امریکی زوال کے عمل میں تیزی - خیبر

امریکہ ابھی تک زوال پذیر کیوں نہیں ہوا ہے؟ (۵)

امریکی زوال کے عمل میں تیزی

07 دسمبر 2018 18:10

تشویش کا سبب یہ ہے کہ چین نے اپنی املاک کے انتظام کے لئے ہزاروں حاضر سروس فوجی افسران، سیکورٹی کے اہلکاروں نیز حاضر سروس سول اہلکار امریکہ میں تعینات کئے ہیں۔ ان افراد نے امریکہ میں اپنے لئے مکانات خرید لئے ہیں۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: کسی دوست نے میرا دو سال قبل کا لکھا مضمون “ امریکہ ابھی تک زوال پذیر کیوں نہیں ہوا ہے؟” (امریکہ اور سوویت یونین کی شباہتیں، امریکہ اور سوویت یونین میں فرق، امریکہ کے زوال کے مراحل ) پڑھنے کے بعد مجھ سے کہا: امریکہ عالمی معیشت کے ایک چوتھائی حصے کا مالک ہونے کے ناطے زوال اور سقوط سے بہت دور ہے اور اگلے کئی عشروں تک دنیا کی پہلی معاشی طاقت کے طور پر کردار ادا کرتا رہے گا۔

میرا جواب یہ تھا کہ “ہم صرف مغربی ذرائع ابلاغ کو معتبر دستاویز قرار دیں اور اپنے آپ کو ان خبروں تک محدود کریں جو وہ شائع کرتے ہیں، تو اس کے سوا کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکیں گے کہ امریکی معاشی طاقت دنیا کی پہلی طاقت رہے گی؛ تاہم اگر ہم دنیا کے دوسرے ذرائع سے مختلف خبریں حاصل کریں اور ان کا غائرانہ جائزہ لیں تو ماخوذہ نتیجہ کچھ اور ہوگا۔

ایسی خبریں بھی سننے میں آتی ہیں جو سچی اور معتبر ہوتی ہیں لیکن مشرقی اور اسلامی ممالک میں ان کی عکاسی نہیں ہوتی یا پھر ان کا تجزیہ نہیں کیا جاتا۔ مثال کے طور پر ۳۱ مئی ۲۰۱۸ع‍ کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکہ کی شرمناک اور خفت آمیز سفارتی شکست کو کچھ زيادہ کوریج نہيں دی گئی۔ اس دن کویت نے ایک قرارداد کا مسودہ پیش کیا جس میں مغربی پٹی اور غزہ کی پٹی کے فلسطینیوں کی حفاظت کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا جس کو ۱۰ اراکین نے ووٹ دیا لیکن امریکہ نے اس کو ویٹو کردیا جس کے بعد ریاست ہائے متحدہ کی نمائندہ نیکی ہیلی نے حماس کے خلاف ایک قرارداد کا مسودہ پیش کیا۔ اس مسودے میں حماس کو اسرائیل کے لئے خطرہ قرار دیا گیا تھا اور اس کی مذمت کی گئی تھی لیکن اس کو امریکہ کے سوا کسی نے بھی مثبت رائے نہیں دی۔

نیکی ہیلی نے دوسرے اراکین سلامتی کونسل کی رائے حاصل کرنے کی بہتیری کوششیں کیں اور نامہ نگاروں نے ان کی منت سماجت کی فلم بھی بنائی جو وہ پیرو اور ایک دوسرے ملک کے نمائندے کو ساتھ ملانے کے لئے کررہی تھیں۔ رائے شماری کے آخر میں فلسطین کے سفیر ریاض منصور نے اس روداد کی یوں تصویر کشی کی: “اقوام متحدہ کی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی بھی ایسا نہیں ہوا ہے کہ کوئی ملک ایک قرارداد کی تجویز دے اور صرف وہی ملک اس کو ووٹ دے اور کوئی اور ووٹ نہ دے۔ اگر اس کو شدیدترین اور انتہائی شکست کا نام دیا جائے، تو آپ فرمائیں کہ شکست کیا ہے؟”۔

ایسا زمانہ بھی تھا کہ جب کویت، بولیویا اور پیرو جیسے ممالک نہ صرف کسی قراداد کا مسودہ پیش کرنے کی جرئت نہیں رکھتے تھے بلکہ وہ امریکی قراردادوں کو ووٹ نہ دینے کی جرئت سے بھی محروم تھے۔ لیکن زمانہ بدل گیا ہے اور نہ صرف امریکہ کی پرانی حیثیت باقی نہیں رہی ہے بلکہ اس کے روایتی حلیف بھی اس کے لئے ماضی کی طرح اعتبار کے قائل نہیں ہیں۔ اور بات یہاں تک پہنچی ہے کہ امریکی ہتھیاروں کے دائمی خریدار اب جدید ہتھیار، راڈار، جنگی طیاروں، اور طیارہ شکن و میزائل شکن سسٹمز کی خریداری کے لئے دوسرے ممالک کی طرف رجوع کررہے ہیں۔

چین امریکی قومی سلامتی کے لئے خطرے میں کیوں تبدیل ہوا ہے؟

امریکہ کو ہر لمحے تشویشناک خبریں ملنا ابھی معمول کی بات بن چکی ہے اور یہ خبریں سفارتی ناکامیوں تک محدود نہیں ہیں۔ چین کے ساتھ امریکہ کی تجارتی جنگ کے پس پردہ حقائق کہیں بھی سامنے نہيں لانے کی کوشش نہیں کی جارہی ہے۔ بطور مثال ۱۸ مئی ۲۰۱۸ع‍ کو میں نے رشیا ٹوڈے کے پیج پر ایک خبر پڑھی جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی کانگریس کی انٹیلجنس کمیٹی نے چین کو امریکی سلامتی اور اقدار کے لئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ لیکن رشیا ٹوڈے نے اس خبر میں صرف تجارتی توازن کے خسارے کی طرف اشارہ کیا تھا جو پہلے ہی سب کو معلوم تھا؛ اور یہ بتانے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی کہ “چین نے ایسا کونسا اقدام کیا ہے جو امریکی سلامتی اور “امریکی اقدار” کے لئے براہ راست اور فوری خطرہ قرار دیا گیا ہے؟

چین کے پاس دنیا کی ۲۰ فیصد آبادی ہے اور اس کے صرف ۸ فیصد اراضی قابل کاشت ہیں۔ چنانچہ چین دوسرے ممالک میں قابل کاشت زمینیں خریدنے یا کرائے پر حاصل کرنے کے درپے رہتا ہے۔ امریکہ میں چین کی ایک عظیم ترین سرمایہ کاری قابل کشت زمینوں کی خریداری کے لئے ہے۔ ۲۰۱۴ع‍ کے اعداد و شمار کے مطابق، اس سال تک امریکہ کے ۱۱ میلین ہیکٹر زرخیز اراضی بیرونی ممالک کی ملکیت میں بدل چکے تھے اور اراضي کا یہ رقبہ ریاست ٹینیسی (۱) کے رقبے کے برابر ہے۔ (۲)

چین نے سنہ ۲۰۱۳ میں امریکہ کی سب سے بڑی زرعی کمپنی “اسمتھ فیلڈ فوڈز” (۳) کو خرید لیا اور اسی وقت سے دوسری بڑی کمپنیوں کی خریداری اور اس سلسلے میں سرمایہ کاری کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ نیز اس ملک نے ان  اراضی کی خریداری کے ساتھ ساتھ اس نے اپنے کارکنوں کے لئے رہائشی مکانات بھی خرید لئے ہیں۔ حالیہ برسوں میں اس ملک نے امریکہ میں ۴۰۰۰۰ رہائشی مکانات خرید لئے ہیں۔ (۴)

یہاں تک تشویش کی کوئی بات نہيں ہے لیکن تشویش کا سبب یہ ہے کہ چین نے اپنی املاک کے انتظام کے لئے ہزاروں حاضر سروس فوجی افسران، سیکورٹی کے اہلکاروں نیز حاضر سروس سول اہلکار امریکہ میں تعینات کئے ہیں۔ ان افراد نے امریکہ میں اپنے لئے مکانات خرید لئے ہیں اور قبل ازیں انہیں انگریزی سیکھنے اور امریکی معاشرے سے روشناس ہونے کے لئے کافی وقت دیا گیا تھا۔ (۵)

جس چیز نے بظاہر کانگریس کی انٹیلجنس کمیٹی کو فکرمند کیا ہے یہ ہے کہ چین نے اپنے سینکڑوں فارموں میں ۳۷۰ بڑی بڑی عمارتیں تعمیر کی ہیں؛ جن کو صرف نظر بَندی کیمپ (۶) کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اگر یہ بات صحیح ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ چین امریکہ کو اندرونی مسائل کے بھنور میں ڈوبتے ہوئے قریب سے دیکھ رہا ہے اور اس سرزمین میں اپنے تسلط کی حدود بڑھانے اور حتی کہ زمینی حملہ کرکے امریکی کی سرزمین پر قبضہ کرنے تک کی منصوبہ بندی کررہا ہے اور اس نے امریکی اشرافیہ کے ۵۰۰۰۰۰ افراد کی گرفتاری اور نظربندی کے لئے ابھی سے کافی تعداد میں عمارتوں کا انتظام کرلیا ہے۔

میکسیکو کا مسئلہ

یکم جولائی ۲۰۱۸ع‍ کے صدارتی انتخابات میں قومی تعمیر نو جماعت (۷) کے سربراہ آندریس مانوئل لوپز اوبرادور (۸) منتخب ہوئے۔ اوبرادور ایک کمیونسٹ ہیں جو میکسیکو کی ناامید کن صورت حال، حالات کی بہتری سے عوام کی مایوسی کے نتیجے میں “تبدیلی” کا نعرہ لگا کر عوام کو اپنی طرف راغب کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ میکسیکو میں کمیونسٹ حکومت کا برسراقتدار آنا امریکیوں کے لئے ڈراؤنا خواب شمار کیا جاتا ہے؛ چنانچہ میکسیکو کا بازار حصص انتخابات سے پہلے ہی تنزلی کی طرف مائل ہوا اور سرمایہ کاروں کے فرار کا سلسلہ شروع ہوا۔ اوبرادور کی تقریب حلف برداری کا انعقاد دسمبر ۲۰۱۸ع‍ میں ہوگا جس کے بعد ان کے انتخاب کے نتائج اور رد عمل پر زيادہ وضاحت کے ساتھ بحث کی جاسکے گی۔ بہرصورت اگر میکسیکو سے سرمایوں کے فرار کا سلسلہ جاری رہا اور معاشی حالت مزید ابتر ہوئی تو اس ملک میں لاکھوں نہيں ملینوں لوگ بےروزگار ہونگے اور شمالی پڑوسی ملک ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں تلاش روزگار کے لئے پہنچنے کی کوشش کریں گے، اگرچہ کہا جارہا ہے کہ امریکہ کے موجودہ صدر ٹرمپ نے میکسیکو کی سرحد پر دیوار سازی کا منصوبہ مکمل کرلیا ہے یا پھر یہ منصوبہ مکمل ہورہا ہے اور ٹرمپ کے بقول اس دیوار سازی کے اخراجات بھی میکسیکو سے لئے جائیں گے، لیکن پہنچنے والے ضرور امریکہ پہنچیں گے اور یوں گرتی ہوئی امریکی سلطنت کو ایک نئے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔

میکسیکو کو حالیہ برسوں میں منشیات مافیا کی شرانگیزیوں اور مسلسل بلوؤں اور بدامنیوں کا سامنا رہا یہاں تک کہ انسانی جانوں کے ضیاع کے لحاظ سے ملک، شام کے بعد، دوسرے درجے کا ملک گردانا جاتا تھا۔ (۹)

سنہ ۲۰۱۷ع‍ میں میکسیکو میں منشیات مافیا کے مختلف دھڑوں کے درمیان ہونے والی جنگوں میں ۲۵ ہزار افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے تھے۔ (۱۰)

یہ صورت حال اس قدر افسوسناک تھی کہ “تانکیتارو” (۱۱) سمیت کچھ شہروں نے خودمختاری کا اعلان کیا اور اپنے امور کی باگ ڈور خود سنبھالی۔

امریکہ دیوارسازی کے ذریعے جنوبی سرحدوں سے میکسیکیوں کی آمد کو نہيں روک سکا ہے۔ چنانچہ مستقبل میں فوجی مداخلت تک بھی آگے جاسکتا ہے۔ امریکی افواج جنوب میں اپنے ہتھیاروں، فوجی سازوسامان اور نفری کو تقویت پہنچانے میں مصروف ہیں تا کہ جب ضروری سمجھا جائے میکسیکیوں کی آمد کا مکمل سدباب کرنے کے لئے فوجی اقدام کریں۔

حالیہ مہینوں میں ڈونلڈ ٹرمپ کو امید تھی کہ مشرق وسطی میں مہم جوئی کرکے ایران سے بہت زیادہ رعایتیں حاصل کرسکیں گے یا شاید ایران کے نظام حکومت تک کا تختہ الٹ سکیں، وہ اندرونی و بیرونی محاذ پر اپنی بخت آزمائی کرنا چاہتے تھے اور اپنی کامیابی کے امکان کو بڑھانا چاہتے تھے لیکن لگتا ہے کہ انہیں رفتہ رفتہ اپنی سرحدوں پر ابھرنے والے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور اگر امریکہ فوری طور پر اس علاقے میں اپنے مفاد میں کچھ نہ کرسکے تو ممکن ہے کہ اسے اپنی فوجیں جنوبی سرحدوں پر تعینات کرکے اپنی توجہ جنوب پر مرکوز کرنا پڑے۔

بحیرہ کیریبین (۱۲) کے ممالک کو بھی تشویش ہے کہ امریکی فوجی جارحیت میکسیکو تک محدود نہ رہے اور واشنگٹن اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان ممالک کی حکومتوں کا تختہ بھی الٹ دے۔ اسی بنا پر وینزوئلا (۱۳) نے امریکہ کی ممکنہ جارحیت سے نمٹنے کے لئے اپنی فوجی صلاحیت میں اضافہ کرنا شروع کردیا ہے اور روس کو اپنے ملک میں کئی بحری اڈے بنانے کی پیشکش کی ہے تاکہ وہ اس ملک کے دفاع میں کردار ادا کرسکیں۔ (۱۴) اسی بنا پر عین ممکن ہے کہ بڑی بین الاقوامی طاقتوں کے درمیان کشمکش مشرق وسطی سے جنوبی امریکہ میں منتقل ہوجائے اور اس کا مطلب یہ ہوگا کہ امریکی طاقت مشرق وسطی میں سکھڑ رہی ہے اور اسے اپنی توجہ اندرونی مسائل کے حل پر مرکوز کرنا پڑ رہی ہے جو کہ اس کے وجود کو چیلنج کررہے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۔  Tennessee

۲۔ https://modernfarmer.com/2017/07/theres-foreign-owned-american-farmland-size-tennessee-know/

۳۔ Smithfield Foods

۴۔ https://www.citylab.com/life/2017/07/chinese-investmment-in-us-real-estate/534894/

۵۔ http://theeconomiccollapseblog.com/archives/meet-your-new-boss-buying-large-employers-will-enable-china-to-dominate-1000s-of-u-s-communities

۶۔ Concentration camp

۷۔ Movimiento de regeneración nacional [morena]

۸۔ Andrés Manuel López Obrador [AMLO]

۹۔ http://www.newsweek.com/mexicos-drugs-war-created-worlds-deadliest-conflict-zone-after-syria-survey-606558

۱۰۔ https://www.opslens.com/2018/01/25/mexicos-2017-murder-rates-highest-ever/

۱۱۔ Tancítaro

۱۲۔ Caribbean Sea

۱۳۔ Venezuela

۱۴۔ http://www.mcclatchydc.com/news/politics-government/white-house/article177108796.html

https://shakeri.net/3506/

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍ی؍۱۰۰۰۱

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
  • linkedin
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=15999

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے