اسلامی انقلاب کے ملت فلسطین پر اثرات - خیبر

اسلامی انقلاب کے ملت فلسطین پر اثرات

04 جون 2018 16:45

جو چیز طے شدہ ہے وہ یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران فلسطینیوں کا ایک معمولی حامی نہیں ہے بلکہ ان کی مزاحمتی تحریک کا ایک رہنما اور رہبر بھی ہے ایران انہیں کامیابی کی امید دیتا، انہیں جذبہ جہاد دیتا، انہیں اسلحہ فراہم کرتا اور ان کی فوج کو تربیت دیتا ہے۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: سر زمین فلسطین پر تاحال دو مرتبہ قبضہ کیا جا چکا ہے ایک مرتبہ برطانیہ کے ذریعے ۱۹۴۸ میں اور دوسری مرتبہ امریکہ کے ذریعے ۱۹۶۷ میں۔ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ مصر میں “ناصریزم” (Nasserism) کے معرض وجود میں آنے کے دور میں فلسطین کا مسئلہ ایک ‘عربی مسئلے’ میں تبدیل ہو گیا جبکہ دوسرے ممالک برطانیہ اور مغرب کے تسلط کی وجہ سے رنج و الم میں مبتلا تھے اور اسلامی ممالک کی پالیسیاں اور منصوبہ بندیاں بلاواسطہ یا بالواسطہ مغرب کے ہاتھ میں تھیں۔ دوسرے لفظوں میں، مغرب نے اس وقت فلسطین کو یہودی ریاست میں تبدیل کیا جب اکثر اسلامی ممالک کو مغرب اپنے کنٹرول میں لے چکا تھا۔ اسی وجہ سے کسی بھی اسلامی ملک سے فلسطین پرناجائز قبضے کے خلاف کوئی آواز بلند نہیں ہوئی جو کچھ معمولی اور ہلکی پھلکی آوازیں کہیں سے سنائی دیں وہ فلسطین کی قسمت کو بدلنے میں بے اثر رہیں۔
مثال کے طور پر جنوبی ایشیا کے پورے خطے میں فلسطین کی حمایت میں صرف سرزمین ایران سے ایک موثر آواز اٹھی اور وہ آواز اسلامی بیداری کے باپ اور تاریخ اسلام کی دوسری دہائی کے سپرمین حضرت امام خمینی(قدس سرہ) کی آواز تھی جنہوں نے اپنی کتابوں اور تقاریر میں انقلاب اسلامی کی تحریک کے آغاز سے ہی اس موضوع پر تاکید کی اور فلسطین اور قبلہ اول کے موضوع کو اسلامی انقلاب کی علاقائی اور خارجہ پالیسی کا سرعنوان قرار دیا اور اسلامی انقلاب کی کامیابی کے فورا بعد یہودی رژیم کے سفارتکاروں کو ملک سے نکلنے کا حکم دیا اور اسرائیلی سفارت کو فلسطینی سفارت میں تبدیل کر دیا اور یہ دنیا میں فلسطین کا سب سے پہلا سفارتخانہ تھا جس کے بانی اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی امام خمینی(رہ) تھے۔
امام خمینی (رہ) نے اس وقت ماہ مبارک رمضان کے آخری جمعہ کو عالمی یوم القدس کا عنوان دیا جب قدس اور قبلہ اول زمانے کے حالات کی زد میں آکر فراموشی کے گوشے میں جا چکا تھا۔ عربی ممالک کا اس دور میں موثر ترین نظریہ ’’پان عربی ازم‘‘ (Pan-Arabism) کا نظریہ تھا جس کی بنا پر عرب یونین وجود میں آئی اور اس یونین کا زیر بحث اہم ترین موضوع وہی مسئلہ فلسطین تھا کہ خود عرب یونین اور اس کے زیر بحث موضوعات کے سرانجام کو دنیا والوں نے دیکھ لیا اور آج یہ یونین یہودی ریاست کی اہم ترین پناہ گاہ بن چکی ہے۔
