اشتیاق نماز اور پرخطر سفر - خیبر

اشتیاق نماز اور پرخطر سفر

12 جون 2018 14:21

صہیونی ریاست کی جانب سے ایسے حال میں ۵۰ سال سے کم عمر فلسطینیوں پر قبلہ اول میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے کہ فلسطینی ماہ صیام کے آخری ایام میں زیادہ سے زیادہ مسجد الاقصیٰ میں عبادت کے لیے جانا چاہتے ہیں۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، فلسطینی مسلمانوں کو قبلہ اول تک پہنچنے میں پہلے تو کئی چیک پوسٹوں اور ناکہ بندیوں سے گزرنا پرٹا ہے لیکن اس کے علاوہ بعض فلسطینی جوانوں کو دیواریں پھاند کر نماز جماعت میں جانا پڑتا ہے۔
قابض ریاست نے غرب اردن اور بیت المقدس میں کئی مقامات پر دیوار فاصل تعمیر کر رکھی ہے۔ جب فلسطینیوں کو قبلہ اول میں جانے سے روک دیا جاتا ہے تو وہ مجبورا اس نسلی دیوار کو پھلانگ کر القدس اور مسجد اقصیٰ تک پہنچتے ہیں، مگر یہ کوئی آسان کام نہیں بلکہ زندگی اور موت کا کھیل ہے۔
انیس سالہ حسن الزیر نے بتایا کہ اس کا تعلق غرب اردن کے جنوبی شہر بیت لحم کے زعترہ قصبے سے ہے۔ اس نے ماہ صیام کا گذشتہ جمعہ مسجد اقصیٰ میں ادا کیا۔ وہ عصر تک مسجد میں رہا۔ یہ پہلا موقع ہے جب وہ مسجد اقصیٰ میں نماز کے لیے پہنچا تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ میرے گاؤں سے مسجد اقصیٰ تک پونے گھنٹے کا فاصلہ ہے مگر قابض فوج کی طرف سے کھڑی کی گئی رکاوٹوں کی وجہ سے اسے چار گھنٹے میں یہ مسافت طے کرنا پڑی۔
انیس سالہ حسن الزیر کا کہنا ہے کہ مسجد اقصیٰ میں آمد زندگی اور موت کا کھیل بن چکا ہے۔ میں جب الزعترہ سے بیت لحم شہر کی طرف نکلا تو میں نے ایک بوڑھی خاتون کے ساتھ ایک چوکی عبور کرنے کی کوشش کی مگر اسرائیلی فوجیوں نے اسے روک لیا۔ میں نے وہاں سے ابو دیس کی طرف جانے والی ایک گاڑی سے ڈرائیور سے لفٹ مانگی اور اسے کہا کہ وہ مجھے دیوار فاصل تک پہنچا دے۔ میں ایک جگہ دیوار فاصل کے پاس پہنچا تو وہاں کئی فلسطینی نوجوان جمع تھے جو سیڑی اور رسیوں کی مدد سے دیوار عبور کررہے تھے۔ ہم نوجوانوں کا ایک گروپ دیوار فاصل عبور کرکے القدس میں الزیتون کالونی کی طرف بڑھنے لگا تو صہیونی فوج نے ہمیں دیکھ لیا۔ انہوں نے ہمیں دور سے رکنے کے لیے آوازین لگائیں مگر ہم نہیں رکے۔ انہوں نے ہم پر فائرنگ کی مگر ہم بھاگتے ہوئے مسجد اقصیٰ کے قریب جبل زیتون میں پہنچ گئے۔
الزیرنے بتایا کہ اس دوڑ دھوپ میں ایک نوجوان کا گر کر بازو ٹوٹ گیا مگر اس کے باوجود اس کا مسجد اقصیٰ میں نماز کا اشتیاق کم نہیں ہوا۔

الخلیل شہر سے تعلق رکھنے والے ۲۱ سالہ محمد مسالمہ کا احوال بھی حسن الزیر سے مختلف نہیں۔ اس نے مسجد اقصی میں نماز جمعہ کا قصد کیا تو سفر کا آغاز نماز فجر کے ساتھ ہی کردیا تھا۔

اس کا کہنا ہے کہ مجھے معلوم تھا کہ میری عمر ان افراد میں شامل ہے جنہیں مسجد اقصیٰ میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی مگر اس کے باوجود میں قبلہ اول میں عبادت کے لیے جانے پر مصر تھا۔ میں الخلیل شہر سے ایک کار پر سوار ہوا اور مشرقی بیت المقدس کے العیزریہ کے سفر پر روانہ ہوگیا۔ العزیریہ میں ہم ایک گھنٹے میں پہنچ گئے مگر اب سوال یہ تھا کہ اسرائیلی فوجی چوکیوں سے بچ کر ہم کسی طرح قبلہ اول میں داخل ہوسکتے ہیں۔ وہاں پر ایک نوجوان نے ہمیں زرد رنگ کے نمبر پلیٹ والی ٹیکسی تک پہنچایا اور کہا کہ ممکن ہے کہ یہ آپ کو بائی پاس روڈ سے مسجد اقصیٰ میں پہنچا دے۔ ٹیکسی والے نے اس سفر کے لیے ۱۰۰ شیکل کا تقاضا کیا۔ امریکی کرنسی میں یہ رقم تیس ڈالر کے برابر ہے۔

میں نے ٹیکسی والے کو حامی بھرلی اور ہم ایک چیک پوسٹ کے قریب سے آگے نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ جب ہماری گاڑی المقاصد اسپتال کے قریب پہنچی تو اسے ایک فوجی جیپ نے روک لیا۔ ہم سات افراد تھے۔ اسرائیلی پولیس نے ہمارے شناختی کارڈ چیک کیے۔ جب انہیں پتا چلا کہ ہم غرب اردن سے آئے ہیں تو ہمیں گاڑی سے اتار دیا گیا اور سڑک کے کنارے پر کھڑا کردیا گیا۔ اسرائیلی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے ہم پر بندوقیں تان لیں۔

ہمیں گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا گیا مگر اس کے ساتھ ہم میں سے ایک نوجوان بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگیا۔ اسرائیلی فوجی اس پر ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے بھاگے تو ہمیں موقع مل گیا اور ہم بھی مسجد اقصیٰ کی طرف دوڑ پڑے۔ صہیونی فوجیوں نے ہمارے پیچھے بھی فائرنگ کی مگر ہم اللہ کے کرم سے محفوظ رہے اور مسجد اقصیٰ میں پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔

اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر اللہ کی عبادت کے لیے مسجد میں پہنچنا فلسطینی جوانوں کے اس جذبہ ایمانی کی عکاسی کرتا ہے جو کبھی میدان جہاد و کارزار میں نظر آتا ہے اور کبھی مسجد اور مصلائے نماز میں۔ قبلہ اول کی حفاظت کا مسئلہ ہو تو فلسطینی جوان اپنی جانیں نچھاور کرنے کو تیار، قبلہ اول کو آباد رکھنے کی بات تو یہ عبادتگزار دیواریں پھاندنے کو تیار، اسرائیلی افواج سے جہاد کی بات ہو تو یہ مجاہد سینہ سپر بننے کا تیار۔ سلام ہے ان جوانوں کی شجاعت اور بہادری کو۔

منبع: مرکز اطلاعات فلسطین

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/خ/ب/۵۰۴/ ۱۰۰۰۳

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=5559

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے