صہیونی معاشرے میں غربت اور بے بسی




ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، ہر تین اسرائیلی نوجوانوں میں ایک غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہا ہے سنہ ۲۰۱۴ کے اعداد و شمار کے مطابق ایک ملین سات لاکھ اسرائیلی باشندے غربت کی زندگی گزار رہے ہیں جن میں ۷۷۶۰۰۰ بچے جبکہ ۴۴۴۹۰۰ فیملیاں ہیں۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: صہیونی ریاست اپنی تشکیل اور فلسطینی زمینوں پر ناجائز قبضہ کرنے کے ابتدائی دور سے ہی اپنے اخراجات کو غیرقانونی راستوں سے پورا کرتی آئی ہے جبکہ اس کے بجٹ کا ایک عمدہ حصہ امریکی ایجنٹوں کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ تقریبا ۷۰ سال اس غاصب ریاست کی تشکیل کو ہو چکے ہیں اور اس ۷۰ سال کے عرصے میں امریکی امداد بین الاقوامی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنی رہی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ گزشتہ سالوں میں امریکہ نے سب سے زیادہ امداد اسرائیل کو بھیجی ہے اس وجہ سے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اسرائیلی معاشرہ بہت ہی فلاح و بہبود میں زندگی بسر کر رہا ہو گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل کی ۲۰ فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔
۱۰۰ فیصد غربت میں اضافہ
گزشتہ سالوں میں صہیونی ریاست میں غربت کے اعداد و شمار میں ٹھیک دگنا اضافہ ہوا ہے۔ غربت کے کم ترین آثار جسم فروشی اور فحاشی ہے جو اس حکومت کے دامن گیر ہے۔ اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ نے تحقیقاتی انسٹی ٹیوٹ ’الم‘ کی سالانہ رپورٹ سے استناد کرتے ہوئے لکھا ہے:
اسرائیلی نوجوانوں کی تعداد جو مسلسل مالی مشکلات کا شکار ہیں اور غربت کی حالت میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں گزشتہ سال میں دگنا ہو چکی ہے۔
اس رپورٹ میں معیشتی بحران، ۱۸ سال سے ۲۶ سال کے درمیان نوجوانوں میں جنسی ہراسمنٹ اور منشیات کے استعمال میں بھی اضافہ کی طرف اشارہ ہوا ہے۔
اسرائیل میں معیار زندگی
اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم نے ۲۰۱۳ میں اسرائیلی اقتصاد پر مطالعہ کرنے کے بعد ۱۱۱ صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ پیش کی جس میں اعلان کیا کہ اسرائیل میں معیار زندگی کا اوسط اپنے ہم رقیب ممالک سے کمتر ہے جبکہ بے روزگاری اور غربت کی شرح ان سے کہیں زیادہ ہے۔
ہر پانچ اسرائیلی گھرانوں میں سے ایک گھرانہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے۔ جبکہ اسرائیلی عربوں کے درمیان ہر دوسرا آدمی فقیر اور غریب کہلاتا ہے۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ عرب گھرانوں میں عورتوں کی روزگار کی شرح بہت کم ہے۔ اس رپورٹ میں مزید آیا ہے کہ اگر چہ اسرائیل نے اقتصادی تعاون و ترقی تنظیم کی اعتدال پسندانہ حکمت عملی کو اپنایا ہے لیکن سماجی مواصلات، رہائش، تعلیم و مہارت، ذاتی تحفظ، ماحولیاتی معیار اور شہری ملازمت کے میدانوں میں ابھی بھی اسرائیل غربت کی دہلیز سے نیچے ہے۔ اس رپورٹ میں حکومت اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایک جامع فلاح و بہبود کے پروگرام کو متعارف کروائے اور عوام کی مشکلات کا جلد از جلد ازالہ کرے۔
اسرائیل کے ایک تہائی نوجوان غربت کی لکیر کے نیچے
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، ہر تین اسرائیلی نوجوانوں میں ایک غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہا ہے سنہ ۲۰۱۴ کے اعداد و شمار کے مطابق ایک ملین سات لاکھ اسرائیلی باشندے غربت کی زندگی گزار رہے ہیں جن میں ۷۷۶۰۰۰ بچے جبکہ ۴۴۴۹۰۰ فیملیاں ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق حکومت مخالف پارٹی صہیونی یونین کے رہنما ’’اسحاق ہرتزوگ‘‘ نے حکومت کو متنبہ کیا کہ غربت کے بارے میں سامنے آنے والی رپورٹیں وزارت عظمیٰ کے حق میں بہتر نہیں ہیں۔ اس لیے کہ فقر اور غربت ایسے موارد ہیں جن کا نیتن یاہو کو جواب دینا ہو گا۔
خیال رہے کہ اسرائیل کی ۸، ۹ ملین آبادی میں ایک ملین سات لاکھ افراد کا غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اسرائیل کو حاصل ہونے والی تمام امداد حکام کی جیبوں میں جاتی ہے اس کا واضح ثبوت خود نیتن یاہو پر لگائے گئے مالی گھوٹالوں کے الزامات ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍۱۰۴