتی گئی ہیں اور یہ دراڑیں ٹرمپ انتظامیہ کے لئے نئی مصیبت میں تبدیل ہوسکتی ہیں جبکہ مسٹر ٹرمپ اب بھی قطر کے ساتھ اختلافات کی وجہ سے ایم بی ایس اور ایم بی زیڈ سے ناراض ہیں۔
– اعلان ہوا تھا کہ یمن پر حملے کا مقصد ایران کے اثر و رسوخ کی رفتار کو کم کرنا ہے جو حوثیوں کے ذریعے یمن تک پھیل گیا تھا لیکن سعودی عرب کی کاروائی “قطعی طوفان” (Operation Decisive Storm) میں جس چیز کی کم ہی کوئی نشانی ملتی ہے وہ “قطعیت” (Decisiveness ) ہے۔ یہ جنگ اب ایک دلدل میں تبدیل ہوچکی ہے اور اپنے المناک اور تکلیف دہ اثرات کی وجہ سے اب اس کی تشہیر بذات خود ایک المناک عمل میں تبدیل ہوچکی ہے۔
– امارات ظاہرا اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ اس جنگ کے اخراجات کمرتوڑ ہوچکے ہیں اور اس میں مزید اور اس میں مزید شرکت ممکن نہیں ہے چنانچہ اس نے جولائی ۲۰۱۹ع‍ سے یمن میں اپنی فورسز کم کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔
– تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امارات کے اس اقدام کا مقصد ایم بی ایس کو یہ پیغام پہنچانا ہے کہ “بہتر یہی ہے کہ اس جنگ کو ختم کیا جائے”۔ سی این این کے یوریشیا گروپ کی مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کی تحقیقی ٹیم کے سربراہ آیہام کمال (Ayham Kamal) نے سی این این کو بتایا کہ “امارات کا ممکنہ مقصد یہ ہے کہ ـ اس حقیقت کے پیش نظر کہ اس جنگ کے مستقبل میں کسی قسم کی کامیابی نظر نہيں آرہی ہے ـ سعودی عرب جنگی کاروائیاں روکنے پر زیادہ سے زیادہ سنجیدگی سے غور کرے”۔
– ایک عرب انسٹٹیوٹ کے تجزیہ نگار کرسٹین دیوان (Kristin Diwan) بھی اس تجزیئے سے متفق ہیں کہ “سعودی عرب یمن کی جنگ میں تنہا رہ گیا ہے اور اپنی جنوبی سرحدوں کی حفاظت کے لئے اسے حوثیوں کے ساتھ مصالحت کرنا پڑے گی”۔ ان کا کہنا ہے کہ “امارات کے ساتھ اختلاف شاید اس بات کی علامت ہو کہ اس جنگ کو فوری طور پر ختم ہونا چاہئے اگرچہ یہ صورت حال مذاکرات میں سعودی موقف کو تقویت نہیں پہنچاتی”۔
– [سی این این کے بقول] گوکہ سعودی-اماراتی اتحاد نے انصار اللہ کی بعض حصولیابیوں کا راستہ روکنے میں کامیابی حاصل کی ہے، لیکن دارالحکومت صنعا سمیت شمالی یمن کے زیادہ تر حصوں پر انصاراللہ کی حکومت کا خاتمہ نہیں کرسکا ہے جبکہ انصار اللہ ہر ہفتے سعودی افواج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍۱۰۱