مغربی ایشیا کے حالات کا ترجیع بند:

مغربی ایشیا میں محاذ مزاحمت کی فتح مندی، دشمن رو بزوال




سید مقتدیٰ صدر ، شب عاشور ۱۴۴۱ھ کو حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ کے مشہور زمانہ خطاب کے ایک دن بعد، امام خامنہ ای کے حضور مجلس شام غریباں میں حاضر ہوئے۔ سید حسن نصر اللہ نے شب عاشور اپنے خطاب میں امام خامنہ ای کو “حسینِ زمانہ قرار دیا اور زور دے کر کہا کہ محاذ مزاحمت امام خامنہ ای کو خیمۂ مقاومت کے سپہ سالار سمجھتا ہے اور امریکہ و یہودی ریاست کے دباؤ کے آگے اپنے امام کو تنہا نہيں چھوڑے گا۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: اسلامی جمہوریہ کے زعماء اور محاذ مزاحمت کے راہنماؤں کی تمام ملاقاتوں کا ترجع بند منحوس “مغربی-عبری-عربی” مثلث اور تسلط پسند عالمی نظام کا مقابلہ ہی ہے جو مکتبی تصورات اور دینی مفروضات نیز دینی سمت بندیوں پر استوار ہے۔ عظیم تر مشرق وسطی یا مشرق وسطیٰ العظمیٰ (۱) کا منصوبہ ایک منحوس منظرنامے کا نام تھا جو تسلط پسند استکباری نظام کے اہداف و مقاصد کے ضمن میں اکیسویں صدی کے آغاز پر گِدھوں کی جماعت کے رکن امریکی صدر جارج واکر بش (۲) نے پیش کیا۔ اس منصوبے کے تحت قرار دیا گیا تھا کہ مشرق وسطی کے تمام عرب ممالک اور فلسطین پر قابض یہودی ریاست، ترکی، ایران اور پاکستان کو قفقاز (۳) کے مسلم ممالک کو ایک آزاد معاشی نظام میں ایک بلاک کے طور پر متعارف کرایا جائے اور اس کا مرکز و محور یہودی ریاست ہو۔
امریکہ اس منصوبے کو نافذ کرکے چھوٹے چھوٹے وابستہ اور کمزور ملکوں کو معرض وجود میں لانا چاہتا تھا جو ہمیشہ کے لئے آپس میں دست بگریباں ہوں اور اگر یہ چھوٹی ریاستیں زیادہ رعایتیں چاہتی ہوں تو وہ یہودی ریاست کی حمایت کریں اور اپنے ذرائع اور وسائل نیز اپنے مفادات کو مستکبرین کے محاذ کے سپرد کریں۔
مشرق وسطی العظمی یا عظیم تر مشرق وسطی کا منحوس منصوبہ
۱۔ یہ منحوس منصوبہ لبنان، فلسطین اور شام سے عراق تک اور خیج فارس، ایران، افغانستان میں “نیٹو کی سرحدوں” نیز پاکستان تک اور وسطی ایشیا سے قفقاز تک، تناؤ، تشدد اور قتل و غارت سے بھرپور ایک بڑی قوس کی تشکیل کی غرض سے تیار کیا گیا تھا اور لفظ “عظیم تر مشرق وسطی” کی اصطلاح کو جون ۲۰۰۶ع‍ میں اس وقت کی امریکی وزیر خارجہ کانڈولیزا رائس، نے تل ابیب کے دورے کے موقع پر باقاعدہ طور پر سابقہ اصطلاح “مشرق وسطی” کے بجائے استعمال کیا۔ اور اس کا سبب بھی یہ تھا کہ ۱۱ ستمبر کے متنازعہ اور مشکوک واقعے کے بعد بہت سے ممالک تناؤ اور جنگ و جدل کا شکار ہوئے اور امریکیوں اور یہودی ریاست کے سرغنوں نے علاقے کو بلقان کی طرح چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں تقسیم کرنے کے منصوبے ـ اور اصطلاحاً بلقانائزیشن (Balkanization) کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی بہتیری کوششیں کیں۔ اس منصوبے کا اصل مقصد “اختلاف ڈالو اور حکومت کرو” کی برطانوی پالیسی پر عمل کرنا اور علاقے میں ساختیاتی افراتفری اور ڈھانچوں میں انتشار پھیلانا اور پورے علاقے کو جنگی صورت حال سے دوچار کرنا تھا تا کہ عالمی تسلط پسندی کے علمبردار مناسب موقع پاکر اس صورت حال سے فائدہ اٹھائیں اور یہودی ریاست کے مدار و محور پر جدید مشرق وسطی کے نقشے کو اپنی ضرورتوں کی بنیاد پر تیار اور نافذ کریں۔ جارج بش جونیئر کے زمانے میں لالچ دلانے، ڈرانے دھمکانے اور شیطانی سفارتکاری ـ بالخصوص عراق پر امریکی حملے ـ کی صورت میں اس منصوبے کے نفاذ کا کام جاری رکھا گیا۔ ۲۰۰۶ میں لبنان پر یہودی ریاست کا حملہ اسی منصوبے کا تسلسل تھا جب امریکی وزیر خارجہ کانڈولیزا رائس نے مسلسل دس دن تک تل ابیب میں قیام کیا اور جنگ کی نگرانی کرتی رہی اور اس ظالمانہ جنگ کو “نئے مشرق وسطی کی پیدائش کا درد زہ” (Birth pangs of a new Middle East) قرار دیا۔ لیکن ۲۰۰۳ کے بعد سولہ سال اور ۲۰۰۶ میں اسلامی محاذ مزاحمت کے ہاتھوں یہودی ریاست کی ذلت آمیز شکست کے بعد بھی یہ منصوبہ کامیاب ہوتا نظر نہیں آرہا اور مشرق وسطی کے علاقے کے امور کے تجزیہ نگاروں کی متفقہ رائے کے مطابق یہ سازش ناکام ہوچکی ہے اور محاذ مزاحمت اس تقابلی قوس میں اوپر کی جانب صعود کررہا ہے اور امریکہ اور یہودی ریاست تنزلی کے سفر پر روانہ ہوچکے ہیں، جو یقینا ڈھلان ہونے کے ناطے تیزرقتار بھی ہے۔
بےشک یہ سوال علاقے کے ماہرین اور تجزیہ کاروں سے پوچھنا بہت ضروری ہے کہ مشرق وسطی کے علاقے میں امریکی منظرناموں کا انجام کیا رہا؟ لیکن اس سے قبل ہمیں چند نکات کا تنقیدی جائزہ لینا پڑے گا:
یکم: تسلط پسند نظام کی شکست اور محاذ مزاحمت کی کامیابیاں
۱۔ جنوب لبنان کی ۳۳ روزہ میں محاذ مزاحمت کی کامیابی، اور بعد کے برسوں میں غزہ پر یہودی ریاست کے حملوں میں محاذ مزاحمت کی کامیابی، نیز عراق اور شام میں محاذ مزاحمت کی کامیابی اور صہیونی-امریکی ٹولے “داعش” کی شکست، یمن میں سعودی-اماراتی محاذ کی شکست نے محاذ مزاحمت کو فتح و کامیابی کی چوٹیوں کی طرف اور امریکی-یہودی محاذ کو شکست کی ڈھوان پر دھکا دے دیا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ انھوں نے خود بارہا اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے، چنانچہ ۳۳ روزہ جنگ کے بعد انتونی کورڈزمین (Anthony Cordesman) نے ۱۷ اگست ۲۰۰۶ کو ـ جنگ بندی کے چند ہی روز بعد ـ بین الاقوامی و تزویری مرکز برائے بین الاقوامی مطالعات (Center for Strategic and International Studie [CSIS]) سے اپنی تحقیقی رپورٹ شائع کردی۔ اس رپورٹ نے تفصیلی جائزے کے بعد نتیجہ اخذ کیا کہ یہودی ریاست اپنے پنج گانہ مقاصد میں سے کسی ایک میں بھی کامیاب نہیں ہوسکی ہے!
دو مہینے بعد ایشیا ٹائمز نے ۱۲ سے ۱۴ اکتوبر کے دوران تین رپورٹوں پر مشتمل ایک مجموعہ شائع کیا جس کا عنوان تھا: “حزب اللہ نے اسرائیل کو کیونکر شکست دی؟”؛ اور آخرکار غاصب ریاست کے اس وقت کے وزیر ا‏عظم یہود اولمرت نے اپنی خودنوشت سوانح حیات کے ضمن میں باضابطہ، اعلانیہ اور موثق انداز سے، محاذ مزاحمت کی رکن جماعت “حزب اللہ” کے مقابلے میں ۳۳ روزہ جنگ کے دوران یہودی افواج کی شکست کا اعتراف کیا۔
۲۔ عراق کے سلسلے میں بھی ان کے اپنے اعترافات کے مطابق، اس جنگ کا نتیجہ مالی اور جانی نقصانات کے سوا کسی بھی مثبت نتیجے پر منتج نہیں ہوئی ہے۔ اس سال [۲۰۱۹] میں موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نے غیر متوقعہ طور پر بجھی ہوئی بتیوں کے ساتھ پرواز کرکے عراق کے صوبہ الانبار کے نہایت خفیہ دورے کے بعد ٹویٹر پر شکوہ کیا کہ “امریکہ نے علاقے میں سات ٹریلین ڈالر خرچ کئے لیکن اس بے باوجود امریکی صدر کو چھپ چھپا کر علاقے کے دورے پر آنا پڑتا ہے!”۔
۳۔ بہت سے امریکی عسکری ماہرین اور سرکاری اہلکاروں کے اعتراف کے مطابق امریکہ عرق، شام، یمن، ونزوئلا، شمالی کوریا، شمالی افریقی ممالک (الجزائر اور لیبیا) سمیت اپنے زیادہ بین الاقوامی معاملات میں ناکام ہوچکا ہے۔
۴۔ مجلہ “فارن پالیسی” نے فروری ۲۰۱۹ میں “سپاہ قدس” کے کمانڈر “جنرل قاسم سلیمانی” کا نام ۱۰۰ بہترین مفکرین کی فہرست میں درج کیا۔ اسی مجلے کے آخری شمارے میں جنرل سلیمانی کو “دفاع اور سلامتی” کے شعبے میں درج کیا گیا اور امریکی فوج کے سبکدوش جرنیل بریگیڈیئر جنرل سٹینلی میک کرسٹل (Stanley A. McChrystal) کے قلم سے کا ایک مضمون شائع کیا جس میں امریکی جرنیل نے [اپنے بقول] جنرل سلیمانی کو “پتلی تماشا کرانے کا ہلاکت خیز ماسٹر” قرار دیا تھا۔
میک کرسٹل سنہ ۲۰۰۹ اور ۲۰۱۰ کے دوران افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کی فورسز کا کمانڈر رہا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: جنرل سلیمانی فوجی کمانڈر سے پتلی تماشا کرانے کے نہایت ہلاکت خیز ماسٹر میں بدل گئے ہیں”۔ وہ مزید لکھتے ہیں: “قاسم سلیمانی آج بھی روشنیوں سے دور کاروائیوں سے میں مصروف عمل ہیں”۔
دوئم: اسلامی مزاحمت محاذ اور اسلامی جمہوریہ کا باہمی اتحاد
۱۔ مقتدیٰ صدر کی ایران آمد
ابا عبداللہ الحسین(ع) کی شام غریباں [سنہ ۱۴۴۱ھ] کی مجلس ایران کے دارالحکومت تہران کے حسینیۂ امام خمینی (قدس سرہ) میں رہبر معظم امام سید علی خامنہ ای (حفظہ اللہ تعالٰی) کی موجودگی میں منعقد ہوئی۔ عراق کے ایک سیاسی اور مذہبی راہنما اور الصدر سیاسی تحریک کے قائد سید مقتدیٰ صدر کی شرکت، اور ان کی شائع ہونے والی رہبر معظم اور جنرل سلیمانی کے پہلو بہ پہلو تصویروں کو ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر وسعت کے ساتھ شائع کیا گیا، عراق میں بھی ان تصاویر کی وسیع سطح پر عکاسی ہوئی اور رائے عامہ نے ان کا وسیع خیر مقدم کیا۔
ایک صارف نے مذکورہ تصاویر شائع کرکے لکھا: “اس تصویر کے معنوں کو سب سے بہتر ٹرمپ، شاہ سلمان اور نیتن یاہو سمجھ سکتے ہیں”۔
دوسرے نے لکھا: “اس تصویر کے اثرات تل ابیب پر میزائل حملے سے بھی زیادہ عظیم ہیں”۔
تیسرے نے لکھا: “کیا اسلامی انقلاب کو پھر بھی تمہیں مزاحمت کے آثار و ثمرات کے بارے میں کچھ کہنا چاہئے یا یہی کافی ہے”۔
چوتھے نے لکھا: “امام خامنہ ای کے ساتھ سید حسن نصر اللہ کی حکیمانہ اور کریمانہ تجدید بیعت کے بعد اب سید مقتدیٰ صدر کی امام خامنہ ای کے پہلو میں موجودگی عالمی تحریک مزاحمت کے دلوں میں سکون و اطمینان کا باعث ہوئی ہے”۔
ٹویٹر اور انسٹاگرام کے بعض صارفین نے امریکہ میں جان بولٹن کی برخاستگی اور مقتدیٰ صدر کی ایران آمد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا: “بولٹن کی برخاستگی اور امام خامنہ ای سے مقتدیٰ صدر کی ملاقات منحوس مغربی-عبری-عربی مثلث کے منحوس پیکر پر کاری ضرب ہے”، “مقتدیٰ صدر حسینیۂ امام خمینی(قدس سرہ) میں داخل ہوئے، جان بولٹن وائٹ ہاؤس سے نکل گیا اس میں نشانیاں ہیں اہل فکر کے لئے”، “اس تصویر کو ٹرمپ کے ہاتھوں جان بولٹن کی برخاستگی کی تصویر کے ساتھ رکھیں! اور اب بتائیں کہ سفارتکاری کا ہیرو کون ہے؟”، اور اس طرح کے بےشمار پیغامات جن سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کی رائے عامہ نے اس نئی صورت حال کا زبردست خیرمقدم کیا ہے اور اس کو محاذ مزاحمت کی فتح اور تسلط پسند نظام کی شکست کی نوید قرار دیا ہے۔
یاد رہے کہ سید مقتدیٰ صدر ابتداء ہی سے امریکہ مخالف موقف کے حوالے سے شہرت رکھنے والے عراقی راہنما ہیں۔
۲۔ رہبر انقلاب کی ندا پر سید حسن “نصر اللہ” کی عاشورایی لبیک گوئی؛ امام خامنہ ای زمانے کے حسین ہیں
سید مقتدیٰ صدر ، شب عاشور ۱۴۴۱ھ کو حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ کے مشہور زمانہ خطاب کے ایک دن بعد، امام خامنہ ای کے حضور مجلس شام غریباں میں حاضر ہوئے۔ سید حسن نصر اللہ نے شب عاشور اپنے خطاب میں امام خامنہ ای کو “حسینِ زمانہ قرار دیا اور زور دے کر کہا کہ محاذ مزاحمت امام خامنہ ای کو خیمۂ مقاومت کے سپہ سالار سمجھتا ہے اور امریکہ و یہودی ریاست کے دباؤ کے آگے اپنے امام کو تنہا نہيں چھوڑے گا۔
المنار چینل کی ویب گاہ کی رپورٹ کے مطابق، انھوں نے کہا: “ہم ایک عظیم جنگ سے گذر رہے ہیں اور امریکی حکومت اور یہودی ریاست مقاومت کی خیمہ گاہ کو گھیرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ آج ہماری خیمہ گاہ کے سپہ سالار امام خامنہ ای اور اس خیمہ گاہ کا مرکز اسلامی جمہوریہ ایران ہے اور امریکہ اسے گھیرنا چاہتا ہے”۔
سید حسن نے بعدازاں امریکی صدر اور یہودی ریاست کے وزیر اعظم سے مخاطب ہوکر کہا: آج اور کل ہم ٹرمپ اور نیتن یاہو سے کہتے ہیں کہ ہم ایسی قوم ہیں جس کے عزم و ارادے میں نہ محاصرہ کوئی خلل ڈال سکتا ہے اور نہ ہی پابندیاں، غربت اور بھوک ہمیں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرسکتی ہے؛ امریکہ اور یہودی ریاست کے تقابل میں ہم امام خامنہ ای سے عرض کرتے ہیں کہ “اے فرزند حسین(ع)، ہم آپ کو تنہا نہیں جھوڑیں گے”۔
۳۔ انصار اللہ یمن: ہم امام خامنہ ای کی ولایت کو پیغمبر خدا(ص) کی ولایت کا تسلسل سمجھتے ہیں
مورخہ ۱۳ اگست ۲۰۱۹ع‍ کو یمن کی انصار اللہ تحریک کے ترجمان محمد عبدالسلام نے اپنے وفد کے ہمراہ رہبر انقلاب امام خامنہ ای سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کی تصاویر کی بھی سائبر اسپیس پر بہت وسیع عکاسی ہوئی۔ اس ملاقات میں تحریک انصار اللہ کے ترجمان محمد عبدالسلام نے ابتداء میں قائد تحریک سید عبدالمالک بدرالدین الطباطبائی الحوثی اور انصار اللہ کے تمام یمنی مجاہدین کا سلام رہبر انقلاب کو پیش کیا۔ انھوں نے امام خامنہ ای سے مخاطب ہوکر کہا: “ہم آپ کی ولایت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کی ولایت کا تسلسل سمجھتے ہیں اور یمن کے مظلوم عوام کی حمایت میں آپ کے موقف کو امام خمینی (قدس سرہ) کے مکتب کا تسلسل سمجھتے ہیں جو ہمارے لئے بہت زیادہ حوصلہ افزا ہے”۔
انھوں نے کہا: “دنیا بھر کے مظلومین اور مستضعفین ـ بالخصوص یمنی عوام ـ کی حمایت پر مبنی امام خامنہ ای کا موقف ایک دینی اور اعتقادی موقف ہے”۔
انھوں نے مزید کہا: “یمن کے عوام ـ جو نہایت دشوار حالات سے گذر رہے ہیں ـ خالی ہاتھوں، ایمان اور ثابت قدمی کے ساتھ، ۱۷ ممالک کے مقابلے میں جمے ہوئے ہیں اور ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ یمنی عوام ید واحدہ کی طرح متحد ہوکر ظالموں کی جارحیت کے مقابلے میں اپنی استقامت اور ثابت قدمی کو آخری فتح تک جاری رکھیں گے”۔
۴۔ حماس: ہم ایران کی حمایت کے اگلے مورچے کے سپاہی
اسلامی مقاومت تحریک “حماس” کے ایک اعلی سطحی وفد نے، ۲۲ جولائی ۲۰۱۹ع‍ کو تحریک کے سیاسی دفتر کے نائب سربراہ صالح العاروری کی سربراہی میں امام خامنہ ای سے ملاقات کی۔ صالح العاروی نے اپنے سربراہ اسماعیل الہنیہ کا مکتوب رہبر انقلاب کو پیش کیا۔ انھوں نے اسماعیل الہنیہ کا سلام اور تحیات رہبر انقلاب کو پیش کرتے ہوئے کہا: ہم اسلامی مزاحمت تحریک، تحریک حماس کے عنوان سے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اعلان کرتے ہیں اور اس بات پر تاکید کرتے ہیں کہ ایران کے خلاف کوئی بھی معاندانہ اور جارحانہ اقدام در حقیقت اسلامی مزاحمت کے خلاف اقدام ہے اور ہم اپنے آپ کو ایران کی حمایت کے اگلے مورچے کا سپاہی سمجھتے ہیں۔
اسماعیل الہنیہ نے اپنے خط کے آخر میں ایک جملہ تحریر کیا تھا جو بہت سوں کے لئے لمحۂ فکریہ کا باعث بننا چاہئے؛ لکھتے ہیں: “خداوند متعال سے التجا کرتے ہیں کہ آپ کو تمام آفات و بلیات سے محفوظ اور آسائش و سلامتی کو آپ کے لئے مستدام رکھے، ہماری مخلصانہ ہمدردی اور یکجہتی اور بےانتہا شکرگزاری کو قبول فرمائیں”۔
العاروری نے مسئلہ اسلامی انقلاب سے پہلے اور اس کے بعد فلسطین کی فیصلہ کن حمایت میں امام خمینی (قدس سرہ) نیز امام خامنہ ای (ادام اللہ ظلہ العالی) کے فیصلہ کن موقف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہم ہمیشہ اسلامی جمہوریہ کی دائمی اور ناقابل تغییر حمایت کے قدردان تھے اور رہیں گے۔ آخر میں فلسطینی وفد نے مسجد الاقصیٰ کی تصویر سے مزین یادگار فریم رہبر انقلاب اسلامی کو پیش کیا۔
سوئم: محاذ مزاحمت کے اتحاد اور تسلط پسندوں کے اتحادوں میں فرق
واضح ہے کہ تسلط پسند نظام کے رکن ممالک ـ بالخصوص امریکہ، برطانیہ اور یہودی ریاست ـ کا اتحاد، اور امارات، بحرین اور سعودی عرب جیسے ممالک کے ساتھ ان کا اتحاد یا ان کی حمایت، مالی اور عسکری مفادات کی خاطر ہے جیسا کہ امریکہ نے سعودیوں کی حمایت کے بہانے انہیں ۱۱۰ ارب ڈالر کے ہتھیار بیچ دیئے یا پھر ان کی نظرین سعودی عرب اور امارات کے تیل کے ذخائر پر ہے۔ اور ٹرمپ نے بارہا کہا ہے کہ یہ شیردار گائے ہے جس کا دودھ دوہ رہے ہیں اور جب دودھ سوکھ جائے گا اسے ذبح کریں گے۔
اسلحے اور تیل کا مسئلہ امریکیوں کے لئے اتنا اہم ہے کہ امریکی سینٹر چارلس اسکاربرو (Charles Joseph Scarborough) کے کہنے کے مطابق، اگرچہ ممکن ہے کہ ۱۱ ستمبر کے حملے سعودی عرب نے کروائے ہوں لیکن سعودیوں کا تیل امریکیوں کہ لئے ۱۱ ستمبر کے واقعے سے زیادہ اہم رکھتا ہے!
یا بطور مثال جو اتحاد مغربی ممالک نے سعودیوں کے ساتھ یمن کے خلاف قائم کئے ہیں محض اسلحہ بیچنے کے لئے تھے۔ جبکہ محاذ مزاحمت کی مختلف تنظیموں کے درمیان اتحاد اعتقادی ہے اور دینی اور اسلامی مفروضات پر استوار ہے۔
واضح رہے کہ اسلامی مزاحمت محاذ کے قیام اور تقویت کے سلسلے میں امام خامنہ ای کے خصوصی اہتمام سے ثابت ہوتا ہے کہ موصوف اسلامی مزاحمت محاذ کو اسلام اور اسلامی انقلاب کے تسلسل کا حصہ اور امت کے تحفظ اور مسلمانوں کے اتحاد اور مقدسات کے تحفظ کا سبب سمجھتے ہیں جو کفر و شرک کے خلاف جہاد میں شریک مجاہدوں کے لئے ایک اعزاز ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی امام سید علی خامنہ ای سے اسلامی مزاحمت محاذ کی مختلف تنظیموں کی ملاقاتوں ـ حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ سے لے کر فلسطین کی اسلامی جہاد تنظيم کے سیکریٹری جنرل اور متعلقہ وفد کی ملاقات تک، حماس کے سیاسی دفتر کے معاون کے دیدار سے لے کر انصار اللہ کے ترجمان اور متعلقہ وفد کی ملاقات تک، شہید بدرالدین کے اہل خانہ کے دیدار سے شہید عماد مغنیہ کے اہل خانہ کی ملاقات تک، انصار اللہ کے ترجمان کی ملاقات سے سید مقتدیٰ صدر کے دیدار تک، نیز فلسطینی انتفاضہ کی حمایت کے لئے منعقدہ کانفرنس سے خطاب ـ سے ظاہر ہوتا ہے کہ رہبر معظم اسلامی محاذ مزاحمت کی تقویت اور اسلامی جمہوریہ ایران اور مزاحمتی تنظیموں کے درمیان گہرے فکری اور نظری ربط و تعلق کی استواری، کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور اس کو تزویری نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے راہنماؤں اور محاذ مزاحمت کے راہنماؤں کے درمیان ان تمام ملاقاتوں اور مکالموں اور مشاورتوں کا ترجیع بند (۴) تسلط پسند نظام اور منحوس مغربی-عبری-عربی مثلث کا مقابلہ ہے و مذہبی اور دینی مفروضات پر مبنی اور حقیقی اسلام کی تعلیمات پر استوار ہے۔
آخری نکتہ یہ ہے کہ علاقے کے حالیہ چند روز کے واقعات اور رہبر انقلاب کی ندا کو سید حسن نصر اللہ کی عاشورائی لبیک گوئی اور سید مقتدیٰ صدر کی رہبر انقلاب سے ملاقات اور بات چیت، ـ وہ بھی عراقی کابینہ کی تشکیل میں ایران مخالف رویے کی بھاری شکست کے بعد ـ ایک نئی خبر نے ذرائع ابلاغ کی توجہ اپنی طرف مبذول کروائی، وہ وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے امور کے مشیر جان بولٹن کی برخاستگی کی خبر تھی۔ بین الاقوامی مبصرین کے تبصروں اور تجزیوں کے درمیان القدس العربی کے مشہور عرب تجزیہ نگار عبدالباری عطوان کا تجزیہ زیادہ قابل غور تھا جنہوں نے جان بولٹن کی برخاستگی کے بارے میں لکھا: “ایران کی زبردست مزاحمت کے نتیجے میں جان بولٹن کو ذلت آمیز انداز سے وائٹ ہاؤس سے باہر پھینکا گیا”۔ یہ خبر مذکورہ بالا دوسری خبروں کے ہمراہ نہ صرف ایک امریکی سیاستدان کی خفت آمیز برخاستگی کی عکاس ہے بلکہ اس حقیقت کی عکاسی کررہی ہے کہ تسلط پسند نظام ہی شکست کی ڈھلان پر تنزل کی منزلیں طے کررہا ہے جبکہ محاذ مزاحمت کامیابی کی چوٹیوں کی طرف رواں دواں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۔ Greater Middle East Initiative GMEI ۔۔۔ مشرق وسطی الظمی (Greater Middle East) ایک سیاسی اصطلاح ہے جو اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں دوسری بش انتظامیہ کی طرف سے استعمال کی گئی۔ جو نئی امریکی استکباری خواہش کے مطابق مغرب میں مراکش سے لے کر مشرق میں پاکستان تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس وہمیاتی نوآبادی میں عالم اسلام کے ممالک خاص طور پر ایران، ترکی، افغانستان اور پاکستان نیز وسطی ایشیاء کے کئی ممالک اور قفقاز کے ممالک کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔ اس وہمیاتی علاقے کو The New Middle East بھی کہا جاتا ہے۔
۲۔ George W Bush junior
۳۔ قفقاز: (Caucasus) یورپ اور ایشیا کی سرحد پر جغرافیائی و سیاسی بنیاد پر مبنی ایک خطہ ہے، جو بحیرہ اسود اور بحیرہ قزوین کے درمیان واقع ہے- کوہ قاف پہاڑی سلسلہ ایشیا اور یورپ کو جدا کرتا ہے۔
۴۔ ترجیع بند بھی ترکیب بند کی طرح ہوتا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ اس میں آخری گروہ کے شعر یا مصرعہ ہر بند میں بار بار دہرایا جاتا ہے۔
http://www.rajanews.com/news/326840/

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍۱۰۱