اسرائیلی تجزیہ نگاروں کی نظر میں ’’حق واپسی‘‘ تحریک کے اہداف و مقاصد - خیبر

اسرائیلی تجزیہ نگاروں کی نظر میں ’’حق واپسی‘‘ تحریک کے اہداف و مقاصد

06 مئی 2018 14:26
حق واپسی تحریک/خیبر

فلسطینیوں کی تحریک حق واپسی کے دو بنیادی اہداف ہیں: پہلا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی “صدی کی ڈیل” سازش کو ناکام بنانا اور دوسرا عرب ممالک اور صہیونی ریاست کے درمیان قربتیں پیدا کرنے کی کوششوں کو روکنا۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: اسرائیلی تجزیہ نگار برائے اطلاعات و سلامتی ’یونین بن مناحیم‘ نے فلسطینیوں کی تحریک ’حق واپسی‘ کے سات اہداف و مقاصد ذکر کئے ہیں۔
صہیونی تجزیہ نگار نے عبرانی ٹی وی چینل ۱۰ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام نے احتجاج اور انتفاضہ کی ماضی کی روایات سے ہٹ کر ایک نئی طرح ڈالی ہے جس کے دو بنیادی اہداف ہیں: پہلا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی “صدی کی ڈیل” سازش کو ناکام بنانا اور دوسرا عرب ممالک اور صہیونی ریاست کے درمیان قربتیں پیدا کرنے کی کوششوں کو روکنا۔
انہوں نے تیس مارچ کے بعد فلسطینیوں کے یوم الارض مظاہروں کو کامیاب مظاہرے قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی شہری ہرآنے والے دن اپنی اس تحریک کا دائرہ اندرون اور بیرون ملک وسیع کررہے ہیں۔
اسرائیلی دانشور کا کہنا ہے فلسطینی پرامن احتجاجی تحریک سے جو مقاصد حاصل کریں گے وہ دوسرے ذرائع سے شاید نہ کرسکیں۔ اس حوالے سے فلسطینیوں کی اس پرامن جدو جہد کے سات مقاصد ہوسکتے ہیں۔
پہلا مقصد یہ ہے کہ حق واپسی فلسطینیوں کا اہم ترین مطالبہ ہے جو کہ علاقائی اور عالمی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ اس طرح یہ مطالبہ ایک بار پھر عالمی سطح پر ابھرے گا اور عالمی برادری اس کی طرف متوجہ ہوگی۔
دوسرا مقصد اسرائیل کو عالمی سطح پر مشکل میں ڈالنا اور اسے شرمندہ کرنا ہے۔
اسرائیلی فوج نے ۳۰مارچ کو فلسطینیوں کے پرامن جلوسوں پر حملہ کرکے ۲۲ مظاہرین کو شہید اور ۱۵۰۰ کو زخمی کردیا۔ یہ سب ایک ہی دن میں ہوگیا۔ اسرائیلی فوج کی اس بربریت کو پوری دنیا میں ابھی تک تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا کہ دوسرے جمعہ کو پھر وہی اتفاق رونما ہوا ہے اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں ۱۰ فلسطینی شہید اور ایک ہزار کے سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب اسرائیل کی نسبت عالمی سطح پر مزید نفرتوں میں اضافہ ہو گا اور دنیا اور شدت سے اسے تنقید کا نشانہ بنائے گی۔
تیسرا اہم مقصد یہ حاصل ہوگا کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی طرف سے مسلط کردہ محاصرہ اور انسانی بحران ایک بار پھر سامنے آئے گا۔
چوتھا مقصد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدی کی ڈیل کے سامنے رکاوٹ کھڑی ہوگی اور اسے اتنا آسانی سے عملی جامہ نہیں پہنایا جاسکے گا۔
پانچواں یہ کہ غزہ کی مشرقی، جنوبی اور شمالی سرحد پر اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں کے درمیان کشیدگی قائم رہے گی اور اسرائیلی فوج مسلسل الجھی رہے گی اور اسرائیل کی سالمیت کو ہمیشہ خطرہ لاحق رہے گا۔
چھٹا مقصد یہ کہ فلسطینی قوم میں آزادی کے لیے مزید جدو جہد کرنے اور عالم اسلام کو بیدار کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔
ساتواں مقصد فلسطینی اتھارٹی کو غزہ کے عوام کے خلاف مزید انتقامی کارروائیوں سے روکا جاسکے گا۔
اسرائیلی دانشور مناحیم کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کی یہ تزویراتی حکمت عملی تاہم کامیابی سے ہمکنار ہے اور اسرائیلی ہتھکنڈے اس کے سامنے ناکام ہوتے جا رہے ہیں۔

منبع: جاثیہ تجزیاتی ویب سائٹ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/ت/ب/۱۰۰۰۳

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=2201

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے