اسرائیلی حکام کی جانب سے خاشقجی قتل کیس میں سعودیہ کی حمایت پر تاکید - خیبر

اسرائیلی حکام کی جانب سے خاشقجی قتل کیس میں سعودیہ کی حمایت پر تاکید

18 اکتوبر 2018 10:10

اسرائیلی سکیورٹی آفیسر نے سعودی نیوز ایجنسی “ایلاف” کے ساتھ گفتگو میں اعلان کیا ہے کہ خاشقجی کیس کی گمشدگی کے حوالے سے ترک ذرئع ابلاغ کی خبروں پر یقین نہیں کیا جا سکتا۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، استنبول قونصل خانے میں خاشقجی قتل کیس کے حوالے سے ہاتھ لگے ثبوت و شواہد پر صہیونی ریاست نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ خاشقجی کیس کے بارے میں ترک ذرائع ابلاغ کی خبریں قابل اعتماد نہیں ہیں۔

اسرائیلی سکیورٹی آفیسر نے سعودی نیوز ایجنسی “ایلاف” کے ساتھ گفتگو میں اعلان کیا ہے کہ خاشقجی کیس کی گمشدگی کے حوالے سے ترک ذرئع ابلاغ کی خبروں پر یقین نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا: تل ابیب اس کیس پر بہت قریب سے ناظر ہے اور اس حوالے سے صرف سعودی عرب کے ذرائع ابلاغ کی خبریں قابل اعتماد ہیں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کو اس وقت ہماری حمایت کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب ترک ذرائع کا کہنا ہے کہ استنبول میں سعودی عرب کے قونصل خانے میں جانچ پڑتال کے دوران سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بارے میں ثبوت و شواہد مل گئے ہیں –

اس درمیان امریکا کے این بی سی ٹی وی نے باخبر ذرائع کے حوالے سے خبردی ہے کہ سعودی حکام واقعے کی نئے سرے سے تشریح کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ آل سعود حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے صحافی کے قتل کی ذمہ داری سعودی ولیعہد محمد بن سلمان پر عائد نہ ہوسکے-

قطر کے الجزیرہ ٹیلی ویژن چینل نے خبردی ہے کہ ترک حکام نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ استنبول میں سعودی عرب کے قونصل خانے میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بارے میں کچھ شواہد مل گئے ہیں – الجزیرہ نے ترکی کے اٹارنی جنرل کے حوالےسے خبردی ہے کہ جمال خاشقجی کے قتل کے ثبوت و شواہد مٹائے جانے کی کوششوں کے  باوجود ان کے قتل کے اہم ثبوت ہاتھ لگ گئے ہیں –

امریکی ٹیلی ویژن چینل سی این این نے بھی خبردی ہے کہ سعودی حکام اب خود کو اس بات کے لئے تیار کررہے ہیں کہ خاشقجی کے قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے یہ باور کرائیں کہ ان کا قتل تفتیش کے دوران ہونے والی کچھ غلطیوں کی وجہ سے ہوگیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/خ/۱۰۰۰۳

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=13420

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے