فارن پالیسی:

ایران کے غیرمعمولی زیرک رہبر ٹرمپ کو کیونکر پیچھے چھوڑ گئے؟/ مشرق وسطی کے حالیہ ۷۵ برس کے عرصے کے کامیاب ترین قائد




امریکی جریدے فارن پالیسی نے سی آئی کے ایک سابق افسر کا مکالمہ بعنوان “ایران کے قائد اعلی نے ٹرمپ کو کیونکر پیچھے چھوڑا؟” شائع کیا ہے۔ سی آئی اے کے افسر نے کئی مرتبہ اعتراف کیا ہے کہ رہبر انقلاب اسلامی امام سید علی خامنہ ای نے اپنی خاص کیاست کے ساتھ امریکیوں کا مقابلہ کیا ہے اور انہیں زیر کرلیا ہے۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: سی آئی کے سابق افسر راؤل مارک گیریچٹ (Reuel Marc Gerecht) نے گذشتہ ہفتے سعودی تیل کی تنصیبات پر انصار اللہ کے حیران کن اور خلاف توقع حملے کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کے بارے میں اظہار خیال کیا ہے۔
گریچیٹ جو ـ اس کے اپنے بقول، ۳۰ برسوں سے اسلامی جمہوریہ ایران کے قائد کے بارے میں مطالعہ کررہا ہے ـ تحفظ جمہوریت فاؤنڈیشن (Foundation for Defense of Democracies [FDD]) میں ایران کے مسائل کی تجزیہ کاری میں مصروف عمل ہے۔ گریچٹ نہایت شدت کے ساتھ ایران دشمن اور ایٹمی معاہدے سے امریکہ کے الگ ہونے اور ایران پر لگی ظالمانہ اور دہشت گردانہ امریکی پابندیوں کا سخت حامی ہے۔
ادھر ایف ڈی ڈی بھی ـ جہاں گریچٹ مصروف عمل ہے ـ بھی ایک صہیونی تھنک ٹینک ہے اور حالیہ برسوں میں ایران کے خلاف ہونے والے بہت سے اقدامات بشمول مسلسل پابندیوں میں اس کے قدموں کے نشان دیکھے جاسکتے ہیں۔ یہ تھنک ٹینک امریکی معاشی اور ابلاغیاتی جنگ کا بازو ہے اور ایران نے حال ہی میں اس پر پابندی لگائی ہے۔
راؤل مارک گریچٹ فارسی پر عبور رکھتا ہے اور جارح سعودی حکمرانوں کے تیل کی تنصیبات پر انصار اللہ کے کامیاب حملے کے حوالے سے تہمت کی انگلی ایران کی طرف دراز کئے ہوئے ہے اور اپنے حکمرانوں کی طرح ـ کوئی سند و ثبوت پیش کئے بغیر ـ کہتا ہے کہ ان حملوں کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے لیکن ساتھ ہی کہتے ہیں کہ “ماہرین کی رائے کے بعد ہی یقین سے کچھ کہا جاسکتا ہے”۔
امریکہ تذلیل ہوئی اور سعودیوں کو نقصان پہنچا
مکالمے کا خلاصہ:
– یہ حملہ ایران کی طرف سے ایک مخاصمانہ اقدام اور امریکی کمزوری کا جواب تھا؛ ایرانیوں نے تناؤ میں تدریجی طور پر اضافہ کیا ہے اور جب بھی ہم نے کوئی فوجی اقدام نہیں کیا تو انھوں نے اس رسک کو فوجی متبادل تک آگے بڑھایا۔ وہ اس خطرے کو ایٹمی تصادم کی حد تک بھی آگے بڑھائیں گے۔ اس حملے کی وجہ سے ایرانی دو مختلف محاذوں پر کامیاب ہوئے، انھوں نے امریکہ کی تذلیل بھی کی اور سعودیوں کو نقصان بھی پہنچایا۔ “وہ سعودیوں سے نفرت کرتے ہیں!”۔ (= ریکی شرانگیزی)
– گریچٹ امریکی – سعودی قیاس آرائیوں کو دہراتے ہوئے کہتا ہے: ایران کی روش یہ ہے کہ انکار کے امکان سے لیس ہونے کے لئے اپنی پراکسی فورسز سے استفادہ کرتا ہے۔ انہیں کچھ نہ کچھ پردہ پوشی کی ضرورت ہے اور ان کے حامی گروپ یہ امکان اس ملک کو فراہم کردیتے ہیں۔ اگر حالیہ حملہ بلاواسطہ ایرانیوں نے انجام دیا ہو تو یہ ٹرمپ کے لئے ایک آزما‏ئش ہے۔ “اس حملے نے سعودیوں کی فضائی دفاعی کمزوری کو ثابت کردیا ہے”۔
ماہرین کو حملوں کے سرچشمے کے بارے میں رائے دینا چاہئے!

– گریچٹ اپنے بےسند و ثبوت دعؤوں کے باوجود کہتا ہے: “ظاہر ہے کہ اس سلسلے میں ماہرین کی تحقیق کی ضرورت ہے کہ یہ حملے کہاں سے ہوئے ہیں اور یہ میزائل کہاں سے داغے گئے ہیں”۔
– گریچٹ کہتا ہے: ایران کے اس حملے کا جواب امریکہ کے لئے حیاتی ہے اور اگر امریکہ جواب نہ دے تو یہ مسئلہ مزید سنجیدہ ہوجائے گا اور اگر امریکہ جواب نہ دے تو صدر ٹرمپ کو ابھی سے امریکی فوجی بیڑوں کی آزادانہ جہازرانی کو برباد سمجھ لینا چاہئے۔ اگر امریکہ ایران کو اپنی مرضی اور ارادے سے اس طرح کے حملے جاری رکھنے دےگا تو ۱۹۵۰ع‍ سے سعودی تیل کے تحفظ کے سلسلے میں امریکی دعوی بھی متنازعہ بنے گا۔
امریکی حکام کی لفاظیاں ایرانیوں کے لئے خوفناک نہیں ہیں
– گریچٹ متعینہ اہداف اور نشانیوں کو بہت زیرکانہ قرار دیتا ہے اور ایک بار پھر ایران پر الزام تراشی کرتی ہوئے فارن پالیسی سے کہتا ہے: کہنا چاہئے کہ اہداف اور نشانیوں کو نہایت کیاست اور زیرکی کے ساتھ منتخب کیا گیا اور اس انتخاب نے مجھے بہت متاثر کیا ہے کیونکہ اہداف کا یہ چناؤ ہمارے لئے فیصلہ کن ہے۔
– اس سوال کے جواب میں کہ “کیا آپ کا اشارہ ایران کے رہبر اعلی کی طرف ہے جنہوں نے اس اقدام کو امریکہ کی دوبارہ پسپائی کے لئے آخری امتحان قرار دیا ہے”، گریچٹ نے کہا: مائیک پامپیو سمیت امریکی حکام کے خیالات کے پیش نظر کہا جاسکتا ہے کہ ہم پسپائی کے دور سے گذر رہے ہیں۔ جب سعودیوں کے ساتھ تبادلہ خیال اور اتحاد قائم کرنے کے سلسلے میں مائیک پامپیو کے خیالات کا فارسی میں ترجمہ کیا جاتا ہے تو یہ خیالات ایرانیوں کے لئے کچھ زیادہ خوفناک نہیں ہوتے اور ایران میں کسی کو نہیں ڈراتے۔
امریکہ جب کچھ بھی کرنے سے عاجز ہوتا ہے تو پابندیاں لگاتا ہے!
– فارن پالیسی کا نمائندہ کہتا ہے کہ “بایں وجود ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید پابندیاں لگائی ہیں”، تو گریچٹ ایران کے خلاف پابندیوں میں اضافے کی امریکی پالیسی کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتا ہے: ایران کے خلاف زیادہ سے زيادہ پابندیاں لگانے کا عمل در حقیقت ایک کمزور جواب ہے۔ جب آپ کچھ بھی کرنے سے عاجز آتے ہیں، تو کیا کریں گے؟ پابندیوں کے ہتھیار کو بروئے کار لائيں گے۔
– گریچٹ امریکہ کی ایران دشمن پالیسیوں کے درمیان ربط و تعلق کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے بارے میں کہتا ہے: ”
“جی ۷ کے اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے فرانسیسی صدر مکرون کی تجویز سے اتفاق کیا تھا لیکن امریکی انتظامیہ نے پابندیوں کو کم نہیں کیا، چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ ایران پر پابندیوں کے سلسلے میں امریکی حکومت کے درمیان مکمل ہمآہنگی پائی جاتی ہے اور ٹرمپ نے اب تک اس ہمآہنگی کی خلاف ورزی نہیں کی ہے اور اس سلسلے میں امریکی پالیسی مربوط اور ہمآہنگ ہے۔ میرے خیال میں ٹرمپ پابندیوں کو ایران کے ساتھ مفاہمت کے لئے بروئے کار لا رہے ہیں اور یہ پالیسی اگرچہ اطمینان بخش ہے لیکن اس ذریعے سے اس مقصد کا حصول ممکن نہیں ہے”۔

مشرق وسطی کے حالیہ ۷۵ برس کے عرصے کے کامیاب ترین قائد
– گریچٹ کے اس تجزیئے کا اہم موڑ امام خامنہ ای اور ٹرمپ کا موازنہ ہے۔ سی آئی کا یہ سابق افسر اور ایران مخالف پالیسیوں کا تجزیہ نگار اس تقابل اور موازنے کے بارے میں کہتا ہے: “میں سمجھتا ہوں کہ ایران کے رہبر اعلی ٹرمپ کو ایک سیاسی جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔ بےشک وہ ایک سنجیدہ ہیرو ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد مشرق وسطی کے کامیابی ترین قائد ہیں۔ وہ نہایت زیرک ہیں اور ممتاز مہارتوں اور اعلی صلاحیتوں کے حامل ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
http://kayhan.ir/fa/news/170534

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۰۱