غرب اردن میں یہودی آبادکاری عالمی قوانین کے منافی ہے: ترک وزیر خارجہ




انقرہ کی وزارت خارجہ نے اسرائیلی حکومت کی جانب سے غرب اردن میں یہودی آباد کاروں کے لیے ۲،۳۴۲ نئے رہائشی یونٹوں کی تعمیر کا اعلان مستردکرتے ہوئے عالمی قوانین کے منافی قرار دیا۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، اسرائیلی ریاست نے مقبوضہ فلسطینی علاقے غرب اردن میں یہودی کالونیوں کی توسیع کے لیے مزید دوہزار سے زاید مکانات کی تعمیر کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ صہیونی ریاست کے اس منصوبے پر ترکی اور دوسرے مسلمان ممالک کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔

تُرکی نے فلسطین میں یہودی آباد کاروں کو بسانے کے لیے دو ہزار مکانات کی تعمیر کا منصوبہ مسترد کردیا ہے۔

انقرہ کی وزارت خارجہ نے اسرائیلی حکومت کی جانب سے غرب اردن میں یہودی آباد کاروں کے لیے ۲،۳۴۲ نئے رہائشی یونٹوں کی تعمیر کا اعلان مسترد کرتے ہوئے عالمی قوانین کے منافی قرار دیا۔

تُرکی کی وزارت خارجہ نے کہا کہ “ہم اسرائیل کے اس غیر قانونی فیصلے کو مسترد کرتے ہیں۔ یہ اقدام فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی اور بین الاقوامی قوانین کو کھلم کھلا نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔

انقرہ نے عالمی برادری پر ایک بار پھر فلسطینی علاقوں پر قبضے اور  فلسطینی عوام کے ساتھ ہونے والی  ناانصافی کے ازالے کے اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ کے آخر میں اسرائیلی حکومت نے فلسطین کے دریائے اردن کے مغربی کنارے کے علاقوں میں یہودی آباد کاروں کے لیے ۲ ہزار ۳۴۲ نئے گھر تعمیر کرنے کا اعلان کیا تھا۔

…………..

ختم شد,۱۰۳