“پان عربی ازم” کے نظریہ نے مسئلہ فلسطین کو مکمل طور پر عربی مسئلہ میں تبدیل کر دیا تھا کہ البتہ اس حوالے سے کی جانے والی کوششوں کو یکے بعد دیگرے شکست کا سامنا کرنا پڑا اور زیادہ تر کامیابیاں اس یونین کے توسط سے یہودی ریاست کو نصیب ہوئیں اور صہیونی ریاست کی جڑیں مزید مضبوط ہوتی گئیں۔ یہاں تک کہ اس نظریے کے حامی دھیرے دھیرے مغرب سے وارد ہونے والی عقلانیت کا شکار ہوئے اور اسرائیل کے ساتھ ساز باز مذاکرات کی میز پر بیٹھ گئے “انور سادات” اور “مناخم بیگن” (اسرائیل کا چھٹا وزیر اعظم) کے درمیان پہلے کامیاب سازباز مذاکرات ’’ جیمی کارٹر‘‘ کی سرپرستی میں انجام پائے جس کے نتیجے میں صہیونی فوج نے “صحرائے سینا” کو ترک کر دیا اور مصر نے اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے غاصب اور جعلی ریاست اسرائیل کو تسلیم کر لیا۔
ایران کا اسلامی انقلاب ۱۹۷۰کی دہائی کے آواخر میں کامیاب ہوا اور اسی زمانے میں “پان عربی ازم” کی علمبرداری میں مصر نے فلسطین کے حق میں خیانت کا ارتکاب کیا تھا امام خمینی (رہ) کی رہبری میں کامیابی ہونے والے اسلامی انقلاب نے سب سے پہلے اپنا اثر مصر اور فلسطین میں دکھایا جہاں پر بنی صہیون کے مقابلے میں مزاحمتی محاذ کھڑا ہو گیا۔
ایک جانب سے مصر اور پس پردہ سعودی عرب کی رہنمائی میں سازباز کا سلسلہ جاری تھا تو دوسری جانب اسلامی انقلاب ـ جو ایرانی سرحدودں میں محدود ہونے کے لیے نہیں آیا تھاـ نے مسلمانان عالم مخصوصا فلسطینی مسلمانوں کے افکار و اذہان میں اپنا اثر و رسوخ پیدا کرنا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ۱۹۸۰ کے دہائی کے آواخر میں فلسطین میں پہلا انتفاضہ آغاز ہو گیا جو سازباز کے مقابلے میں مزاحمت کی ایک ٹھوس شکل تھی اور مصر میں زیر تعلیم فلسطینی طلباء جیسے شہید ڈاکٹر فتحی شقاقی اور عبد العزیز عودہ نے ’’مصر کی اسلامی جہاد تنظیم‘‘ کو تشکیل دیا جو بعد میں ’’فلسطین کے اسلامی جہاد تنظیم‘‘ کے نام میں بدل گئی اور ڈاکٹر عبد العزیز رنتیسی او شیخ احمد یاسین جیسی شخصیتیوں نے فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک ’’حماس‘‘ کو جنم دیا کہ جو اخوان المسلمین کی طرف رجحان رکھتی تھی اور ان دونوں تنظیموں نے غاصب یہودی ریاست سے فلسطین کی مکمل آزدی کو اپنی سیاسی اور جہادی سرگرمیوں کا سرعنوان قرار دیا۔
آج اگر ایک جانب سے سازباز کا نتیجہ ‘صدی کی ڈیل’ اور ‘امریکی سفارتخانے کی قدس منتقلی’ کی صورت میں سامنے آیا ہے تو دوسری جانب سے فلسطینی مزاحمتی تحریکیں تین کامیاب جنگوں، نیز لبنان کے ساتھ مختصر جھڑپوں اور ۲۰۰۶ میں ۳۳ روزہ جنگ میں کامیابی اور اس کے بعد آج تک مسلسل بنی صہیون کو ناکوں چنے چبوانے میں کامرانی کے کارناموں کی حامل ہے۔ اور عظیم مظاہروں کے ذریعے یہودی ریاست کی سالمیت کو چیلنج کر رہی ہے اور سائبری میدان میں آل یہود کی سب سے بڑے ابلاغی قوت کو شکست سے دوچار کر چکی ہے۔ وہ جنہوں نے ایک زمانے میں پتھروں اور ٹیلوں سے بنی صہیون کی ناک میں دم کر رکھا تھا آج انہوں نے آگ کے پتنگوں سے صہیونیوں کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں۔ اور کوئی بھی اس حقیقت کا انکار نہیں کر سکتا کہ ایسے حال میں کہ تمام عربی ریاستیں یہودی ریاست کی خدمت کو اپنا دینی، شرعی اور عربی فریضہ سمجھتی ہیں امریکہ اور یہودیوں نے فلسطینی مظلوموں پر صدی کی ڈیل کے منصوبے کو تھونپنے کی کوشش کی ہے اکیلا کوئی ملک اگر آج فلسطین کی شناخت، اس کی سرزمین، اس کی عزت اور حمیت کی حمایت کر رہا ہے وہ صرف اسلامی جمہوریہ ایران ہے اور یہ مزاحمتی تحریک جو فلسطین کی سربلندی کا باعث ہے اس نظام کا ثمرہ ہے۔
آج ۱۴۳۹ ہجری کا یوم القدس ایسے حال میں منایا جا رہا ہے کہ عرب حکمران یہودی ریاست، امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہیں لیکن مزاحمتی محاذ نے نہ صرف اس بڑی اور شیطانی سیاسی لہر کا ساتھ نہیں دیا بلکہ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ آئندہ دنوں میں فلسطین کے انقلابی عوام ایسا حماسہ وجود میں لائیں گے جو فلسطین کے آزادی پر منتج ہو گا۔ البتہ فلسطین کے عوام کی ان سنگین حالات میں مزاحمت، مسلمانان عالم کی ذمہ داریوں کو مزید بڑھا دیتی ہے اور کم سے کم جو کام ان سے ان دنوں میں متوقع ہے وہ ماہ مبارک کے آخری جمعہ عالمی یوم القدس کے موقع پر نکالی جانے والی ریلیوں میں شرکت ہے اگر چہ اسلامی ممالک کی حکومتوں کی بھی اس حوالے سے سنگین ذمہ داریاں ہیں اور ان میں سے بعض ذمہ داریوں کو استنبول کے او آئی سی کے اجلاس میں بیان کیا گیا، ان کے اوپر انہیں عمل کرنا چاہیے اور وہ ممالک جو صہیونی ریاست کے ساتھ سفارتی تعلقات رکھتے ہیں اور صرف اپنے سفیروں کو تل ابیب سے واپس بلا کر کوشش کرتے ہیں یہودی ریاست کے خلاف جنگی میدان کے مرد مجاہد کہلوائیں انہیں چاہیے کہ استکبار اور صہیونیزم کے خلاف عالمی مزاحمت کے اصلی محاذ کی طرف ایک نگاہ دوڑا لیں اور اگر وہ اپنے دعوں میں سچے ہیں جیسا کہ انہوں نے حالیہ اجلاس میں کہا فلسطینی عوام کے دفاع کے لیے اپنے ہتھیاروں اور فوج کو میدان کارزار میں بھیجیں اور اسلامی جمہوری ایران جو فلسطینی مزاحمت کی بانی ہے کو مستضعفین کی حامی ہونے کے عنوان سے اپنا نمونہ عمل قرار دیں اور ایران کی طرح فلسطینیوں کو امید اور دلیری دیں۔ اور اس وقت کو یاد کریں جب تمام ممالک یا حق و باطل کے درمیان غیر جانبداری کا مظاہرہ کر رہے تھے یا صہیونی ریاست کے ساتھ سفارتی تعلقات مضبوط کر رہے تھے اسلامی جمہوریہ ایران تن تنہا میدان کارزار میں کھڑا تھا اور اس نے فلسطین کے مسئلے کو فراموشیوں کے حوالے نہیں ہونے دیا اور آج بھی فلسطین کے مظلوموں کی نگاہیں ایران پر ٹکی ہوئی ہیں اور دیگر اسلامی ممالک تاریخ کے ایک عظیم امتحان سے گزر رہے ہیں اگر آج مدد کے لیے کھڑے نہ ہوئے تو تاریخ انہیں امت مسلمہ کے غدار کے عنوان سے یاد کرے گی۔
جو چیز طے شدہ ہے وہ یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران فلسطینیوں کا ایک معمولی حامی نہیں ہے بلکہ ان کی مزاحمتی تحریک کا ایک رہنما اور رہبر بھی ہے ایران انہیں کامیابی کی امید دیتا، انہیں جذبہ جہاد دیتا، انہیں اسلحہ فراہم کرتا اور ان کی فوج کو تربیت دیتا ہے لہذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر مزاحمت ایک قوم کے تحفظ کا ذریعہ ہو تو اسلامی جمہوریہ ایران خود صہیونیوں اور مغربیوں کے بقول فلسطین اور اس کے عوام کا سب سے بڑا محافظ ہے اور ملت فلسطین اس چیز کو بخوبی جانتی ہے اور ایران کی ممنون و مشکور بھی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/ی/ت/۱۰۰۰۳

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=4485

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے