یہودیوں کے تحفظ کا منصوبہ




یہ انتہائی خفیہ اور خطرناک آپریشن تھا لیکن اسے اس مہارت سے پورا کیا گیا کہ اس میں ایک انسانی جان تک ضائع نہیں ہوئی۔اس کے لیے الاسکا ایئرلائنز کے ۲۸ طیارے مسلسل اڑتے اور اترتے رہے اور ۵۰ ہزار افراد کو لے جایا گیا۔جہازوں کو ایک مہینے میں قریباً ۳۰۰ گھنٹے تک اڑایا گیا حالانکہ امریکہ میں اس کی حد ۹۰ گھنٹے تک مقرر ہے۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: ۱۹۴۸ میں اسرائیل کے قیام کے وقت قریباً دس لاکھ یہودی مشرق وسطیٰ، افریقی اور عرب ممالک میں مختلف مقامات پر موجود تھے، جن کو کافی مشکلات کا سامنا تھا۔ اس سے قبل ۱۹۴۷ میں جب اقوام متحدہ نے فلسطین کو یہودی اور عرب ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا تو دیگر مقامات پر موجود یہودی غیر محفوظ ہو گئے۔

چند ماہ بعد صورت حال اس وقت مزید بگڑ گئی جب یمن میں دو مسلمان لڑکیوں کو قتل کیا گیا اور الزام یہودیوں پر لگا۔ پھر فسادات شروع ہو گئے اور یہودیوں پر حملے ہونے لگے۔ جس پر امریکی اور اسرائیلی حکومتوں نے یہودیوں کو اسرائیل منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس کے لیے مالی تعاون امریکن جیوئش جوائنٹ ڈسٹری بیوشن کمیٹی نے فراہم کیا۔

منصوبے کو حتمی شکل دینے کے بعد امریکی و اسرائیلی حکام نے یمن کے شاہ سے رابطہ کیا تو انہوں نے اس شرط پر یہودی لے جانے کی اجازت دے دی کہ ان کو لے جانے والے جہاز یمن کی سرزمین پر نہیں اتریں گے بلکہ شہر عدن سے ملحق ’گیولا‘ نامی ٹرانزٹ کیمپ سے یہودیوں کو اٹھائیں گے جو اس وقت انگریز حکومت کے پاس تھا اور یمن سے قریباً ۳۰۰ کلو میٹر دور تھا۔

اس کے بعد اس خفیہ آپریش کی تیاری شروع ہوئی جس کا نام ’آپریشن میجک کارپٹ‘ تجویز کیا گیا اور اس کا ہدف یمن سے تمام یہودیوں کو نکال کر بحفاظت اسرائیل پہنچانا تھا۔

آپریشن میجک کارپٹ

چونکہ یہ ایک خفیہ آپریشن تھا اس لیے اعلان نہیں کیا جا سکتا تھا کہ تمام یہودی ایک جگہ اکٹھے ہو جائیں، جہاں سے ان کو لے جایا جائے گا بلکہ یمنی حکومت کی رضامندی سے ہی کچھ لوگوں کی ڈیوٹی لگائی گئی جن کا کام یہودیوں کو ڈھونڈنا اور ان کو اسرائیل جانے کے لیے تیار کرنا تھا۔

ساتھ ہی انہیں یہ تاکید بھی کرنا تھی کہ کسی کو نہ بتائیں۔ یوں کئی ماہ تک یہ سلسلہ چلتا رہا اور اندازے کے مطابق قریباً تمام ہی یہودیوں کو پیغام مل گیا تھا اور وہ تیار ہو چکے تھے۔

اس کے بعد ملک کے مختلف حصوں سے ٹولیوں کی شکل میں لوگ ٹرانزٹ کیمپ کی طرف چلنا شروع ہوئے، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی تھی، چونکہ سواریوں کا انتظام نہیں تھا اور دوسرا چھپ کر بھی جانا تھا اس لیے وہاں پہنچنے والوں کو بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

مصائب اور کئی روز کے سفر کے بعد قافلے ٹرانزٹ کیمپ کے پاس پہنچے تو  امریکہ اور اسرائیلی حکومت نے پہلے سے رہائش، صحت کی سہولتوں، خوراک وغیرہ کا انتظام کر رکھا تھا۔ رضاکاروں کی ڈیوٹی لگائی گئی تھی، چونکہ ان میں اکثریت انتہائی غریبوں کی تھی اس لیے بیت الخلا اور دوسری سہولتیں ان کے لیے حیران کن تھیں۔

۱۹۴۹ کے جون کے آغاز میں جب پہلا جہاز پہنچا تو غریب لوگ اسے دیکھ کر ڈر گئے اور سوار ہونے سے انکار کر دیا جنہیں رضاکاروں نے کافی سمجھا بجھا کر سوار کروایا اور یوں پہلا جہاز قریباً ۱۰۰ یہودیوں کو لے کر اڑا، تل ابیب پہنچا، لوگ اتارے اور پھر واپس عدن پہنچا، یہ سلسلہ ستمبر ۱۹۵۰ تک جاری رہا اور یہودیوں کو یمن سے اسرائیل پہنچایا جاتا رہا۔

یہ انتہائی خفیہ اور خطرناک آپریشن تھا لیکن اسے اس مہارت سے پورا کیا گیا کہ اس میں ایک انسانی جان تک ضائع نہیں ہوئی۔اس کے لیے الاسکا ایئرلائنز کے ۲۸ طیارے مسلسل اڑتے اور اترتے رہے اور ۵۰ ہزار افراد کو لے جایا گیا۔جہازوں کو ایک مہینے میں قریباً ۳۰۰ گھنٹے تک اڑایا گیا حالانکہ امریکہ میں اس کی حد ۹۰ گھنٹے تک مقرر ہے۔

کم سے کم وقت میں سب کو نکالنا اولین ترجیح تھی۔

ڈگلس ڈی سی فور، کرٹس سی ۴۶ نامی جہازوں کی استطاعت اتنی نہیں تھی کہ اس قدر بڑا آپریشن کر سکیں اس لیے جہازوں کے ڈیزائن میں تبدیلیاں کی گئیں۔ ان میں اضافی ایندھن کی ٹینکیاں لگائی گئیں جبکہ سیٹوں کو تنگ کر کے جوڑا گیا اور اضافی بینچ بھی لگائے گئے۔ جس کے بعد زیادہ سے زیادہ ۵۰ مسافر لے جانے والا طیارہ ایک ۱۲۰ سے زائد مسافر لے جا سکتا تھا اور اضافی وزن کے باوجود بھی ایندھن زائد گھنٹوں تک کے لیے کام کرتا۔آپریشن میجک کارپٹ کو ’آپریشن آن ونگز آف ایگل‘ بھی کہا جاتا ہے۔ آپریشن مکمل ہونے کے کئی ماہ بعد دنیا کو اس کا علم ہوا۔

اسرائیل پہنچنے کے بعد کیا ہوا؟

منزل پر پہنچ جانے کے بعد بھی مسائل نے پیچھا نہیں چھوڑا  کیونکہ اسرائیل کو آزاد ہوئے تھوڑا عرصہ ہوا تھا اور اسے بے تحاشا مسائل کا سامنا تھا جن میں سب سے بڑا مسئلہ مالی وسائل کا تھا۔

ایسے میں بہت بڑی تعداد کے ملک میں پہنچنے سے صورت حال مزید گھمبیر ہو گئی۔ سب سے پہلے آنے والوں کو بڑے شہروں کے مضافات میں قائم کیے جانے ٹرانزٹ کیمپوں میں لے جایا گیا جہاں وہ چند ماہ تک قیام پذیر رہے۔

ان کی خوراک کا انتظام حکومت کی جانب سے کیا جا رہا تھا۔ صورت حال میں کچھ بہتری آنے پر ان کو زرعی علاقوں میں منتقل کر دیا گیا جہاں کچھ نے کھیتی باڑی شروع کی۔ معاشی صورت حال بہتر ہوتی گئی اور ان میں سے کئی دوسرے اور بڑے شہروں کی طرف منتقل ہو گئے۔

جہاں دیگر نسلوں کے یہودیوں نے انہیں خوش آمدید کہا اور زندگی کے ہر شعبے میں ان کو مواقع دیے گئے۔ پڑھائی لکھائی اور آگے بڑھنے کے بھرپور مواقع دیے گئے اور ووٹ کا حق بھی، اس طرح وہ جلد ہی گھل مل گئے اور شادی بیاہ کے رشتوں میں بھی بندھ گئے۔

دیگر آپریشنز

آپریشن میجک کارپٹ کی کامیابی کے بعد اسرائیلی حکومت نے دنیا کے دیگر حصوں سے بھی یہودیوں کو اسرائیل لانے کا منصوبہ بنایا اور بعد ازاں کئی آپریشنز ہوئے۔عراق سے ایک لاکھ بیس ہزار یہودیوں کو ایئرلفٹ کیا گیا یعنی جہازوں کے ذریعے اسرائیل لے جایا گیا۔ اسی طرح ۱۹۸۴ میں سوڈان کے مہاجر کیمپ میں موجود ۸۰۰۰ ایتھوپین یہودیوں کو اسرائیل لے جایا گیا۔ ۱۹۹۱ میں اسرائیلی جہازوں نے صرف ۳۶ گھنٹوں کے اندر ۱۵ ہزار ایتھوپین یہودیوں کو اسرائیل منتقل کیا۔ اس طرح چند سال کے عرصے میں قریباً ۱۰ لاکھ یہودی اسرائیل پہنچے۔چند سال قبل تک ایسی خبریں آتی رہی ہیں جن میں خفیہ طور پر یہودیوں کو اسرائیل منتقل کیا جاتا رہا ہے۔

اسرائیل کا ایک ادارہ رضاکارانہ طور پر اس حوالے سے اب بھی کام کر رہا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍۱۰۳