امریکہ جدید یروشلم، کتاب کا تعارف - خیبر

امریکہ جدید یروشلم، کتاب کا تعارف

12 مئی 2018 15:31

مائکل کولینز بیرنارڈ پیپر{ Collins Michael Bernard Piper } کااپنی اس کتاب میں بنیادی سوال یہ ہے کہ «آخر کیوں صہیونی حکومت کی تشکیل کے بعد بھی امریکی صہیونی امریکہ ہی میں جمے بیٹھے ہیں

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: امریکہ، جدید یروشلم ایک ایسی کتاب ہے جس میں امریکہ میں موجود صہیونیوں کی طاقت اور انکے نفوذ کا جائزہ لیا گیا ہے، اس کتاب کے مصنف مائکل کولینز بیرنارڈ پیپر{ Collins Michael Bernard Piper }[1] ہیں جوایک عظیم صاحب نظر اسکالر، انتھک کوششوں کے حامل، ایسے امریکی باشندہ کے طور پر مشہور ہیں جنہیں صہیونیت کے فکری مخالف سربراہوں میں شمار کیا جاتا ہے ۔ کتاب کی صورت انجام پانے والی تحقیق میں بیرنارڈ پیپر نے جن مطالب کو عرق ریزی کے ساتھ جمع کیا ہے وہ نہ صرف عام قارئین و محققین بلکہ ان لوگوں کے لئے ہلا دینے والے مطالب ہیں جو کم و بیش صہیونی لابیوں کے امریکہ میں نفوذ سے کسی حد تک آشنا ہیں اور جانتے ہیں کہ صہیونی لابیاں اور چیلنز امریکہ میں کس قدر اثر و رسوخ رکھتے ہیں، مائکل کولینز کی تحقیق انکے اپنے میدان مطالعہ میں غیر قابل انکار حد تک اس موضوع پر ضبط تحریر میں آنے والے مطالب سے زیادہ جامع و غنی حیثیت کی حامل ہے.

کولینز کا ماننا ہے کہ شاید کتاب کا یہ موضوع جس کے سلسلہ سے کتاب میں گفتگو ہوئی ہے نوعیت کے اعتبار سے اپنے میدان میں انفرادیت کا حامل ہو کہ اس میں اب تک ہونے والی گفتگو میں سب سے زیادہ چیلنجز اسی موضوع میں ہیں رائج اصطلاح میں کہا جائے تو موضوع کے اعتبار سے یہ کتاب اپنے آپ میں اب تک کی most challenging کتاب ہے ۔

مائکل کولینز بیرنارڈ پیپر{ Collins Michael Bernard Piper } کااپنی اس کتاب میں بنیادی سوال یہ ہے کہ «آخر کیوں صہیونی حکومت کی تشکیل کے بعد بھی امریکی صہیونی امریکہ ہی میں جمے بیٹھے ہیں اور بجائے اس کے کہ وہ مقبوضہ سرزمینوں کی طرف ہجرت کرتے اور صہیونیوں کے جھوٹے وعدے کی تکمیل کرتے لیکن ایسا نہ کر کے کیوں وہ امریکہ ہی میں مقیم ہیں ؟» اپنے دعوے کے ثبوت کے طور پر کولینز بیرنارڈ پیپر ۲۰ اگست ۲۰۰۴ء میں ہارتض[۲] اخبار میں شائع ہونے والے ایک مقالہ «امریکہ میں یہودیوں کا سنہرا دور » کے ساتھ بعض دیگر تجزیاتی ثبوتوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔

مائکل کولینز بیرنارڈ پیپر{ Collins Michael Bernard Piper }اپنی اس کتاب میں اس کتاب میں بے دھڑک کہتے ہیں : «امریکہ کی سرزمین پر بسنے والے سیکڑوں ملین لوگوں نے اب اس بات کو تسلیم کرلیا ہے اور ان کا اس بات پر ایقان ہے کہ آج کے دور میں امریکہ ایک موثر شکل میں نئے یروشلم میں اور بین الاقوامی صہیونیت کی طاقت کے مرکز میں ڈھل چکا ہے، یعنی آج کے امریکی باشندوں نے اس بات کو تسلیم کر لیا ہے کہ آج امریکا خود ایک جدید یروشلم ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی صہیونیزم کی طاقت کا مرکز بھی ہے .»

مائکل کولینز بیرنارڈ پیپر{ Collins Michael Bernard Piper } کتاب کے مختلف حصوں میں مختلف عناوین کے تحت آنے والی آٹھ فصلوں میں امریکہ میں جمنے والی صہیونیوں کی مختلف محفلوں کا دقیق طور پر تعارف کراتے ہیں ان فصول کے کچھ اہم عناوین یہ ہیں: امریکی عدلیہ اور محکمہ انصاف کے مراکز میں صہیونیوں کا فساد، تیل کی صنعت میں انکا نفوذ، امریکی میڈیا اور ذرائع ابلاغ میں صہیونیوں کا اثر و رسوخ، امریکہ میں یہودیوں اور صہیونیوں کی ثروت اور انکی طاقت، یہودی ارب پتی و کھرپ پتی ، انٹرنیٹ اور ہالی وڈ میں ان کا نفوذ ، ذرائع ابلاغ اور خبروں کی باگ ڈور کا انکے ہاتھ میں ہونااور اپنے مقاصد کی راہ میں انکا استعمال، میڈیا کی منتظمہ میں انکی چھاپ اور امریکہ کو فتح کرنا و۔۔۔ مذکورہ بالا یہ چند ایک وہ عناوین ہیں جنکے تحت آٹھ فصلوں میں مائکل کولینز نے گفتگو کرتے ہوئے امریکہ میں بسنے والی صہیونی لابیوں کو دقیق طور پر پہچنوایا ہے نیز انہوں نے اپنی اس کتاب میں مذکورہ مباحث کے ساتھ ہی ساتھ امریکہ کے اوپر مسلط صہیونیزم کے نیٹ ورک کی شکست کی راہوں کو بھی بیان کیا ہے کہ کس طرح امریکہ پر مسلط صہیونیوں کے اس نیٹ ورک کر شکست دی جا سکتی ہے ۔

مائکل کولینز بیرنارڈ پیپر{ Collins Michael Bernard Piper } نے اپنی اس کتاب میں آگے چل کر متوازی طور پر امریکہ پر مسلط صہیونزم کی فکر کی تصویر کو پیش کرنے کے ساتھ ہی امریکہ میں صہیونیت کے خلاف ہوتی فضا کو بھی پیش کرنے کی کوشش کی ہے نیز اس سوال کے جواب کو واضح طور پر دینے کی کوشش کی ہے کہ آخر کیوں ہر اس ملک میں ایک یہود ستیزی کی فضا قائم ہو جاتی ہیں جہاں بھی یہودی بستے ہیں؟

مائکل کولینز نے ان تمام باتوں کے ساتھ ساتھ یہودی مورخ بنجامن جانسبرگ[۳] کی جانب سے لکھی جانے والی کتاب ،” یہودیوں کی آغوش اور حکومت ،، میں بیان شدہ مطالب کی بھی چھان پھٹک کی ہے کہ جس میں یہودیوں کی طاقت کو بیان کیا گیا ہے اور یہودیوں کی طاقت کی اس تفسیر کومتحقیق کے ترازو میں تولنے کی کوشش کی ہے جو اس مورخ نے یہودیوں کی طاقت کے سلسلہ سے پیش کی ہے اور پھر زور دے کر اپنا یہ سوال پیش کیا ہے کہ آخر کیا وجوہات ہیں کہ مختلف مقامات پر مختلف ادوار میں یہودیوں کو طاقت و ثروت حاصل ہوتی ہے لیکن انجام کار ایسا کیوں ہوتا ہے کہ قدرت و طاقت کے حاصل ہو جانے کے بعد انہیں دوبارہ حاشیہ پر ڈال دیا جاتا ہے اور وہ طاقت و تمکنت کے باوجود کنارے لگا دئے جاتے ہیں ۔

حوالہ جات

Michael Collins Piper[1]، مائکل کولینز بیرنارڈ پیپر{ Collins Michael Bernard Piper }ایک ایسے مصنف ، صحافی صاحب نظر ، ایک صہیونی رجیم کے ناقد ہیں ، جنہوں نے ۱۶ جولائی ۱۹۶۰ ء میں آئر لینڈ کے ایک کیتھولک گھرانے میں آنکھیں کھولیں اور صہیونی فکر پر کھل کر تنقید کے لئے جانے جاتے ہیں ۔

[۲] ۔ http://www.haaretz.com، ہاآرتس (عبرانی: הארץ‎ یعنی ” اسرائیل کی سرزمین“) ایک اسرائیلی اخبار ہے۔ یہ ۱۹۱۸ء میں شائع ہونا شروع ہوا اور اس کا شمار اسرائیل کے قدیم اخبارات میں کیا جاتا ہے جو اب تک پرنٹ ہوتا ہے۔ یہ عبرانی کے علاوہ انگریزی زبان میں بھی برلنر فارمیٹ میں چھپتا ہے۔

۳Benjamin Ginsberg ایک یہودی مورخ و مصنف

[۳]Benjamin Ginsberg ایک یہودی مورخ و مصنف

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/ک/ت/۸۰۱/ ۱۰۰۰۲

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=2710

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے