اسرائیلی جہاز اسلام آباد آیا ضرور تھا لیکن واپس گیا نہیں - خیبر

اسرائیلی جہاز اسلام آباد آیا ضرور تھا لیکن واپس گیا نہیں

14 نومبر 2018 20:08

تمام پاکستانیوں کے دل فلسطین کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور میں کم از کم اپنی ملت کے نمائندگی کرتے ہوئے ملت فلسطین کو ایک بات کی یقین دہانی کروانا چاہتا ہوں کہ جس وقت تک سرزمین پاکستان پر ایک بھی شیعہ باقی ہے اس وقت تک اسرائیل کو قبول نہیں کرنے دیں گے.

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: آج کے دن کو پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ آج جمہوری ابلیسوں نے پہلی مرتبہ اس قدر بے شرمی سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بات کی ہے کہ ملت پاکستان سکتہ کی حالت میں ہے، اب چونکہ نیا پاکستان بن چکا ہے اور نئے پاکستان کے قائد پہلے بھی چند سکوں کے عوض مظلومین یمن کا خون بیچ آئے ہیں ان سے کچھ بعید نہیں کہ اگر اسرائیل سے اچھا فضلہ ملنے کی آفر آجائے جو کہ آ چکی ہے تو مظلومین فلسطین کا خون بھی بیچ دیں.

قائداعظم نے ۱۹۴۸ میں ہی اسرائیل کے متعلق پاکستان کا موقف واضح کردیا تھا کہ اس غیر قانونی ریاست کو پاکستان کبھی قبول نہیں کرے گا لیکن افسوس کے آج کل چند نام نہاد صحافی و جمہوری شخصیات مسلسل اسرائیل کو خوش کرنے کے درپے ہیں جس کا عملی ثبوت آج پارلیمنٹ میں ایک نہایت ہی جاہل رکن اسمبلی نے اپنی خطابت کے دوران دیا، اور درود ابراھیمی و قبلہ بدلنے والے واقعہ کی غلط تفسیر کی اور رسول اکرم کو بنی اسرائیل سے قرار دے دیا.

یوں تو یہودیت جھوٹوں کا ایک پلندہ ہے، لیکن یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ ہماری دشمنی پورے یہودی مذہب سے نہیں صرف ان شیطان پرست صیہونیوں سے ہے جو فلسطین پر قابض ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اسرائیل مخالف یہودی آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہیں.
ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفیٰ(ص) بنی اسماعیل میں سے ہیں جبکہ بنی اسرائیل حضرت اسحاق علیہ السلام کی اولاد سے ہیں(حضرت یعقوب جو حضرت اسحاق کے بیٹے ہیں ان کا لقب اسرائیل تھا) اور جب درود میں آل ابراھیم پر درود بھیجا جاتا ہے تو وہ بنی اسحاق و بنی اسماعیل کے انبیاء و اولیاء پر بھیجا جاتا ہے ( یہ ایک الگ بحث ہے جس کے لیے لفظ “آل” کی تفسیر میں جانا پڑے گا) نہ کے ان باغی و سرکش یہودیوں پر جو انبیاء کے قاتل ہیں اور جو ہمارے رسول اکرم کے دشمن تھے جن پر خدا نے جگہ جگہ قرآن میں لعنت کی ہے اور ہمیں سبق دیا ہے کہ ان کی طرح نہ بن جانا.
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
“اور (آخرکار) ذلت (ورسوائی) اور محتاجی (وبے نوائی) ان سے چمٹا دی گئی اور وہ الله کے غضب میں گرفتار ہو گئے۔ یہ اس لیے کہ وہ الله کی آیتوں سے انکار کرتے تھے اور (اس کے) نبیوں کو ناحق قتل کر دیتے تھے۔ (یعنی) یہ اس لیے کہ یہ سب نافرمان تھے اور ظلم کیا کرتے تھے.” (سورت البقرہ آیت ۶۱)

اب خدا ہمیں ایک دستور بنا کر دیتا ہے کہ ہمارا رویہ ان کے ساتھ کیسا ہو جس کے متعلق ارشاد ہے کہ
“یہود و نصاریٰ آپ سے اس وقت راضی نہ ہوں گے جب تک آپ ان کی ملت نہ اختیار کرلیں.” (البقرہ آیت ۱۲۰).
اس ہی طرح سینکڑوں مزید آیتیں ہیں بنی اسرائیل کی مزمت پر.

ان صاحبہ کے اس موضوع پر بات کرنے کے دو ممکنہ پہلو ہو سکتے ہیں یا تو یہ تقریر کامل جہالت میں کی گئی جس کا مقصد صرف شہرت تھا، لیکن یہ پہلو بہت کمزور ہے کیونکہ اسرائیل و یہودیوں کا ذکر بلاوجہ نہیں کیا جاتا کروایا جاتا ہے.
جبکہ دوسرا پہلو یہ ہے کہ پاکستان کے اندر اسرائیل کو تسلیم کرنے کی تیاریاں شروع ہوچکی ہیں اور یہ اس ہی شیطانی منصوبے کی تکمیل کا ایک حصہ ہے.

صہیونیوں کا طریقہ واردات ہر ملک کے لیے یکساں ہے پہلے اس ملک کے معاشی حالات کو ابتر بنا کر اور اس ملک میں ہر ممکنہ بحران پیدا کر کے آخر میں معاشی حالات کی بہتری کے لیے قرض معاف کروانے کی لالچ و دیگر بحرانوں سے نکالنے کی لالچ دے کر اسرائیل کو قبول کروا لیا جائے. یہی طریقہ مصر و ترکی کے لیے استعمال کیا گیا یہی طریقہ آج دیگر عرب ممالک کے لیے دوہرایا جا رہا ہے اور یہی طریقہ پاکستان کے لیے بھی دہرایا جائے گا. یہاں پر ان دنوں ان گدھوں کی حکومت ہے جو ڈالروں کے لیے اپنے لباس تک بیچنے کے درپے ہیں اس لیے صہیونی یہاں سرگرم ہو چکے ہیں.

جیسے خانہ کعبہ و حجاز صرف وہاں کے مقامیوں کا نہیں پوری امت کا ہے ویسے ہی فلسطین و قبلہ اول صرف ملت فلسطین کا نہیں پوری امت کا ہے اور فلسطینی پوری امت کے حصے کی جنگ لڑ رہے ہیں ایسی حالات میں اگر ہم فلسطین کا دفاع نہیں کرسکتے تو کم از کم ہم تحریک فلسطین کا دفاع کریں یہ ہم پر فرض ہے. اگر کل کو خدا نخواستہ بیت اللہ پر کوئی قابض ہو جائے گا تو کیا ہم اس کو بھی ایسے فراموش کردیں گے.
تمام پاکستانیوں کے دل فلسطین کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور میں کم از کم اپنی ملت کے نمائندگی کرتے ہوئے ملت فلسطین کو ایک بات کی یقین دہانی کروانا چاہتا ہوں کہ جس وقت تک سرزمین پاکستان پر ایک بھی شیعہ باقی ہے اس وقت تک اسرائیل کو قبول نہیں کرنے دیں گے.

تحریر:علی نقوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍ت؍۱۰۰۰۳

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=14846

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے