فرش عزا اور خیر و تقوی کی طرف دعوت باہمی




کربلائی تعلیمات کی روشنی میں ہمیں اپنے سماج  پر ایک نظر ڈالنے کی ضرورت ہے کہ ہم کہاں ہیں؟ اور ہمارا سماج کہاں ہے  ملکی سیاست کا رخ کہاں ہے اور ہم کدھر ہیں ؟ کیا ملک جس شدت پسندی کی طرف جا رہا ہے اسکے پیش نظر ہم کسی قسم کا تعاون ان لوگوں کے ساتھ کرنے کو تیار ہیں جو  ملک میں امن و امان کے لئے کوششیں کر رہے ہیں ؟  



بقلم سید نجیب الحسن زیدی

خیبر تجزیاتی ویب گاہ: خالق کائنات نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر اس کے ارد گرد ایسا معاشرتی حصار کھینچ دیا  جسکی رعایت کے بغیر یہ شرف و کمال  کی منزلوں تک نہیں پہنچ سکتا ، یعنی انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ضرور ہے  لیکن اس اعتبار سے کہ یہ مکمل شرف کا حامل از خود نہیں ہے  بلکہ اس کے اندر مالک کائنات نے صلاحیت رکھی ہے کہ تمام موجودات سے زیادہ کمال  رکھ سکے حتی منزل کمال میں فرشتوں تک کو پیچھے چھوڑ دے لیکن یہ کمال اس وقت تک حاصل نہیں کر سکتا جب تک معاشرتی اور سماجی زندگی میں  ’’میں‘‘ کی  جگہ ہم  سب  کو  قرار نہ دے  اور انفرادی زاویہ فکر کی جگہ اجتماعی سوچ پیدا نہ کر لے یہی اجتماعی سوچ انسان کو معاشرہ اور سماج کے اعلی مقاصد کے حصول میں فردی رجحان کو ترک کرنے کی دعوت دیتی ہے ایک دوسرے کے ساتھ بڑے ہدف کے حصول کے لئے مشترکہ طور پر آگے بڑھنے کی طرف بلاتی ہے  جب مختلف صلاحیتیں مل کر کسی ایک مقصد کی طرف گامزن ہوں تو آسانیاں خود بخود فراہم ہو جاتی ہیں، آپسی تعاون کے ذریعہ  انسان ان چیزوں پر کنٹرول کر سکتا ہے جنہیں  انفرادی طور لاکھ  جتن کے بعد بھی نہیں کر سکتا، خیر اوراچھائیوں کی طرف  ایک دوسرے کی مدد  ایک اچھے سماج کی پہچان ہے، ایک سالم  صحت مند معاشرہ ایک دوسرے کو دعوت خیر دیتا نظر آتا ہے اور اچھے صحت مند معاشرہ میں برائیوں سے سب مل جل کر لڑتے ہیں  اسی کو تعاون علی البر والتقوی کہا جاتا ہے ۔

تعاو ن کے معنی

تعاون مادہ عون سے ہے اور اسکا ظہور عرفی یہ ہے کہ یہ مدد اور کسی کام کے مقدمات کے مہیا کرنے کے معنی میں استعمال  ہوتا ہے ، تعاون کسی ایک کام میں شریک ہو جانے کے معنی میں استعمال نہیں ہوتا بلکہ اسباب و وسائل کے مہیا کرنے کے معنی میں  استعمال ہے  ایسے کام کے وسائل و اسباب کو مہیا کرنا جسے مشترکہ طور پر انجام دیا جائے اسے بھی تعاون کہا جاتا ہے [۱]

انسانی زندگی میں ایک دوسرے سے تعاون کی ضرورت

انسان کی زندگی کا معنوی  پہلو یا مادی  اس میں نکھار تبھی پیدا ہوتا ہے جب وہ دوسروں کے ساتھ تعاون کرکے  معاشرتی زندگی کی اساس و بنیاد  مشترکہ تعاون پر ٹکی ہوئی ہے  اب یہاں پر سوال ہوتا ہے کہ معاشرتی زندگی میں انسان کو دوسرے انسان سے کس قسم کے تعاون کی ضرورت محسوس ہوتی ہے  کیا ہر ایک تعاون  مطلوب ہے زندگی گزارنے کے لئے ہر ایک سے  مدد کی گہار لگانا کیا اس لئے  ضروری ہے کہ دوسروں کی مدد سے انسان اپنی زندگی کو اچھا بنا سکتا ہے  تو اب تعاون کا اطلاق کہاں کہاں ہوگا  ۔

اسلامی تعلیمات میں تعاون کی کیفیت

اسلامی تعلیمات کی رو سے  سماجی زندگی میں  ہر طرح کا تعاون مطلوب نہیں ہے بلکہ انہیں امور میں تعاون کی بات کی گئی ہے جنکا تعلق بر و تقوی سے ہو نیکیوں سے ہو  ، دین کی نظر میں ایک دوسرے کو خیر کی طرف دعوت دینا واجبات میں سے ہے لہذا زبانی طور پر بھی  اگر کسی کو  دعوت خیر دی جائے تو یہ بھی  اعانت کے معنی میں  ہے اور اسے خیر کی طرف تعاون کی صورت محترم جانا گیا ہے۔  [۲]

واضح ہے کہ  وہ چیزیں جو شریعت کی نظر میں ممدوح نہیں ہیں لیکن سماج میں مطلوب و ممدوح ہیں ان میں تعاون ہرگز ہرگز  دین کی نظر میں قابل قبول نہیں ہے  مثلا فرش عزا سے متعلق  بعض ایسی رسمیں جنکا شریعت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے وہ سماج و معاشرہ کے کلچر کے طور پر انجام دی جاتی ہیں اور انہیں فروغ عزا کے طور پر  نہیں  مانا جا سکتا ہے ایسے مقامات پر اگر ہم یہ سوچ کر ان رسموں کو زندہ رکھنے کے لئے پیسہ دیتے ہیں  کہ ہم دین کی راہ میں  خرچ کر رہے ہیں اور یہ تعاون علی البر والتقوی ہے  یا ان کے بہتر طور پر انجام پانے کے لئے وقت دیتے ہیں اور یہ سوچتے ہیں کہ ہم نے یہ کار خیر کر دیا تو ہرگز  ایسا نہیں ہے اب اس میں کوئی خاص مثال نہیں ہے  عرف میں آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ  بہت سی ایسی رسمیں عزاداری کا حصہ بن چکی ہیں جن میں دین کا دخل نہیں ہے ، کچھ تو وہ رسمیں ہیں جن میں دین کا دخل نہیں ہے لیکن دین انکے انجام دینے میں مداخلت بھی نہیں کرتا ہے اور وہ مباحات کے دائرہ میں آتی ہیں لیکن کچھ وہ چیزیں ہیں جو دین کی نظر میں  نہ صرف مطلوب نہیں بلکہ دین انہیں مذموم نظر سے دیکھتا ہے خاص کر ایسی چیزیں جہاں دوسری قوموں سے تشابہہ کی بو آتی ہے یا جن سے مشرکانہ رواج و طرز عمل پھیلتا نظر آتا ہے  ایسی تمام رسموں میں اگر ہم بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں تو یہ تعاون علی الاثم والعدوان ہے تعاون علی البر والتقوی نہیں ہے ۔جبکہ اگر تعاون اللہ کی راہ میں ہو  تو خدا  ایسے مومن کی خود ہی پشت پناہی کرتا ہے  مدد کرتا ہے جو کسی مومن کا ہاتھ تھام لیتا ہے  چنانچہ حدیث میں ہے :  خدا اس وقت تک اپنے مومن بندے کی  پشت پناہی کرتا رہتا ہے جب تک وہ  اپنے مومن بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے [۳] یعنی انسان کی زندگی میں یوں تو خدا ہر ایک کے ساتھ ہے  خاص کر جو بھی اللہ کی ذات پر بھروسہ کر کے آگے بڑھ رہا ہے خدا اسکے ساتھ ہے لیکن  اس مومن بندے کو تنہا نہیں چھوڑتا جو کسی کی مدد کر رہا ہے ، اب اگر کوئی مومن بندہ کسی جگہ امام حسین علیہ السلام کا غم منانے کے لئے بہتر سے بہتر انداز میں کوششیں کررہا ہے اور ہم اسکا ساتھ دے رہے ہیں تو یہاں خدا کی خصوصی عنایت ہمارے اوپر ہے کیونکہ ہم کسی مومن کی مدد کر رہے ہیں   یہ مدد گرچہ انفرادی بھی ہو کسی کی تعلیم کے لئے کسی کی بیماری کے علاج کے لئے اگر ہم مدد کرتے ہیں تو خدا ہمارا پشت پناہ ہوتا ہے عزاداری تو ان سب فردی  چیزوں سے بڑھ کر ہے یہاں قوم کی جہالت حسینی افکار کی روشنی میں دور ہوتی ہے تو بیمار روحوں کو شفا ملتی ہے ۔

روایات میں ایسے لوگوں کو بہترین بھائی کہا گیا ہے جو  اطاعت الہی پر ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور گناہ کے راستوں کو بند  کر دیتے ہیں  حضور سرورکائنات کا ارشاد گرامی ہے :  تمہارے بہترین بھائی وہ ہیں  جو تمہیں راہ اطاعت کی طرف کھینچے اور تمہاری  بندگی کی راہ میں مدد کریں اور معصیت کی راہ میں تمہارے لئے رکاوٹ بن جائیں[۴]  اور تمہیں رضائے الہی کے مطابق زندگی گزارنے کا امر کریں  ایک اور حدیث  میں ہے کہ  تمہارا  بہترین بھائی وہ ہے جو  آخرت کے امور میں تمہاری مدد کرے۔ [۵]

صرف مومن بھائیوں کا ایک دوسرے سے تعاون ہی  دین کی نظر میں تحسین و تمجید کی نظر سے نہیں دیکھا گیا ہے بلکہ  ایسے اموال کو بھی بہترین مال قرار دیا گیا ہے جو اچھے کاموں میں استعمال ہو۔  [۶]اب اگر کچھ لوگ عزاداری  کے فروغ میں اپنے مال کو بجا طور پر خرچ کر رہے ہیں تو یہ تعاون علی البر والتقوی کی منزل ہے  خدا انکا پشت پناہ ہے اور انکی ہر منزل پر مدد کرنے والا ہے ۔ بجا طور پر خرچ کرنے کا مطلب یہ ہے ایسی جگہوں پر یا ایسے کاموں میں صرف نہیں کر رہے ہیں  جہاں دین کا مذاق بنتا ہو یا پھر دوسرے لوگ انگلیاں اٹھاتے ہوں ایسے  کام ہوں جو دین کی تضحیک کا سبب  بن سکتے ہیں ، حتی وہ کام جن کے لئے مراجع اجازت نہیں دیتے ہیں لیکن سماج میں محض رواج کی بنیاد پر انہیں انجام دیا جاتا ہے  یہ سب کے سب  بر و تقوی  کے ذیل میں نہیں آئیں گے ۔

تعاون علی البر والتقوی کی مکمل اور بہترین تطبیق کربلا پر ہوتی ہے جہاں اصحاب حسینی دین کی بقا و اسکی حفاظت کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے آگے بڑھے اور صرف اتنا نہیں کیا کہ اسباب و وسائل کے مہیا کرنے کی حد تک رہے ہوں یا صرف مال سے تعاون کیا ہوبلکہ اس تعاون میں اپنی جان سے بھی گزر گئے   چنانچہ ہم کربلا میں  ایک طرف جہاں امام حسین علیہ السلام کی نصرت کی آواز کو سنتے ہیں اور جہاں ہم استغاثہ حسینی کو سن رہے ہیں وہی ہم  اس استغاثہ پر لبیک کی صورت اصحاب امام حسین علیہ السلام کے دین کی راہ میں تعاون کو بھی اپنی اعلی ترین منزل پر دیکھتے ہیں، وہب کلبی  نے جو امام حسین علیہ السلام کی استغاثہ پر لبیک کہا آپکے طلب نصرت پر  وہب نے جس طرح تعاون کیا  کہ اپنی جان تک دے دی  یہ دین کی راہ میں تعاون کی ایک بے نظیر مثال ہے کہ جو ابھی  نصرانی تھا  جب وہ راہ  بقاء دین میں  سید الشہداء  علیہ السلام کو بڑھتا دیکھتا ہے تو خود  بھی دین کے دائرہ میں آ جاتا ہے اور آنے کے بعد اپنی جان کو محفوظ رکھنے کی فکر بھی نہیں کرتا بلکہ اس قدر تعاون کرتا ہے کہ اپنا سب کچھ دین کی راہ میں قربان کر دیتا ہے  اور نہ صرف خود کو قربان کر دیتا ہے بلکہ اپنی زوجہ کو بھی دین کی اعانت میں شامل کر لیتا ہے ۔ جناب وہبی کلبی کا کرادار  تعاون علی البر والتقوی کی  ایک بہترین مثال ہے۔

کربلائی تعلیمات کی روشنی میں ہمیں اپنے سماج  پر ایک نظر ڈالنے کی ضرورت ہے کہ ہم کہاں ہیں؟ اور ہمارا سماج کہاں ہے  ملکی سیاست کا رخ کہاں ہے اور ہم کدھر ہیں ؟ کیا ملک جس شدت پسندی کی طرف جا رہا ہے اسکے پیش نظر ہم کسی قسم کا تعاون ان لوگوں کے ساتھ کرنے کو تیار ہیں جو  ملک میں امن و امان کے لئے کوششیں کر رہے ہیں ؟   کیا ہم کار خیر میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں یا پھر یہ دیکھتے ہیں فلاں اچھا کام فلاں کیوں کر رہا ہے  اور بجائے اسکے کہ اسکا سپورٹ کریں ہم خود اسی کا جیسا دوسرا کام کرنے لگتے ہیں ، اس نے اسکول کھولا ہے تو بجائے اسکی حمایت کے اسی کے مقابل ہم بھی ایک اسکول کھول کر بیٹھ جاتے ہیں ، اگر ایک عشرہ مجالس  کوئی خلوص نیت کے ساتھ منعقد کر رہا ہے تو ایک تعاون کی صورت یہ ہے کہ ہم بھی اسکا ساتھ دیں ، تبرک سے لیکر مرثیہ خوانی و سوز خوانی تک اور سوزخوانی سے  خطیب و عالم   کی ذمہ داری لینے تک بہت سے مقامات ایسے ہیں جہاں ہم   مجلس میں تعاون کر سکتے ہیں  ۔

یوں تو ہر ایک کہتا ہے کہ ہم کار خیر میں تعاون کر نے کے لئے تیار ہیں  لیکن  حقیقت بہت مختلف  ہے ہر کار خیر میں تعاون محض پیسے دینے یا چندہ دینے سے نہیں ہوتا بعض ایسے کار خیر ہیں جہاں تعاون  اثرو رسوخ کو استعمال کرکے ہوتا ہے ، بہت سی جگہوں پر  تدبیر و حسن عمل سے ہوتا ہے اور بہت سے مقامات ایسے ہیں جہاں  نزاکتوں اور مصلحتوں سے لحاظ سے  تعاون ہو سکتا ہے   فرض کریں برسوں سے کچھ مجالس میں ٹکراو ہے آپس میں جسکی وجہ سے ایک گتھم  گھتی رہتی ہے   ایک ہی وقت پر شروع ہوتی ہیں فاصلہ بھی زیادہ نہیں ہے نیز الگ الگ مجالس منعقد ہوں اور ایک ہی وقت پر ہوں اسکی کوئی معقول  وجہ بھی نہیں ہے تو کیا ایسی صورت میں  اپنی انا کا بت ہم توڑنے کے لئے تیار ہیں کیا  امام حسین علیہ السلام کی مجلس کو بہترین انداز میں منعقد کرنے کے لئے ہم پیچھے ہٹنے کو تیار ہیں  کیا دوسرے بھائی کی مجلس کو اپنی مجلس سمجھنے کے لئے تیار ہیں  یا پھر یہ نہیں کر سکتے تو کیا سید الشہداء کے پیغام کو بہتر سے بہتر پہنچانے کے لئے وقت میں تبدیلی  لانے کے لئے تیار ہیں کہ ٹکراو نہ ہو یا پھر اسکے برخلاف سامنے ہونے والی مجلس  کو دبانے کے لئے ہم نے لاوڈاسپیکر کو  اس جگہ تک  لگوا رکھا ہے جہاں ایک مجلس ہو رہی ہے اور سامنے والے نے اپنے لاوڈ اسپیکر کا منھ ہمارے عزاخانے کی طرف کر رکھا ہے ؟ اگر ایسا ہے تو یہ بہت  بڑی نا انصافی ہے فرش عزا کے ساتھ  ، بارہا شہروں اور قصبوں میں یہ چیز دیکھنے کو مل جاتی ہے ایسے میں کیا ہی خوب ہو کہ قوم کے کچھ ریش سفید آگے بڑھیں اور سمجھا بجھا کر دو ٹکرانے والی  مجالس کو آپس میں ضم کرا دیں یا پھر وقت کو بدل دیں  لیکن اگر آپسی دشمنی و عداوت خدا نخواستہ اگر ایسی ہوئی کہ وہ ہر چیز پر غالب آگئی تو اس سے زیادہ بری بات کیا ہوگی کہ جس فرش عزا کو برائیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا وسیلہ ہونا چاہیے تھا ہم اسکے ساتھ بھی  یہ سلوک کر رہے ہیں کہ اسے ہی   لڑائی جھگڑے کی جگہ بنا لیا ہے ، اور یہ وہ چیز ہے جس سے بڑھ کر برائی اور کیا ہوگی کہ جو عزاداری ہماری آپس کی رنجش و عداوات کو دور نہ کر سکے   ہم اس کے ذریعہ دنیا کو عدل و انصاف کہاں سے دلا سکتے ہیں  اسی لئے  ضروری ہے باہمی تعاون کی فضا کو سازگار بناتے ہوئے کوشش کی جائے کہ  عداوت و دشمنی و رنجش کو ختم کرتے ہوئے ہم سب مشترکہ دشمن کے سامنے منصوبہ بند طریقے سے کھڑے ہو سکیں وہ دشمنی  جسکا  اظہار خدا و رسول کے دشمن کے ساتھ  ہمیں کرنا ہے  آپس میں نہ ہو کہ دشمنی و کینہ تعاون  علی البر والتقوی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے[۷] ۔

پروردگار ہم سب کو توفیق دے کہ درسگاہ کربلا کے آفاقی تعلیمات کو پہلے تو خود سمجھیں اور پھر دوسروں تک پہنچا سکیں تاکہ حسینیت  کے سایہ میں لوگ ایک دوسرے کا تعاون کرتے ہوئے  دنیا سے ظلم و ستم کی جڑوں کو اکھاڑ پھینکیں۔

حواشی:

[۱] ۔ رجوع کریں : ابن منظور لسان العرب ۔  دهخدا، علي اكبر؛ لغت نامه دهخدا، تهران، موسسه انتشارات و چاپ دانشگاه تهران، ۱۳۷۹ هـ.ش، ذیل واژه تعاون.

[۲]  ۔ دشتی، محمد؛ نهج البلاغه، قم، موسسه فرهنگی تحقیقاتی امیرالمومنین، پاییز۱۳۸۱، خطبه۲۱۶٫

[۳]  ۔ واللہ فی عون المومن  ما کان المومن فی عون اخیہ  ۔ بحار الانوار جلد ۷۱ص ۳۲۲

[۴]  ۔ خیر اخوانک من اعانک علی طاعۃ اللہ  و صدک عن معاصیہ و امرک برضاہ  ، مجموعہ ورام ، جلد ۲ ص ۱۲۳

[۵]  ۔  ایضا جلد ۲ ص ۱۲۳

[۶]  ۔ خیر الاموال  ما اعان علی المکارم  ، غرر الحکم  ص ۳۶۷ب

[۷]  ۔  نراقی، احمد؛ معراج السعاده، ص۲۵۳ تا ۲۵۵٫

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍۱۰۳