امن و سلامتی، یہودی ـ سعودی جڑواں ریاستوں اور شرکاء کی کھوئی ہوئی شیئے - خیبر

امن و سلامتی، یہودی ـ سعودی جڑواں ریاستوں اور شرکاء کی کھوئی ہوئی شیئے

05 جولائی 2018 15:47

سپاہ قدس کے کمانڈر کی طرف سے صدر اسلامی جمہوریہ کے موقف پر تاکید نے خطے میں ایران کی موجودگی کا نیا افق رقم کیا؛ اور ایران کو ہٹا کر جڑواں ریاستوں اور ان کے شرکاء کے امن و سلامتی کی آرزو، آرزو ہی رہ گئی۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: ٹرمپ جامع ایٹمی معاہدے سے نکل چکے، جس کو وہ بزعم خود، ناکافی سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ اس معاہدے میں امریکہ ہار گیا ہے، چنانچہ انھوں نے معاہدے کی تکمیل اور نقصانات کے ازالے کے لئے کچھ شرطیں پیش کیں۔

ٹرمپ نے شرط لگائی کہ ایران اپنی ایٹمی صنعت کو مکمل طور پر بند کردے، علاقے میں اپنی موجودگی کا خاتمہ کرے، اور اپنی میزائل قوت کو صِفر تک گھٹا دے۔

یہودی ریاست نے جشن منایا اور بنی سعود اور اس کے شرکا نے ٹرمپ کی مداحی میں آسمان و زمین کے قلابے ملا دیئے، لیکن وہ اس حقیقت سے غافل تھے کہ امن و سلامتی ایک درآمدی شیئے نہیں ہے اور جشن منانے اور ٹرمپ کی چاپلوسی اس حقیقت کو نہیں بدل سکتی کہ یہودی ریاست مسلمانوں کی شدید ترین دشمن ہے اور یہ ایک حقیقی امر ہے جو اصلاح ناپذیر ہے، معاصر تاریخ میں ستر برسوں سے جاری ہے جبکہ ابتدائے تاریخ سے بھی امرِ مسلَّم ہے۔ اور آج اس دشمنی کا اعلان یورپ کے قلب سے ایران کی اعلی ترین انتظامی شخصیت کے زبانی منظر عام پر آرہا ہے اور ایران کے ایک اعلی جرنیل اور سپاہ قدس کے کمانڈر اس پر تاکید بھی کرتے ہیں اور اسے خراج تحسین بھی پیش کررہے ہیں۔

یہ جو الحاج قاسم سلیمانی نے صدر کے موقف کی تائید کی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ صدر اسلامی جمہوریہ کے موقف کا نفاذ بالکل سنجیدہ ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ یہودی ریاست اسلامی جمہوریہ ایران کی رائے کے مطابق نظریاتی لحاظ سے (Theoretically) بھی اور عملیاتی لحاظ سے (Operatinally) بھی ایک ناجائز اور ناقابل تسلیم ریاست ہے اور اس لحاظ سے بھی کہ اگر کوئی تصور کرے کہ ایران خلیج فارس سے تیل برآمد نہیں کرسکے گا، تو اسے یہ بھی تصور کرنا پڑے گا کہ اس صورت میں خلیج فارس ایسا علاقہ ہوگا جہاں سے کوئی بھی تیل برآمد نہیں کرسکے گا۔

ٹرمپ نے جب ایٹمی معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کیا تو انھوں نے ایران کے ہاتھ میں موجود تُرپ کے پتوں ـ وہ جو موجود ہیں اور وہ جو مستقبل میں ہاتھ لگیں گے ـ کو یکسر نظرانداز کردیا تھا چنانچہ انھوں نے شاید اسی بنا پر این پی ٹی سے ایران کی علیحدگی کی دھمکی کو سنجیدہ نہیں سمجھا۔

ٹرمپ کی پہلا غَلَط اندازہ یہ تھا کہ وہ گمان کررہے تھے کہ دھمکیوں اور خطروں میں اضافہ ہوگا تو ایران سر تسلیم خم کرے گا اور پابندیوں کے دوبارہ اعلان کے ساتھ ہی ایران مغرب کے ساتھ مصالحت اور سازباز کی طرف مائل ہوجائے گا۔ ناتجربہ بار تاجر “ٹرمپ” سے زیادہ سادہ لوح بنی سعود اور بنی نہیان تھے جنہوں نے حالیہ چند دنوں کے دوران ٹرمپ سے وعدہ کیا کہ پابندیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے تیل کی منڈی میں ایران کے خلا کو وہ پر کریں گے۔ بنی سعود نے عہد کیا کہ اپنے تیل کی روزانہ پیداوار میں ۲۰ لاکھ بیرل کا اضافہ کریں گے اور اماراتی بنی نہیان نے روزانہ ایک لاکھ بیرل تیل کی کمی پوری کرنے کا عہد کیا۔

ٹرمپ کا دوسرا غلط اندازہ یہ تھا کہ وہ ایرانی معاشرے کی آواز کے ادراک سے عاجز ہیں؛ چنانچہ انھوں نے ایرانی حکام کو دو گروپوں میں تقسیم کیا: وہ جو امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جنگ پر بدستور اصرار کررہے ہیں اور وہ جو اس جنگ سے اکتا گئے ہیں، اور اپنے زعم میں ایرانی حکام اور عوام کی اکثریت کو دوسرے گروپ کے زمرے میں گردانتے تھے؛ چنانچہ ان کا وہم یہ تھا کہ دھمکیوں، خطروں اور پابندیوں میں اضافے کے ساتھ ہی ایران کی سیاسی نگاہوں میں دراڑیں پڑ جائیں گی اور امریکہ اپنے مقاصد بہ آسانی حاصل کر لے گا؛ لیکن صدر حسن روحانی اور سپاہ قدس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کے یکسان موقف نے ٹرمپ کے تمام اندازوں پر کو پاش پاش کرکے باطل کردیا۔

اس وقت، جبکہ لبنان اور شام میں یہودی ریاست کی سرحدوں پر جنگ جاری ہے اور فلسطینیوں نے بھی اپنے تشخص کے لئے عظیم تحریک “واپسی تحریک” کا آغاز کیا ہے اور اس ریاست کے وجود کو سلامتی لحاظ سے بھی اور سیاسی لحاظ سے بھی مختلف قسم کے خطرات لاحق ہوچکے ہیں، اور اس ریاست کو اپنے ڈوبنے کی فکر لاحق ہے، عقل و ہوش کا تقاضا تو یہ ہے کہ حجاز مقدس پر قابض بنی سعود، اور امارات پر قابض بنی نہیان کے قبیلوں نیز ان کے دیگر شراکت کاروں کو اپنے معاشی مستقبل کے بارے میں کچھ زیادہ سنجیدگی سے سوچنا چاہئے کیونکہ ان کی معیشت خلیج فارس سے تیل کے راستے سے تیل کی درآمد پر ہی منحصر ہے اور دستیاب وسائل کو ٹرمپ کے خالی خولی وعدوں سے نہیں بدلنا چاہئے۔

بے شک صدر روحانی کے یورپی دورے کے دو علاقائی پیغامات کے ساتھ ساتھ اس دورے کا ایک پیغام یورپیوں کے لئے تھا اور وہ یہ کہ اگر وہ ایٹمی معاہدے کے ضمن میں اپنے عہد کی پابندی نہ کریں اور ٹرمپ کی طرح وعدہ خلافی کریں تو ایران اس معاہدے سے الگ ہوجائے گا۔ اور یہ پیغام اہمیت کے لحاظ سے اس دورے کے دو دیگر پیغامات کے برابر ہے، جس پر روحانی نے یورپی حکام کے ساتھ بات چیت میں بھی اور ایٹمی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل یوکی آمانو کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں بھی، خاص طور پر زور دیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/ت/ت/۳۰۳/ ۱۰۰۰۱

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=7408

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے