اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی برقراری نے منافقین کے چہرے سے نقاب اتار دی: حسن نصر اللہ - خیبر

اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی برقراری نے منافقین کے چہرے سے نقاب اتار دی: حسن نصر اللہ

10 نومبر 2018 23:06

حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے عرب اقوام اور امت مسلمہ سے کہا کہ وہ غاصب صہیونی ریاست کو کسی بھی قیمت پر تسلیم نہ کریں۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، حزب اللہ کے سربراہ سیدحسن نصراللہ نے کہا کہ یمن میں امریکہ کی جنگ بندی کی دعوت یمنی عوام کی استقامت کا نتیجہ ہے اور اس طرح کی باتیں یمن کے دلدل سے سعودی اتحاد کو باہر نکالنے کی ایک کوشش ہوسکتی ہے۔

حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے یوم شہید کی مناسبت سے منعقدہ پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی طرف سے یمن میں جنگ بندی کی دعوت ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایک مہینے قبل یمن کے مغربی ساحل الحدیدہ پر شدید ترین حملے کئے گئے۔
انہوں نے کہا کہ تعجب کی بات یہ ہے کہ جمال خاشقجی کے قتل نے تو پوری دنیا کو سکتے میں ڈال دیا لیکن یمن میں سعودی عرب کے وحشیانہ حملوں پر کسی کو تعجب نہیں ہوتا۔
حزب اللہ کے سربراہ نے امریکا کی طرف سے یمن میں جنگ بندی کی دعوت کو ایک چال قرار دیا تاہم انہوں نے کہا کہ جس موقع پر جنگ بندی کی بات امریکا کر رہا ہے وہ غور کرنے کی بات ہے کیونکہ ابھی ایک مہینے قبل ہی سعودی اتحاد نے یمن کے شہر الحدیدہ پر شدید ترین حملہ کیا تھا۔
سید حسن نصراللہ نے یمنی عوام کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ صبر و بردباری سے کام لیجئے اور اپنے موقف پر ڈٹے رہئے کیونکہ آج آپ لوگ ہر دور سے زیادہ فتح و کامیابی کے قریب ہیں۔
انہوں نے بحرین کے اپوزیشن رہنما شیخ علی سلمان کے خلاف عمر قید کی سزا کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بحرین کے عوام اس قسم کے اقدام سے گھٹنے نہیں ٹیکیں گے۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی برقراری کی بعض عرب ملکوں کی کوشش حیلہ گروں اور منافقوں کے چہرے سے نقاب اتار رہی ہے۔
سید حسن نصراللہ نے عرب اقوام اور امت مسلمہ سے کہا کہ وہ غاصب صہیونی ریاست کو کسی بھی قیمت پر تسلیم نہ کریں۔

حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ غزہ کے فلسطینیوں نے حق واپسی مارچ جاری رکھ کر یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ صیہونی دشمن کے سامنے نہیں جھکیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍خ؍۱۰۰۰۳

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=14567

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے