بایگانی‌های مفکرین کا تعارف - خیبر

زمرہ: مفکرین کا تعارف

امریکی پروفیسر لیفٹن آرمیٹیج کا تعارف

ڈاکٹر آرمیٹیج کے ذہن میں ہمیشہ فلسطین کے مسائل الجھے رہتے ہیں کہ ’’اسرائیلی ہر آئے دن فلسطینیوں کے ساتھ کیا برتاؤ کرتے ہیں؟ سوائے قتل و غارت کے وہ فلسطینوں کے ساتھ کوئی دوسرا برتاؤ نہیں کرتے۔ یہ وہی کام ہے جو ہٹلر نے یہودیوں کے ساتھ کیا تھا‘‘۔

پروفیسر بٹینا اپتھیکر کا تعارف

اپتھیکر نے اسرائیلی نظام حکومت اور اس کی پالیسیوں کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کوشش کی ہے کہ UCSC یونیورسٹی کی فضا کو اسرائیل مخالف سرگرمیوں میں تبدیل کر دیں۔

پروفیسر ‘انیٹلی انٹن’ کا تعارف

ریڈیکل فلاسفی ایسوسی ایشن 'کیوبا' کی کمیونیسٹ حکومت کی حمایت جبکہ ریاست ہائے متحدہ کی جانب سے اسرائیل کو حاصل اقتصادی اور عسکری امداد کی مخالفت کرتی ہے اس لیے کہ ان امدادوں سے "مسلمان اقوام کی دشمنی" کی حمایت کا نتیجہ ظاہر ہوتا ہے۔

پروفیسر گِل اینیجر کا تعارف

پروفیسر گِل اینیجر جب کلاس روم میں صہیونیت کی بات کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ "جو بحث میں چھیڑنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ «بہت ضروری ہے کہ صہیونیت کی استعماریت اور بالخصوص لفظ "استعمار" پر تاکید کروں۔ اسرائیل مکمل طور پر ایک استعماری تنظیم اور ایک استعماری ریاست ہے جو قائم ہوچکی ہے"۔

پروفیسر لیزا اینڈرسن (Professor Lisa Anderson) کا تعارف

پروفیسر اینڈرسن نے ’دھشتگردی کے خلاف جنگ‘ کے بارے میں لکھتے ہوئے کہا کہ یہ صرف امریکہ کے پاس ایک بہانہ ہے کہ وہ دنیا میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے دوسرے ملکوں پر چڑھائی کرے ورنہ امریکہ خود ایک دھشتگرد ملک ہے

امریکی جامعات کے پاکستانی نژاد پروفیسر محمد شاہد عالم کا تعارف

محمد شاہد عالَم (Professor M. Shahid Alam) نے کاؤنٹر پنچ نامی دو ماہی رسالے میں اپنے دعوے کی یوں وکالت کی: "ممکن ہے کہ امریکیوں نے اپنی جنگ آزادی میں عام شہریوں کو نشانہ نہ بنایا ہو لیکن وہ جرائم کے مرتکب ضرور ہوئے اور عام اور نہتے شہریوں کو ضمنی طور پر نقصان پہنچایا"۔

صہیونیت مخالف پروفیسر “نورمین فینکلشٹائن” ( Norman Finkelstein) کا تعارف

اس مولف کے علمی کارناموں میں "ہولوکاسٹ انڈسٹری" (The Holocaust Industry) معروف ترین اور اہم ترین علمی کارنامہ ہے۔ فینکلشٹائن اس کتاب میں ہولوکاسٹ کے موضوع پر اپنی تحقیق کے مقصد کو بیان کرتے ہیں اور یہودی نسل کشی کو ایک انڈسٹری کے نام سے تعبیر کرتے ہیں۔

پروفیسر حامد الگر (Hamid Algar) ایک خطرناک پروفیسر!

پروفیسر الگر کا کہنا ہے کہ چونکہ سیاسی لحاظ سے کسی مذہب کے خلاف جنگ کرنا درست نہیں ہے لہذا مذہب کے ساتھ ایک صفت کا اضافہ کیا جائے تاکہ جنگ کا جواز فراہم کیا جا سکے؛ جیسے جنگ طلب اسلام، انتہا پسند اسلام، اسلامی دھشتگردی، بنیاد پرست اسلام اور سیاسی اسلام۔ امریکیوں نے ’’جنگ طلب اسلام‘‘ کو اپنا دشمن معین کیا ہے۔

’یسرائیل ڈیوڈ ویس‘ کی شخصیت کا تعارف

انہوں نے ایرانی اور عربی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے واضح اعلان کیا کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ممکنہ جنگ میں کبھی بھی صہیونی ریاست کی حمایت نہیں کریں گے۔

یہودی پروفیسر’’شلومو سینڈ‘‘(Shlomo Sand)

شلومو سینڈ کا یہودیوں اور سرزمین مقدس کے درمیان تعلق کے بارے میں کہنا ہے: ’’میں نہیں سمجھتا کہ ایک سرزمین سے مذہبی لگاؤ، اس کے تاریخی حق کا جواز فراہم کر دے‘‘۔
عنوان 1 سے 3123 »