اسرائیلی معاشرے کی دراڑیں - خیبر

اسرائیلی معاشرے کی دراڑیں

03 دسمبر 2018 18:51

وہ قوم جسے اسرائیلی قوم کہا جاتا ہے وہ مختلف ممالک سے اسرائیل میں اکٹھا ہوئی ہے اور یہ کسی تدریجی اور طولانی مدت عمل کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ ایک مختصر مدت میں عالمی صہیونیت نے دنیا بھر کے یہودیوں کو سرزمین فلسطین ہجرت کرنے پر مجبور کیا۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ؛ اسرائیلی معاشرہ ایک ایسا منفرد معاشرہ ہے جس کا دنیا کے کسی بھی انسانی معاشرے سے تقابل نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے کہ اس معاشرے میں نہ کوئی ایک قبیلہ ہے اور نہ کوئی ایک نسل اور قوم۔ چونکہ یہ معاشرہ مختلف ملکوں سے ہجرت کر کے آئے ہوئے افراد سے تشکیل پایا ہے۔ وہ قوم جسے اسرائیلی قوم کہا جاتا ہے وہ مختلف ممالک سے اسرائیل میں اکٹھا ہوئی ہے اور یہ کسی تدریجی اور طولانی مدت عمل کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ ایک مختصر مدت میں عالمی صہیونیت نے دنیا بھر کے یہودیوں کو سرزمین فلسطین ہجرت کرنے پر مجبور کیا کہ جس کے نتیجے میں تقریبا ۱۰۰ ممالک سے مختلف کلچر اور ثقافت کے لوگ اسرائیل میں جمع ہوئے۔
پہلی دراڑ
تاریخی دراڑ ہے یعنی اسرائیلی معاشرہ عربوں اور یہودیوں سے تشکیل پایا ہے جس میں دینی اختلافات بھی موجود ہیں اور نسلی بھی۔ اور پھر یہودی معاشرے کے اندر بھی بہت سی دراڑیں پائی جاتی ہیں چونکہ یہودی بھی دو گروہوں میں تقسیم ہوتے ہیں اشکنازی اور سفاردی۔
دوسری دراڑ
دینی اختلافات ہیں جو اس معاشرے کے دامن گیر ہیں چونکہ مقبوضہ فلسطین میں بسنے والا معاشرہ یا کسی دین سے منسلک ہے (یعنی یہودی، عیسائی یا مسلمان ہے) اور یا پھر بے دین اور سکولر ہے۔
تیسری دراڑ
مذہبی اور سکولر یہودیوں کے درمیان پائے جانے والے اختلافات خود اس معاشرے کو پاش پاش کرنے کے لیے کافی ہیں۔
چوتھی دراڑ
اسرائیلی معاشرے میں پایا جانے والا طبقاتی اختلاف
سماجی دراڑوں میں خود بہت ساری شاخیں اور قسمیں پائی جاتی ہیں کہ جو قومی، نسلی، ثقافتی، دینی، سیاسی اور اقتصادی زمینوں میں سرگرم ہیں۔ اور نتیجۃً یہ تمام عوامل مل کر اسرائیلی معاشرے کی نابودی کا باعث بن سکتے ہیں۔ سماجی دراڑوں کا ایک براہ راست اثر یہودی ریاست کے سیاسی معاشرے پر پڑتا ہے اور جس قدر یہ اختلافات شدت اختیار کرتے ہیں اسی قدر سیاسی پارٹیاں اور ان میں جھڑپیں وجود پاتی ہیں۔ اس وقت دسیوں سیاسی پارٹیاں یہودی معاشرے میں سرگرم ہیں جو ریاستی انتخابات میں حصہ لے کر اپنا وجود منوانے کی کوشش کرتی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍خ؍۱۰۰۰۳

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=15824

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے