انتفاضہ قدس کے نشیب و فراز (2) - خیبر

انتفاضہ قدس کے نشیب و فراز (۲)

۰۲ اردیبهشت ۱۳۹۷ ۰۹:۴۲

فلسطینیوں کی مزاحمت کو کسی ایک واقعہ کا رد عمل نہیں قرار دیا جا سکتا بلکہ یہ اپنے آپ میں مستقل ہے یہ اور بات ہے کہ اس مزاحمت کو بعض واقعات نے شدید کر دیا۔

 

خیبر صہیون ریسرچ سینٹر: گزشتہ سے پیوستہ//

حقیقت میں دیکھا جائے تو فلسطینی عوام کی نئی تحریک کی جڑیں قبل اس کے کہ شدت پسند صہیونیوں کے توہین آمیز طرز سلوک اور مسجد اقصی کی ہتک حرمت و اہانت میں پیوست ہوں ، خود فلسطینیوں کی طرف پلٹتی ہیں جسکا آغاز انہوں نے از خود کیا (یعنی فلسطینیوں کی مزاحمت کو کسی ایک واقعہ کا رد عمل نہیں قرار دیا جا سکتا بلکہ یہ اپنے آپ میں مستقل ہے یہ اور بات ہے کہ اس مزاحمت کو بعض واقعات نے شدید کر دیا)۔
گزشتہ گرمیوں سے اسرائیلی ٹاون سٹیز اور شہروں میں رہنے والے لوگوں کا طریقہ کار فلسطینیوں کے ساتھ نیتن یاہو کی حکومتی پالیسی و سیاست کے تحت شدت پسندانہ اور حدوں کو پار کرنے والا ہوتا گیا ،فلسطینیوں کے ساتھ ہر روز حقارت آمیز رویہ کا روا رکھنا، انکے کھیت کھلیانوں کا نذر آتش کر دینا انکے گھروں کو جلا کر خاکستر میں بدل دینا یہاں کہ تک فلسطینی بچوں کو زندہ زندہ جلا دینا یہ تمام وہ چیزیں ہیں جنہوں نے فلسطینیوں کے آتش غضب کو بھڑکا دیا البتہ یہ اور با ت ہے اس پوری آگ کوبھڑکانے میں اصلی چنگاری مسجد الاقصی میں افراطی و شدت پسند یہودیوں کا اہانت آمیز رویہ رہا ، یہ سارا ماجرا یہاں سے شروع ہوا کہ گرمیوں کے آخر میں شدت پسند یہودی اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی حمایت کے چلتے مسجد الاقصی میں داخل ہوئے اور انہوں نے مسجد کے ایک ایسے حصہ پر قبضہ جما لیا جو خود صہیونی قانون کے مطابق مسلمانوں سے مخصوص جگہ مانی جاتی ہے ، اور وہاں عبادت کرنے کا قانونی حق مسلمانوں کو حاصل ہے ،مسجد میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلا کام اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے یہ کیا کہ مسجد میں اعتکاف میں مشغول مسلمانوں کو مار پیٹ کر باہر کر دیا اور اس کے بعد ۱۵۰ کے قریب اسرائیلی شہریوں نے وہاں داخل ہو کر ڈانس کرنا شروع کر دیا اس طرح ناچتے گاتے ہوئے انہوں نے مسلمانوں سے متعلق وہاں رکھی اشیاء کو تھوڑ پھوڑ کر آگ لگا دی ۔
صہیونیوں کی اس گستاخی و توہین کے جواب میں مشرقی بیت المقدس سے اعتراض کے طور پر مظاہرے اور احتجاجات کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جو بہت جلد مغربی کناروں ،غزہ پٹی اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں پھیلتا چلا گیا ، اس علاقے کے لوگوں نے اپنی دکانوں کو بند کر کے اپنے کام دھام کو روک کر ایک بڑی ہڑتال شروع کی جس کے چلتے فلسطینیوں کا غصہ پورے بیت المقدس اور مغربی کنارے کے شہروں ) رام الله، بیت لحم، الخلیل، نابلس و جنین ( کے ہمراہ غزہ پٹی اور ۱۹۴۸ء کے فلسطینی شہروں میں پھیلتا چلا گیا ، صہیونی حکومت نے جس کو فلسطینیوں کے اس قدر غیظ و غضب کے ساتھ چو طرفہ شدید رد عمل کی توقع نہ تھی ) جو اسرائیلیوں کے اجتماع تک میں شامل ہو چکا تھا ( اپنے مخالف ان احتجاجی مظاہروں کو کچلنے کے لئے ایسے احکامات جاری کئے جنکی مثال اس سے پہلے نظر نہیں آتی ۔
چنانچہ اسرائیلی حکومت نے اپنی فوج کو کھلی چھوٹ دی کہ جیسے چاہیں ان مظاہروں کی صورت سامنے آنے والی بغاوت کو کچل دیں، انہیں اختیار ہے چاہیں تو مظاہرین کو ہلاک کریں، چاہیں انکے گھروں کو زمیں بوس کر دیں، مظاہرین کے ماں باپ و انکے رشتہ داروں کو گرفتار کریں، انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالیں، غزہ پٹی کی جانب انہیں اور انکے اہل خانہ کو نکال باہر کریں، اس کے علاوہ حکومت نے رزرو ذخیرہ فوج کی ٹکڑی کو بھی اپنے ساتھ شامل کر لیا اور پہلی بار بحری فوج کے بندوق بردار ماہر نشانہ بازوں کو بھی فلسطینیوں کو دبانے کے لئےبیت المقدس منتقل کر کے بیت المقدس اور مسجد الاقصی کے اطراف میں اپنی اپنی پوزیشنوں پر کھڑا کر دیا گیا ،لیکن آنسو گیس کے گولوں کا وسیع پیمانہ پر استعمال ، اور مرچی کے اسپرے ، سخت دھاتوں کی پلاسٹکی کیپ چڑھی گولیوں جنگ میں استعمال ہونے والے کارتوسوں کے ذریعہ نشانہ بنائے جانے اور حد سے زیادہ وحشی بن دکھانے کے باوجود نہ صرف یہ کہ حالات اسرائیلی فوجیوں کے قابو میں نہ آ سکے بلکہ اعتراض و احتجاج کے شعلے اور بھڑکتے گئے جب کہ فلسطینیوں کے پاس ان تمام اسرائیلی اسلحوں سے مقابلہ کے لئے چاقو کے علاوہ کچھ نہیں تھا ،با این ہمہ صہیونیوں پر چاقو سے حملوں کی ایک نئی موج سامنے آئی اور فلسطینی جہاں موقع پاتے صہیونیوں پر چاقو سے حملہ کر بیٹھتے، اس سلسلہ سے ،اسماعیل ہنیہ کے سیاسی مشیر اور حماس کے سابقہ ذمہ داروں میں سے ایک احمد یوسف کا کہنا ہے کہ چاقو سے حملہ کرنے کی حکمت عملی حماس سے مخصوص نہیں، حقیقت میں دیکھا جائے تو چاقو ہی وہ واحد اسلحہ ہے جو سالوں سے حقارت جھیلتے آ رہے رنج و غم سہنے والے فلسطینیوں کے دفاع کا ذریعہ ہے جنہوں نے سالہا سال غیر شدت پسندانہ روش اختیار کر رکھی تھی اور انکے پاس چاقو کے علاوہ اور کوئی اسلحہ بھی نہیں تھا جس سے وہ اپنے اوپر ہونے والے حملوں کی روک تھام کرتے، چاقو کے ذریعہ ہونے والے حملوں سے فلسطینی دنیا کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ہم ابھی بھی اکیلے و تنہا اور مصیبت و رنج میں ہیں اور دنیا کو ہمارے لئے کچھ کرنے کی ضرورت ہے ۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ بعض فلسطین کے حامیوں نے اس خدشہ کا اظہار کیا ہے کہ شاید چاقو کے ذریعہ ہونے والے حملوں پر مشتمل ویڈیوز کی نشر و اشاعت یا اسرائیلی ٹاون سٹیز میں گاڑیوں کو اندھا دھند گھسا کر ان پر حملوں جیسی کلپس مغرب میں منفی اثر چھوڑنے کا سبب بن سکتی ہیں۔
اور اس سے مغرب میں فلسطینیوں کی حمایت میں چلنے والی وہ لہر متاثر ہو سکتی ہے جواسرائیل پر غزہ کی حمایت کی بنا پر وجود میں آئی ہے اور حقیقت تو یہ ہے کہ اسرائیل اب تک اس بات کی پوری کوشش کی ہے صہیونی و فلسطینی جنگ کو ذرائع ابلاغ کو خرید کراپنے حق میں پیش کر سکے اور میڈیا کے ذریعہ کئے جانے والے پروپیگنڈوں کے ذریعہ فلسطین کی داستان من مانے طریقے سے پیش کر سکے لیکن مجازی دنیا کے مختلف چلینز نے اسرائیل کے میڈیا پر اس تسلط کو اب توڑ دیا ہے اور آج ساری دنیا کے لوگ کم وبیش فلسطین کے ماجرا سے واقف ہیں، علاوہ بر ایں فلسطینیوں کی گزشتہ دہائیوں کی مظلومیت نیز غزہ پر اسرائیل کے حملہ کے دوران ہونے والی جنایتوں کے سامنے آنے کی بنا پردنیا کی توجہات فلسطینیوں کی طرف مبذول ہیں اور کافی حد تک دنیا اور خاص کر مغرب کی آنکھیں کھل گئی ہیں اور آج مغربی ممالک کے بہت سے لوگ یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ سر سے پاوں تک اسلحوں سے لیس اسرائیلیوں سے مقابلہ کرنے کے لئے چند نوجوانوں کے شجاعانہ حملے اور چاقو کے ذریعہ انکے شہادت طلبانہ کاروائیاں ظلم کی شکار فلسطینی قوم کی صرف اور صرف مظلومیت کے ترجمان ہیں ہرگز یہ فلسطینیوں کی درندگی و قساوت قلب اور انکے غیر انسانی سلوک پر دلیل نہیں بلکہ یہ فلسطینیوں کی بے بسی و انکی مظلومیت کی دلیل ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/ی/ت/۵۰۲/ ۱۰۰۰۲
ش

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=1175

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے