آل سعود کی نئی شکست، اس بار ملائیشیا میں - خیبر

آل سعود کی نئی شکست، اس بار ملائیشیا میں

11 مئی 2018 11:04
نجيب-رزاق-والجبير/خیبر

ملائشیا کے انتخابات میں سابق وزیر اعظم نجیب رزاق کو آل سعود کی حمایت حاصل تھی جنہیں ان انتخابات میں بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا اور مخالف الائنس کو مکمل کامیابی حاصل ہوئی۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: اس ہفتے ملائشیا میں عام پارلیمانی انتخابات کا انعقاد کیا گیا، سابق وزیر اعظم “نجیب رزاق” جن کا مسلسل ریاض آنا جانا رہتا تھا اور سابقہ انتخابات میں آل سعود سے رشوت لے چکے تھے، کو بھاری شکست ہوئی اور ملائشیا کے کہنہ مشق سیاستدان مہاتیر محمد کی قیادت میں قائم اتحاد نے پارلیمان کی سب سے زیادہ نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی۔
ملائشیا میں منعقدہ مئی ۲۰۱۸ کے پارلیمانی انتخابات میں مہاتیر محمد کی قیادت میں قائم اتحاد نے ایک بےمثل واقعے کو رقم کیا اور ۱۲۱ نشستیں حاصل کرکے ملائشیا کی برسراقتدار جماعت کی ساٹھ برسوں پر محیط طویل حکمرانی کا خاتمہ کردیا۔ ان کا مقابلہ ۱۹۶۴ سے ملائشیا کے برسر اقتدار اتحاد “قومی محاذ اتحاد” (National Front coalition) سے تھا جس کو اس بار پارلیمان میں ۷۹ نشستیں ملی ہیں۔ اس اتحاد نے ۲۰۱۳ کے عام انتخابات میں آل سعود کے پیٹروڈالرز کی مدد سے ۱۳۳ نشستیں حاصل کی تھیں۔
۲۰۱۳ کے انتخابات کے بعد سابق وزیر اعظم، اور قومی محاذ اتحاد کے سربراہ نجیب رزاق پر ملائشیا کی ریاستی تزویراتی ترقی کے لئے مختص فنڈ “۱MDB” میں ۷۰۰ ملین (ستر کروڑ) ڈالر کے غبن کا الزام لگا جبکہ نجیب رزاق کا دعوی تھا کہ متعلقہ دستاویزات جعلی ہیں۔ ان دستاویزات کے مطابق، ۲۰۱۳ کے دوران نیز انتخابی مہم کے دوران دو بڑے سودوں کے بعد مبلغ ۶۲۰ ملین ڈالرز اور بعد از آں ۶۱ ملین ڈالر کی رقم نجیب رزاق کے اکاؤنٹ میں جمع کرائی گئی تھی اور یہ رقومات آل سعود کی طرف سے رشوت کے طور پر انہیں دی گئی تھیں۔ یہ نجیب رزاق کے لئے بڑی مالی رسوائی تھی جو سعودی رشوت کے نام سے مشہور ہوئی اور ۲۰۱۶ میں ملا‏ئشیا کے عوام اور سیاسی جماعتوں کے غیظ و غضب نیز ہزاروں افراد کے مسلسل مظاہروں پر منتج ہوئی۔
نجیب رزاق کی وزارت عظمی کے دور میں ملائشیا کے اعلی حکام دائما سعودی یاترا میں مصروف رہے اور کوالالمپور اور ریاض کے درمیان مسلسل سفر کیا کرتے تھے اور ایک بار تو ملائشیا کے وزیر دفاع نے ـ یمنی عوام پر سعودی فضائی حملوں کے کچھ ہی دن بعد ـ ریاض کا دورہ کرکے وہاں کے فوجی اور سیکورٹی حکام سے بات چیت کی اور ضمنی طور پر ان حملوں کی حمایت کی۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ سعودی نجیب رزاق کو مالی امداد فراہم کرتے تھے اور ملائشیا کو خارجہ پالیسی کے حوالے سے ڈکٹیشن دیتے تھے۔ سنہ ۲۰۱۷ میں سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز ملائشیا کے چار روزہ دورہ ملائشیا کے دوران، دو ملکوں نے مشترکہ بیانیہ جاری کیا جس میں ایران کے خلاف کچھ دعوے بھی کئے گئے اور ملا‏‏ئشیا نے سعودیوں کے پہلو میں کھڑے ہوکر ایران پر دوسرے ملکوں میں مداخلت کا الزام لگایا۔
نجیب رزاق کی بدعنوانیوں کی خبریں عام ہوئیں اور معلوم ہوا کہ سابق وزیر اعظم نے سعودیوں سے بھاری رشوت لی ہے تو اس ملک کے کہنہ مشق سیاستدان ـ اور ملیشیا کے شاندار دور کے وزیر اعظم ـ ۹۲ سالہ ڈاکٹر مہاتیر محمد ایک بار پھر میدان سیاست میں اترے۔ انھوں نے حزب اختلاف کی الائنس کی قیادت سنبھالی اور انتخابات میں کامیاب ہوئے۔
مہاتیر محمد ۱۹۲۵ میں پیدا ہوئے ہیں اور طب کے شعبے کے فارغ التحصیل ہیں۔ وہ ۱۹۸۱ سے ۲۰۰۳ تک ـ ملائشیا کے سنہری دور میں ـ اس ملک کے وزیر اعظم تھے اور انھوں نے اس ملک میں جدت لانے میں اہم کردار ادا کیا یہاں تک کہ جب کوئی ملائشیا کے بارے میں بات کرتا ہے تو اس ملک کی تاریخ کو تین حصوں میں زیر بحث لانا پڑتا ہے: مہاتیر سے قبل کا دور، مہاتیر کا دور اور مہاتیر کے بعد کا دور۔
مہاتیر محمد کے دور میں ملائشیا کی معاشی ترقی ۱۰ فیصد تک پہنچی، زندگی کا معیار کئی گنا بہتر ہؤا، ملک میں غربت کو کم کیا گیا، ناخواندگی اور بچوں کی موت کی شرح گھٹا دی گئی، نیز فلاح و بہبود کی شرح مہاتیر دور کی حصولیابیوں میں شامل ہیں۔ وہ اپنے دور میں کئی مرتبہ ایران کے دورے پر آئے اور ایران کو انسانی تہذیب کا سرخیل قرار دیا۔

منبع: http://www.farsnews.com/news/13970220000722

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/گ/ت/۴۰۲/ ۱۰۰۰۱

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=2634

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے