اردن کی جگہ جعلی فلسطینی ریاست کا قیام، نئی امریکی سازش - خیبر

اردن کی جگہ جعلی فلسطینی ریاست کا قیام، نئی امریکی سازش

03 نومبر 2018 10:18

حقیقت یہ ہے کہ “صدی کی ڈیل” فلسطین کا موضوع بنیادی طور پر ختم کر دینے کی ایک گہری سازش ہے جس کے نتیجے میں اردن تقریباً مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا اور اس کی جگہ “فلسطین” نامی ایک نئی جعلی ریاست قائم کر دی جائے گی۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، اگر گذشتہ ایک سال کے دوران “اسرائیلی رژیم کے مسئلے کے حل” سے متعلق شائع ہونے والی خبروں کا بغور جائزہ لیں تو ایک “طے شدہ منصوبہ” دکھائی دے گا اور یہ خبریں اسی منصوبے کا حصہ نظر آئیں گی۔ البتہ ساتھ ہی یہ سوال بھی جنم لے گا کہ کیا یہ منصوبہ کامیابی سے ہمکنار بھی ہو گا یا نہیں؟ اس سال کی خبروں پر مل کر نظر ڈالتے ہیں:

امریکی سفارتخانے کی تل ابیب سے بیت المقدس منتقلی، اسرائیلی پارلیمنٹ کینسٹ میں فلسطین کو مکمل طور پر اور ہمیشہ کیلئے یہودیانے پر مبنی بل کی منظوری، مصر کی جانب سے سعودی عرب کو صنافیر اور تیران نامی جزائر دے دینا جنہیں اس سے پہلے اسرائیل کیمپ ڈیوڈ معاہدے کی رو سے اپنی ملکیت قرار دیتا تھا، اردن کے فرمانروا ملک عبداللہ کی جانب سے “صدی کی ڈیل” کی مخالفت اور استنبول میں منعقدہ “فلسطین کے حتمی دارالحکومت کے طور پر قدس شریف کا دفاع” کانفرنس میں شرکت کے بعد اسرائیل اور اردن کے تعلقات میں کشیدگی، مصر کے صدر جنرل السیسی کی جانب سے صدی کی ڈیل میں موثر کردار ادا کرنے سے کترانے کے بعد عرب دنیا کی جانب سے مصر کا بائیکاٹ اور مغربی ممالک کی بے رخی، امریکہ کی جانب سے فائیو پلس ون اور ایران کے درمیان جوہری معاہدے سے یکطرفہ طور پر دستبرداری اور ایران پر مزید نئی اور شدید پابندیوں کا آغاز اور اس موقف کا اظہار کہ ایران کے پاس موجود تمام انرجی کے ذخائر فلسطین کے اہم ترین اور موثر ترین حامی ہیں، ۵۰ سال خفیہ تعلقات کے بعد اسرائیل اور عمان کے درمیان اعلانیہ طور پر سفارتی تعلقات کا قیام، اسرائیل کے وزیر کھیل کا دورہ ابوظہبی اور دونوں ممالک میں تعلقات کی توسیع پر زور، اسرائیل کی کھیل کی وزارت کے ایک وفد کا دورہ بحرین جس کا مقصد منامہ اور تل ابیب میں تعلقات کو منظرعام پر لانا تھا، سعودی عرب کی جانب سے کچھ حد تک صدی کی ڈیل نامی امریکی منصوبے سے پیچھے ہٹ جانے کے بعد سعودی حکومت کا صحافی جمال خاشقجی کے قتل پر مبنی بحران سے روبرو ہونا جو ماضی میں دہشت گرد گروہوں کی تشکیل اور فوجی مدد کیلئے امریکہ اور سعودی عرب کے مشترکہ ایجنٹ رہ چکے تھے۔

درحقیقت ہم نے اسرائیل کی جانب سے تین عرب ممالک کے ساتھ انجام پانے والے جن سفارتی اقدامات کا مشاہدہ کیا ہے اور دیکھا ہے کہ ان کے بارے میں وسیع سطح پر میڈیا پروپیگنڈہ بھی کیا گیا، وہ خطے میں جاری تبدیلیوں اور واقعات کی آڑ میں ایک درپردہ سازش کو ظاہر کرتے ہیں جس کے مختلف پہلووں کو اجاگر کرنے اور اس کے ممکنہ نتائج کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ اس بارے میں چند اہم نکات درج ذیل ہیں:

۱)۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے خطے میں مغرب کیلئے “مسئلہ اسرائیل کے حل” سے زیادہ اور کوئی اہم مسئلہ نہیں پایا جاتا۔ اس کی دو بڑی وجوہات ہیں؛ ایک امریکہ اور یورپی ممالک میں یہودی لابی کا شدید اثرورسوخ اور دوسرا امریکہ اور مغربی ممالک کا یہ خوف کہ کہیں مسلمان اسلامی خطے میں مغربی تسلط کی علامت اسرائیل پر غالب نہ آ جائیں۔ لہذا گذشتہ تقریباً چالیس برس کے دوران، جب سے اسرائیل کی موجودیت متنازعہ بنی ہے، مغربی طاقتوں نے کئی منصوبے تشکیل دیئے اور انہیں جامہ عمل پہنانے کی کوشش کی جس کا نتیجہ آج تک اسرائیل کے تسلسل اور بقا کی صورت میں ظاہر ہوا ہے لیکن وہ یہ مسئلہ مکمل طور پر حل نہ کر سکے۔ گذشتہ دس سال کے دوران رونما ہونے والے حالات نے ثابت کر دیا کہ ہمارا خطہ کچھ ایسی بنیادی تبدیلیوں کا گہوارہ بننے والا ہے جو مغرب کے حق میں نہیں لہذا مغربی طاقتیں اور ان کی پٹھو عرب حکومتیں شدید پریشانی کا شکار ہو گئیں۔ اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ اسرائیل کیلئے ایک نیا راہ حل پیش کیا جو “صدی کی ڈیل” کے نام سے معروف ہے۔ اس منصوبے کے اجرا کیلئے مقدمات فراہم کرنے کی ذمہ داری ٹرمپ کے داماد اور خصوصی مشیر جیرالڈ کشنر کو سونپ دی گئی۔ لیکن صدی کی ڈیل نامی منصوبہ ہے کیا؟

۲)۔ “صدی کی ڈیل” جسے عربی زبان میں “صفقۃ القرن” کہا جاتا ہے کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن ہے۔ امریکی حکام کا دعوی ہے کہ وہ عرب خطے میں خلیج عقبہ کی مرکزیت میں ایک بہت بڑا ٹریڈ زون تشکیل دینا چاہتے ہیں جس کا مقصد امریکہ کے اتحادی فقیر عرب ممالک سے غربت کا خاتمہ اور اس خطے میں گذشتہ چند عشروں سے متزلزل سکیورٹی اور سیاسی استحکام واپس لوٹانا ہے۔ اس منصوبے کے تحت مصر، اردن، سعودی عرب، فلسطینی اور اسرائیل ایک نئی اقتصادی، سکیورٹی اور سیاسی صورتحال پا لیں گے اور سب “عظیم فائدے” سے بہرہ مند ہوں گے۔ مثال کے طور پر اس منصوبے کے مطابق مصر کو سالانہ کم از کم ۱۰۰ ارب ڈالر کا نفع ہو گا، اردن سالانہ ۴۰ ارب ڈالر جبکہ فلسطینی سالانہ ۲۰ ارب ڈالر کے نفع سے برخوردار ہوں گے۔ اس وقت مصر اپنی مشکلات پر قابو پانے کیلئے ۷ یا ۸ ارب ڈالر کا محتاج ہے جبکہ اردن ایک دو ارب ڈالر تک دریافت کرنے پر ہی قانع ہے اور فلسطینیوں کے سالانہ اخراجات بھی دو یا تین ارب ڈالر سے تجاوز نہیں کرتے۔ اس بنیاد پر امریکی حکام امیدوار ہیں کہ مذکورہ بالا سالانہ نفع کی خاطر خطے کے ممالک اس منصوبے پر اتفاق رائے کریں گے۔

امریکہ اس منصوبے پر ۲۰۰۰ ارب ڈالر سرمایہ کاری کا ارادہ ظاہر کر چکا ہے اور اس ضمن میں سعودی عرب اور قطر سے مطلوبہ مالی ذرائع فراہم کرنے کی توقع رکھتا ہے۔ گذشتہ دو سالوں میں امریکہ نے جیرالڈ کشنر کے ذریعے خطے کے ممالک کی جانب سے اس منصوبے کو قبول کرنے کیلئے بھرپور کوشش کی ہے لیکن موصولہ خبروں سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے اس بارے میں کوئی بڑی کامیابی نصیب نہیں ہو سکی۔ سعودی حکام اتنے بڑے پیمانے پر مالی سپورٹ فراہم کرنے کیلئے تیار نہیں کیونکہ یہ رقم ان کے کل زرمبادلہ ذخائر کا پچاس فیصد ہے جبکہ اردنی اور مصری حکام بھی خود کو دیئے گئے وعدوں سے زیادہ امیدوار دکھائی نہیں دیتے۔ اسرائیل نے مصری حکام کو اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ وہ صنافیر اور تیران جزیروں سے دستبردار ہونے کیلئے تیار ہے اور سعودی عرب کو بھی یہ جزیرے مصر سے خریدنے کی اجازت دی ہے تاکہ سعودی عرب اور مصر کو یہ منصوبہ قبول کرنے کیلئے راضی کر سکے۔ مصر کے صدر السیسی نے شک و تردید کی حالت میں اس منصوبے میں امریکہ کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ طے پایا ہے کہ سعودی عرب بدلے میں مصر کو ۱۰۰ ارب ڈالر امداد فراہم کرے گا لیکن اب تک اس ضمن میں مصر کو کوئی ادائیگی نہیں کی گئی۔ اسی وجہ سے مصری حکام نے جیرالڈ کشنر کے حالیہ دورے میں بہت سرد مزاجی کا مظاہرہ کیا اور مصری وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ امریکی منصوبے کے تحت فلسطین کی قربانی کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ “صدی کی ڈیل” فلسطین کا موضوع بنیادی طور پر ختم کر دینے کی ایک گہری سازش ہے۔ اس منصوبے کے نتیجے میں اردن تقریباً مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا اور اس کی جگہ “فلسطین” نامی ایک نئی جعلی ریاست قائم کر دی جائے گی۔ دوسرے الفاظ میں فلسطین فلسطین میں ہی محو ہو جائے گا اور ایک جعلی ریاست میں تبدیل ہو جائے گا۔ اسی طرح صدی کی ڈیل نامی منصوبے کے نتیجے میں صحرائے سینا کا بڑا حصہ مصر سے علیحدہ کر دیا جائے گا اور اسے جعلی فلسطین اور جعلی اسرائیل کے درمیان تقسیم کر دیا جائے گا۔ آخرکار اسرائیل، مصر، سعودی عرب، اور فلسطین کے درمیان ایک مشترکہ سکیورٹی تنظیم تشکیل دی جائے گی جس کا مقصد مغربی طاقتوں کی مدد سے خطے میں مغرب مخالف گروہوں یعنی اسلامی مزاحمتی گروہوں سے جنگ کرنا ہو گا۔ امریکہ جو اب بھی مسلم ممالک میں دہشت گردانہ اقدامات کیلئے کرائے کے قاتلوں اور دہشت گرد گروہوں کو استعمال کر رہا ہے درحقیقت اس منصوبے کے تحت خطے میں ایک ایسا مضبوط سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی سیٹ اپ تشکیل دینا چاہتا ہے جس کا مقصد خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ کرنا ہو۔ لیکن سوال یہ ہے کہ امریکہ جو اس سے کہیں چھوٹی سازشوں اور منصوبوں میں ناکامی کا شکار ہو چکا ہے کس طرح اس عظیم منصوبے کو کامیابی سے جامہ عمل پہنا سکتا ہے؟

۳)۔ موجودہ حالات اور شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ جن ممالک کو اس منصوبے میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے اگرچہ وہ کافی حد تک اختیار نہیں رکھتے لیکن اس کے باوجود انہوں نے اس منصوبے کا اچھے انداز میں خیر مقدم نہیں کیا لہذا ہم اس وقت مغربی طاقتوں کی جانب سے تین ممالک سعودی عرب، اردن اور مصر پر دباو کا مشاہدہ کر رہے ہیں جو اس منصوبے کے بنیادی رکن تصور کئے جاتے ہیں۔ لیکن اس دباو کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور حالیہ دنوں میں ہی “جماعت علمائے سعودی عرب” کی طرف سے ایک اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے دورہ عمان اور اسرائیلی وزیر کھیل کے دورہ ابوظہبی اور اسرائیل سے عرب ممالک کے تعلقات کی مذمت کی گئی ہے۔ اسرائیلی حکام کے یہ دورے صدی کی ڈیل میں شامل بنیادی عرب رکن ممالک (سعودی عرب، مصر، اردن) میں نہیں بلکہ تین دیگر ایسے رکن ممالک (عمان، متحدہ عرب امارات، بحرین) میں انجام پائے ہیں جو اس منصوبے کے زیادہ موثر اراکین تصور نہیں کئے جاتے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ امریکی منصوبہ شدید مشکلات کا شکار ہو چکا ہے۔

۴)۔ خطے میں اسرائیل کی پوزیشن مضبوط بنانے اور مغربی ایشیا میں اپنا اثرورسوخ اور تسلط بڑھانے کی خاطر جاری امریکی پالیسیاں اور منصوبے بہت زیادہ رکاوٹوں سے روبرو ہیں۔ ان میں سے بعض رکاوٹیں درج ذیل ہیں:
i)۔ صدی کی ڈیل نامی منصوبے کا بنیادی مقصد اسرائیل کو مضبوط بنانا ہے لہذا یہ منصوبہ “اسرائیل محور” ہے۔ دوسری طرف مصر، سعودی عرب، اردن اور دیگر عرب حکومتیں اگرچہ مغرب نواز ہیں اور ان پر مغربی ممالک کا اثرورسوخ ہے لیکن وہ اپنی عوام میں اسرائیل کی شدید نفرت اور مخالفت سے بخوبی آگاہ ہیں۔ کسی کو اس بات میں شک نہیں کہ اسرائیل عرب دنیا میں سو فیصد منفور ہے اور اگر کوئی عرب حکومت اس امریکی منصوبے کا حصہ بنتی ہے تو اس کا زوال ایک یقینی امر ہے۔

ii)۔ عرب ممالک کو اسرائیل سے امن مذاکرات کا اچھا تجربہ نہیں اور اس بارے میں ان کی ذہنیت منفی ہے۔ عرب حکومتیں اور عوام فطری طور پر امریکہ سے یہ سوال کرتی نظر آتی ہیں کہ ان چالیس سالوں میں تم نے اسرائیل سے امن کا جو منصوبہ پیش کیا ہم نے اسے چپ چاپ قبول کر لیا لیکن امن کا قیام کیوں عمل میں نہیں آیا؟ فلسطینیوں کے حقوق اور تحفظ کہاں ہے؟ کیمپ ڈیوڈ، وادی عربہ، چار طرفہ کمیٹی، میڈریڈ مذاکرات، اوسلو مذاکرات اور مری لینڈ مذاکرات میں کئے گئے وعدوں کا کیا بنا؟ خاص طور پر امریکہ نے اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ صدی کی ڈیل نامی منصوبے کے ذریعے اس نے درحقیقت عرب باشندوں کے یقینی حقوق کو بھی بالائے طاق رکھ دیا ہے۔

iii)۔ ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ عرب ممالک کو امریکہ پر یقین نہیں کہ وہ اپنے پیش کردہ منصوبے کو مکمل انداز میں عملی جامہ پہنا سکتا ہے۔ ماضی کے تجربات خاص طور پر ۲۰۰۳ء میں عراق کے خلاف امریکی فوجی جارحیت کی روشنی میں عرب حکام کا خیال ہے کہ امریکہ عمل کے میدان میں ایسے اقدامات انجام دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا جن کے وہ باتوں میں دعوے کرتا نظر آتا ہے۔ نتیجتاً امریکہ کے کمزور اقدامات کا بھاری تاوان اس کے اتحادی ممالک کو ادا کرنا پڑتا ہے۔ ابھی چند سال پہلے ہی مصر کے سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک نے اپنی سرنگونی کے بعد سابق سعودی فرمانروا ملک عبداللہ کو خط لکھا جس میں کہا: “امریکی حکام کی باتوں پر عمل پیرا ہونے کا نتیجہ نابودی اور ذلت کے سوا کچھ نہیں۔”

iv)۔ عرب حکام اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ امریکی منصوبوں کی بنیاد مطلوبہ سکیورٹی صورتحال پیدا کرنے کے نام پر خطے کے ممالک کی سکیورٹی صورتحال خراب کرنے پر استوار ہے۔ اس بارے میں امریکہ سے تعلقات کے حامل خطے کے ممالک کی تاریخ تلخ تجربات سے بھری پڑی ہے۔ جرج بش کے پہلے دور صدارت میں امریکی حکام نے “نیو مڈل ایسٹ” نامی منصوبہ پیش کیا جس کا نتیجہ خطے میں کئی جنگوں کی صورت میں ظاہر ہوا اور اس کے تمام نقصانات عرب حکومتوں کو بھگتنا پڑ گئے۔ دوسری طرف خطے میں عرب حکومتوں کی پوزیشن بھی بہت کمزور ہو گئی۔ لہذا عرب ممالک ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ صدی کی ڈیل نامی منصوبے کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ مسئلہ فلسطین جیسے اہم مسئلے کا حل اس انداز میں نہیں ہو سکتا جو ڈونلڈ ٹرمپ نے اختیار کر رکھا ہے۔

دوسری طرف اردن کسی قیمت پر اپنی سرزمین فلسطینیوں کو دینے پر راضی نہیں۔ چند دن پہلے اردن کے بادشاہ ملک عبداللہ نے اعلان کیا کہ وہ اسرائیل کو کرائے پر دیئے گئے دو اردنی قصبوں کو مزید کرائے پر نہیں دیں گے اور اس بارے میں اسرائیل سے دوبارہ ڈیل نہیں کریں گے۔ اسی طرح فلسطینی بھی کسی قیمت پر اپنی آبائی سرزمینیں چھوڑ کر کہیں اور آباد ہونے کیلئے تیار نظر نہیں آتے۔ مصر کے صدر السیسی بھی صحرائے سینا کا ایک حصہ اسرائیل یا فلسطین کو دینے پر تیار نہیں کیونکہ اس کا نتیجہ مصر میں سیاسی عدم استحکام کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ سعودی حکام بھی خطے میں اپنی عزت اور اثرورسوخ چار سالہ امریکی صدر کے وہم پرستانہ منصوبے کی خاطر قربان کرنے پر تیار نہیں۔

v)۔ صدی کی ڈیل میں شامل عرب ممالک کا خیال ہے کہ خطے میں بدامنی اور عدم استحکام کا فائدہ صرف ایران کو ہو رہا ہے۔ عرب ممالک نے واضح طور پر کہا ہے کہ ایران اپنے خلاف ہونے والی سازشوں کا بہت اچھی طرح مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور خود کو درپیش خطروں کو اپنے لئے بہترین مواقع میں تبدیل کر لیتا ہے۔

ڈاکٹر سعد اللہ زارعی

اسلام ٹائمز

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/ت/۱۰۰۰۳

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=14155

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے