امریکی سلطنت کا قطعی زوال عنقریب - خیبر

آرزو نہیں، زمینی حقیقت؛

امریکی سلطنت کا قطعی زوال عنقریب

15 نومبر 2018 19:05

اگر ہم قبول کریں کہ گذشتہ چالیس برسوں کے اہم ترین عالمی تنازعہ کو انقلاب اسلامی اور امریکہ کے درمیان تھا تو دنیا کو بھی، مغربی ایشیا کو بھی، ملت ایران کو بھی اور ولائی مسلمانوں کو بھی ایک نہایت خوبصورت اور روشن افق نظر آئے گا۔ اس قابل مطالعہ موضوع کی بنیاد پر، دنیا میں امریکہ کا انحطاط و زوال قطعی اور حتمی اور الہی اقدار کی قیادت میں، انسانی فطرت کے عین مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کی طرح کی نو ظہور قوتوں کا معرض وجود میں آنا ایک زمینی حقیقت ہے۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، فوکویاما کا کہنا ہے: “ہم نے افغانستان، عراق اور ان کی طرح کے ممالک سے کم از کم ایک یہ سبق سیکھا ہوگا کہ امریکہ کے پاس مشرق وسطی کے ممالک میں جمہوریت بحال کرنے کی طاقت، وسائل اور ضروری سوچ موجود نہیں ہے؛ حتی وہ شام جیسے ملک میں موجودہ بحران کے حل سے عاجز ہے۔ اس وقت جو کچھ ہمیں کرنا چاہئے وہ یہ ہے کہ ہم ان افراد کو کوئی گزند نہ پہنچنے دیں جو ہمارے لئے اہمیت رکھتے ہیں، اور ہمیں بھی کوئی نقصان نہ پہنچے۔ ہم اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ آخری نتیجہ کسی پر مسلط کریں” [اور اپنی مرضی کا نتیجہ اخذ کریں]۔
مذکورہ بالا اہم اعتراف اس شخص کا ہے جس نے آج سے تین دہائیاں قبل، اختتام تاریخ کا نظریہ پیش کیا تھا اور اسی نظریئے کی بنیاد پر عالمی شھرت حاصل کرچکے تھے۔ فرانسس فوکویاما (Yoshihiro Francis Fukuyama) جاپانی نژاد محقق، تاریخ نگار، ماہر سیاسیات و معاشیات ہیں جو امریکی سیکورٹی ادارے میں کام کرچکے ہیں، امریکی وزارت دفاع “پینٹاگون” سے وابستہ رینڈ (RAND) کارپوریشن کے تجزیہ نگار کے طور پر مصروف کار ہیں۔ انھوں نے ۱۹۸۹ع‍ میں ” تاریخ کا اختتام اور آخری انسان (The End of History and the Last Man)” نامی مضمون لکھا جسے انھوں نے تفصیل کے ساتھ کتاب کی صورت دے کر اسی عنوان سے ۱۹۹۱ع‍ میں شائع کیا۔ یوں فوکویاما نے عالمی شہرت پائی۔ انھوں نے ان دو نوشتوں میں صراحت کے ساتھ مغربی اقدار کی تاریخی وکالت کرتے ہوئے استدلال کیا کہ “لبرل جمہوریت کے حق میں عالمی اجماع حاصل ہوچکا ہے” [اور اس کی مخالفت کرنے والا کوئی نہیں ہے؛ یہ دعوی شاید انھوں نے سوویت روس کے خاتمے کی بنیاد پر کیا تھا]۔
اسی نظریئے کی بنیاد پر ہی تھا کہ امریکیوں نے مغربی لبرل جمہوریت کی علمبرداری کا دعوی کرتے ہوئے پوری دنیا پر امریکی اقدار کی حکمرانی کا تقاضا (!) کیا اور اکیسویں صدی میں بین الاقوامی انتظام اپنے ہاتھ میں لینے کو اپنا حق قرار دیا؛ لیکن تقریبا تیس برس گذرنے کے بعد لبرل جمہوریت کے ذاتی نقائص کی بنا پر بھی اور امریکی کی طرف سے عجز و بےبسی نیز لبرل جمہوریت کے منافی امریکی رویوں کی بنا پر بھی، ان کا نظریہ ثابت نہیں ہوسکا اور یہ نیم فلسفی ـ نیم سیاسی تاریخی محقق اپنے نظریئے سے پسپائی اختیار کرتے ہوئے اب امریکہ کے انحطاط و زوال کی پیشنگوئیاں کرنے لگا ہے۔
فوکویاما لکھتے ہیں: “میں اپنی کتاب «سیاسی نظام اور سیاسی زوال» (۱) نامی کتاب میں سیاسی انحطاط کے لئے جو سب سے بڑی مثال پیش کرتا ہوں وہ امریکی نظام کی مثال ہے۔ دنیا کے تمام نظام ہائے حکومت رو بہ زوال ہیں، خواہ ان کے زوال کا سبب فکری جمود ہو خواہ افراد کا اپنے اختیارات سے غلط فائدہ اٹھانا ہو”۔
جی ہاں! حالیہ برسوں میں عالمی تبدیلیوں کا عمل نہ صرف امریکی حاویّت اور مغربی اقدار کی توسیع کے حق میں نہیں رہا ہے بلکہ ان اقدار کے زوال اور امریکی طاقت کے انحطاط کی صورت میں آگے بڑھا ہے۔ اگر ہم قبول کریں کہ گذشتہ چالیس برسوں کے اہم ترین عالمی تنازعہ، انقلاب اسلامی اور امریکہ کے درمیان تھا تو دنیا کو بھی، مغربی ایشیا کو بھی، ملت ایران کو بھی اور ولائی مسلمانوں کو بھی ایک نہایت خوبصورت اور روشن افق نظر آئے گا۔ اس قابل مطالعہ موضوع کی بنیاد پر، دنیا میں امریکہ کا انحطاط و زوال قطعی اور حتمی اور الہی اقدار کی قیادت میں، انسانی فطرت کے عین مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کی طرح کی نو ظہور قوتوں کا معرض وجود میں آنا ایک زمینی حقیقت ہے۔
اسلامی انقلاب کے رہبر معظم حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای (مُدَّ ظِلُّہُ العالی) نے مورخہ ۳ نومبر ۲۰۱۸ع‍ کو [۴ نومبر، یوم استکبار کے خلاف جدوجہد کی آمد کے سلسلے میں] اسکولوں کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: “جب ہم ایک وسیع نگاہ سے امریکی صورت حال کا جائزہ لیتے ہیں، تو دیکھتے ہیں کہ اس کی طاقت، استحکام اور غلبہ نیز اس کا عالمی دبدبہ دنیا میں رو بہ زوال اور رو بہ انحطاط ہے۔ برسوں کے دوران یہ طاقت مسلسل کم سے کمتر ہورہی ہے”۔
جب ہم تاریخی لحاظ سے نظام ہائے حکومت، مکاتب، حکومتوں اور تہذیبوں کے عروج و زوال کی بات کرتے ہیں تو اس بحث میں بنیادی معیار “طاقت” ہے۔ طاقت سے مراد وہی ہے جس کو سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات میں زیر بحث لایا جاتا ہے اور اس سے مراد ” فریق مقابل یا دوسرے فریقوں پر اثر انداز ہونے، اپنی مرضی اور مطالبات و تقاضے مسلط کرنے کی صلاحیت” ہے۔ طاقت مختلف مادی اور معنوی [سخت اور نرم] اجزاء کا مجموعہ اور اس مجموعے کا نتیجہ ہے۔ آج کی جامعاتی لغت میں اور سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کے ہاں، طاقت کو دو قسموں “نرم طاقت” اور “سخت طاقت” میں تبدیل کیا جاتا ہے؛ اور آج کے دن امریکہ “نرم طاقت” کے لحاظ سے بھی اور “سخت طاقت” کے لحاظ سے بھی گھِساؤ، فرسودگی اور بےبسی کا شکار ہوچکا ہے۔
نرم طاقت اور سخت طاقت کے لحاظ سے  امریکی طاقت کے زوال کا جائزہ لینے کے لئے مختلف معیاروں کو سامنے رکھا جاسکتا ہے اور مختلف نشانیوں کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے؛ جیسے:
الف: نرم طاقت
امام خامنہ ای نے مذکورہ بالا خطاب کے ضمن میں اس سلسلے میں فرماتے ہیں: “دنیا کے بہت سے معتبر ماہرین سیاسیات اور بہت سے معتبر ماہرین عمرانیات کی رائے ہے کہ امریکہ کی نرم طاقت فرسودہ اور بہت زيادہ ضرر رسيدہ ہوچکی ہے، اور مکمل طور پر زائل ہونے کو ہے۔ نرم طاقت کیا ہے؟ نرم طاقت یہ ہے کہ ایک حکومت اپنے فیصلوں، اپنی رائے و نظر اور اپنا عقیدہ دوسروں فریقوں کو منوا سکے اور انہیں قائل اور آمادہ کرسکے کہ اس کے فیصلے کو قبول کرے۔ یہ طاقت امریکہ میں مکمل ضعف اور مکمل فرسودگی کا شکار ہے اور زائل ہورہی ہے”۔
امریکی نرم طاقت کی فرسودگی کی بعض نشانیاں:
۱۔ امریکہ کی اندرونی صورت حال بتا رہی ہے کہ لبرل جمہوریت اور سرمایہ دارانہ سیاسی نظام بے آبرو ہوچکا ہے۔ سماجی دراڑیں، سماجی انصاف کا ناپید ہونا، نسلی امتیازات کا غلبہ، خاندانی نظام کا فنا ہوجانا اور وسیع البنیاد اخلاقی برائیوں کا رواج، وغیرہ، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ کے پاس دوسروں کو دینے کے لئے اقدار پر مبنی کسی قسم کا کوئی پیغام نہیں ہے اور اس کے القائات کسی کے لئے بھی کوئی تعمیری پہلو نہیں رکھتے۔ بلکہ یہ ملک اندرونی طور پر سماجی اور اخلاقی شکست و ریخت کے مرحلے سے گذر رہا ہے۔
۲۔ دنیا کی بہت سی اقوام ـ بالخصوص عالم اسلامی کی متعدد اقوام ـ امریکہ سے نفرت کرتی ہیں۔ امریکہ سے یہ نفرت عراق، شام، افغانستان، پاکستان، لبنان، فلسطین سمیت مقبوضہ سرزمینوں، بحرین، یمن اور حتی کہ امریکہ کے حلیف اسلامی ممالک، نیز جنوبی امریکہ اور پورے براعظم افریقہ کے ممالک میں بہت نمایاں ہے۔
۳۔ بہت سی حکومتیں [بالخصوص امریکہ کی حلیف حکومتیں] امریکی رویوں اور طرز سلوک سے پر تنقید کررہی ہیں اور امریکہ سے منہ پھیرے ہوئے ہیں یا پھیر رہے ہیں۔ ۴۔ امریکہ نے اپنی نرم طاقت اور اثرو رسوخ کی صلاحیت کھو جانے کے بعد اپنے اہداف و مقاصد کو آگے بڑھانے کے لئے گذشتہ سترہ برسوں کے دوران فوجی لشکر کشیوں اور دہشت گرد تنظیموں کی تشکیل کا سہارا لیا ہے۔ افغانستان اور عراق پر فوجی چڑھائی، داعش جیسی دہشت گرد تنظیمیں بنا کر نیابتی جنگوں (Proxy wars) کا آغاز اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ امریکہ نرم طاقوت اور اثر و رسوخ کی قوت کھو چکا ہے۔
۵۔ یورپ، روس، چین اور کچھ دوسرے ممالک کے خلاف معاشی جنگ بھی امریکہ کی نرم طاقت کی گھِساؤ اور فرسودگی کا ثبوت ہے اور اس جنگ سے بھی ثابت ہورہا ہے کہ امریکہ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے مزید کسی کو اپنے ساتھ ملانے سے عاجز ہوچکا ہے۔
ب: سخت طاقت
امام خامنہ ای اس سلسلے میں فرماتے ہیں: “امریکہ کی سخت طاقت کو بھی بہت شدید نقصان پہنچا ہے؛ سخت طاقت یعنی عسکریت پسندی کی طاقت، معاشی طاقت، یہ سخت طاقت کے زمرے میں آتا ہے؛ اور ہاں! امریکہ کے پاس فوجی اوزار موجود ہیں لیکن اس کی فوجی طاقت اداس، الجھن کا شکار، ششدر اور متذبذب وحیران ہے۔
اسی بنا پر ہی جن جن ملکوں میں امریکی موجود ہیں، اپنے مقاصد کے حصول کے لئے بلیک واٹر جیسی جرائم پیشہ تنظیموں کو استعمال کرتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی سپاہی امریکی منصوبے کے نفاذ کی صلاحیت سے عاجز و قاصر ہے”۔
امریکی سخت طاقت کی فرسودگی کی بعض نشانیاں کچھ یوں ہیں:
۱۔ امریکی حکومت کا ۲۰ ٹریلین ڈالر (۲) مقروض ہونا اور اسے بہت بڑے بجٹ خسارے کا سامنا ہونا؛
۲۔ غربت، بےروزگاری اور امریکی صنعتوں کے ایک بڑے حصے اور بڑے بڑے بینکوں کا دیوالیہ ہوجانا؛
۳ـ بیرونی تجارت کے توازن میں زبردست خسارہ؛
۴ـ چین جیسے برتر معاشی طاقتوں کا ظہور پذیر ہوجانا؛
۵۔ فوجی سازوسامان کا فرسودہ اور افواج کا افسردہ، ناامید اور اداس ہوجانا؛
۶۔ افغانستان، عراق اور شام میں فوجی شکستوں اور ناکامیوں سے دوچار ہوجانا؛
۷۔ دنیا کے بہت سے علاقوں ـ بالخصوص مغربی ایشیا ـ میں عسکری اور معاشی قوت کے بل پر اپنے مقاصد حاصل کرنے میں بے بسی اور ناکامی؛
ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ جملہ ان تمام نشانیوں کی تصدیق کے لئے کافی ہے کہ “امریکہ نے ۱۷ سال قبل مشرق وسطی میں سات ٹریلین ڈالر خرچ کئے لیکن وہ کچھ بھی حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے”۔
جی ہاں! امریکہ کا زوال اور اس کی طاقت کا زوال ایک زمینی حقیقت ہے۔ لیکن ایک دوسری حقیقت یہ ہے کہ ایرانی قوم اور اسلامی انقلاب کی حامی و مدافع قوتیں ہی شیطان اکبر کی جہنمی طاقت کو فنا سے دوچار کرنے میں بنیادی کردار ادا کر رہی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: بریگیڈیئر جنرل ڈاکٹر یداللہ جوانی
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۔ Political Order and Political Decay: From the Industrial Revolution to the Globalization of Democracy
۲۔ ایک ٹریلیئن = دَس کھَرب = (۱۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰)؛ اور اس حساب سے ۲۰ ٹریلیئن ڈالر = ۲۰۰ کھرب ڈالر یا بیس ہزار ارب ڈالر۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد؍ی؍۱۰۰۰۱

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=14955

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے