الازہر کے استاد کے ساتھ خیبر کی گفتگو؛

اسلام کے خلاف دشمن پلاننگ کرتے اور مسلمان اسے عملی جامہ پہناتے ہیں!




فلسطین کے محور پر اتحاد کا آغاز بھی میری نظر میں علم و دانش سے ہونا چاہیے؛ ہمارے دشمنوں نے اپنے بچوں کو تعلیم و تربیت کے ذریعے امت مسلمہ کی دشمنی پر تیار کیا ہے اور تاریخ کو اس طرح سے تحریف کیا ہے کہ ان کے ذہنوں میں یہی ہے کہ وہ اس سرزمین کے مالک ہیں۔



علاقے کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ نے مصر کی معروف یونیورسٹی کے عالم دین شیخ جواد ریاض سے گفتگو کی ہے جس کا ترجمہ حسب ذیل ہے؛
خیبر: حالیہ سالوں میں عالم اسلام کے اندر پائے جانے والے اختلافات اور تنازعات کی بنیادی وجہ کیا ہے؟ کیا یہ دشمنوں کی سازشوں کا نتیجہ ہے یا بعض علاقائی مزدور حکومتوں کی کارستانی ہے؟
اختلافات اور تنازعات کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دشمنوں نے اختلاف انگیز امور کہ جن کے ذریعے ایک دوسرے کی تکفیر کی جا سکتی ہے کو بہت پھیلا دیا ہے اور اسی وجہ سے بعض اوقات حالات اتنے کشیدہ ہو جاتے ہیں کہ انتہا پسندی اور قتل و غارت کی نوبت آجاتی ہے۔ دشمن اس سلسلے میں بے حد سرگرم ہے بغیر اس کے کہ مسلمان اس کی نقل و حرکت کی طرف متوجہ ہوں۔ دشمن پلاننگ اور منصوبہ بندی کرتے ہیں اور مسلمان بغیر دشمنوں کے سازشوں کا ادراک کئے ہوئے انہیں عملی جامہ پہناتے ہیں۔ یہ ایسے حال میں ہے کہ امت کا اتحاد در حقیقت اس کی طاقت اور شجاعت میں ہے۔
خیبر: دشمنوں اور صہیونیوں کے مقابلے میں مزاحمتی محاذ اور عالم اسلام کی طاقت اور توانائی کا کیا تجزیہ کرتے ہیں؟
عالم اسلام کی طاقتیں صرف علم و دانش کے ذریعے ارتقاء حاصل کر سکتی ہیں اور انسان کو چاہیے کہ اعلی منازل اور درجات حاصل کرنے کے لیے علمی تحقیقات انجام دے اور دانشگاہوں اور یونیورسٹیوں میں اعلی تعلیم حاصل کرے۔ جب دشمنوں نے ہمیں پیچھے ڈالنا چاہا تو ہمارے تعلیمی اداروں میں خرابیاں پیدا کیں۔ اسلامی اور عربی ممالک کے تعلیمی اداروں اور تعلیمی نصاب کی شکل بگاڑنے میں مغربی ہاتھوں کا کردار نمایاں ہے۔ تعلیم و تربیت امتوں کے قیام کا اہم ذریعہ ہے اور وہ ممالک پیچھے رہ جاتے ہیں جو علم ودانش کی دولت سے محروم ہوں۔ ہم نہیں چاہتے پیغمبر اکرم(ص) کی اس حدیث (غثاء كغثاء السيل(پانی پر پڑے ہوئے گھاس پھوس کے تنکے)) کا مصداق بنیں۔
خیبر: کیسے عالم اسلام کو فلسطین کے محور پر اکٹھا کیا جا سکتا ہے اور کیا ممکن ہے کہ فلسطین کی آزادی کے لیے ایک بین الاقوامی عسکری ونگ تشکیل دی جا سکے؟
فلسطین کے محور پر اتحاد کا آغاز بھی میری نظر میں علم و دانش سے ہونا چاہیے؛ ہمارے دشمنوں نے اپنے بچوں کو تعلیم و تربیت کے ذریعے امت مسلمہ کی دشمنی پر تیار کیا ہے اور تاریخ کو اس طرح سے تحریف کیا ہے کہ ان کے ذہنوں میں یہی ہے کہ وہ اس سرزمین کے مالک ہیں۔ امت مسلمہ کو بھی اس نکتہ کی طرف متوجہ رہنا چاہیے اور ابتدائی کلاسوں سے لے کر دانشگاہی مدارج تک مسئلہ فلسطین اور قدس شریف کے بارے میں معلومات کو نصاب میں شامل کرنا چاہیے انہیں یہ باور کروانا چاہیے کہ مسجد الاقصیٰ اور فلسطین ہمارا حق ہے تاکہ طلباء فارغ التحصیل ہونے کے بعد فلسطین کی آزادی کے لیے جد و جہد کر سکیں۔
لیکن اسلامی ممالک کے عہدیداروں اور حکمرانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے تمام اوزار اور ہتھیار بروئے کار لا کر مغربی سماج پر دباو بڑھائیں تاکہ وہ ہمارا حق واپس کریں اور ہماری سرزمین کو آزاد کریں۔
خیبر: کیا مصر ممکن ہے عالم اسلام کے اندر اپنے اصلی مقام و منزلت کو حاصل کر سکے اور ملک میں پائی جانے والی مشکلات حل کر سکے؟
مصر ایسا ملک ہے جو قدیم الایام سے اسلامی معاشرے کے اندر موثر کردار ادا کرتا رہا ہے بالخصوص فلسطین کے سلسلے میں اس کا کردار طول تاریخ میں ناقابل انکار ہے۔ موجودہ دور میں اس کردار کو مزید بڑھاوا دینے کے لیے اندرونی مشکلات کے حل کا محتاج ہے اور اسے چاہیے بہر صورت دوسرے ممالک سے تعلقات قائم کر کے کامیابی کی طرف قدم بڑھائے۔ اگر ہم سب یہ جان لیں کہ ہم یکساں نظام کے ماننے والے ہیں تو راہ حل بہت آسان ہو جاتا ہے۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے عبد الرزاق السنھوری نے پیش کش دی کہ عرب اقوام کا ایک ایسا گروہ تشکیل پائے جو اپنے ممالک میں قیام کرے اور بلندیوں کی اعلی ترین منازل طے کرے۔
خیبر: کیا اسلامی ممالک اپنی مشکلات کے حل اور موجودہ اختلافات کو مٹانے کے لیے مستقبل میں کوئی روشن منصوبہ رکھتے ہیں؟
ہمیشہ امید کا دامن تھامے رہنا چاہیے اور ہمارا دین بھی یہ نصیحت کرتا ہے، ہمیں اسی امید کے ساتھ جد و جہد کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے۔ گرچہ حال حاضر میں صورتحال بہت دشوار ہے، دشمن کمین لگائے بیٹھے ہیں اور معیشتی حالات ہمارے فائدے میں نہیں ہیں لیکن ان مسائل سے قطع نظر ہمیں اللہ کی طاقت پر بھروسہ ہونا چاہیے، ہم سے یہی مطالبہ کیا گیا ہے کہ ہم کوشش کریں اور اپنی نیتوں کی اصلاح کریں یقینا خداوند عالم نیک لوگوں کے ساتھ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/۱۰۳