اوسلو سمجھوتا یا اندھیری غار - خیبر

اوسلو سمجھوتا یا اندھیری غار

17 ستمبر 2018 17:19

سابق اسرائیلی صدر شمعون پیریز نے اپنی کتاب میں لکھا کہ ’پیرس میں ۱۳ ستمبر ۱۹۹۳ء کو ہوٹل میں قیام کے دوران صبح سات بجے میں نے فلسطینی رہ نما احمد قریع کے کمرے کا دروازہ کھولا، انہیں بیدار کیا اور کہا میں آپ کے لیے ’اوسلو‘ سمجھوتے کا تحفہ لایا ہوں۔ یہ تحفہ دونوں قوموں[ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں] کو خوش کر دے گا۔‘

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، آج سے ۲۵ سال پیشتر امریکا اور صہیونی قوتوں نے فلسطینی لیڈر یاسرعرفات کو آزاد فلسطینی ریاست کے سہانے خواب دکھا کر ایک ایسے سمجھوتے پر مجبور کیا جو فلسطین کی تاریخ میں ایک ’گھناؤنا جرم‘ بن کر سامنے آیا۔ آج کی فلسطینی قیادت جہاں ایک طرف اس نام نہاد امن سمجھوتے کی وجہ سے سنگین مشکلات سے دوچار ہے تو وہیں اس غلطی کا اعتراف بھی کرتی دکھائی دیتی ہے۔

چند روز قبل تنظیم آزادی فلسطین کے سیکرٹری جنرل صائب عریقات نے ایک بیان میں اعتراف کیا کہ ستمبر ۱۹۹۳ء میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کا ’اوسلو معاہدہ‘ ایک بڑی غلطی تھی۔ فلسطینیوں سے اس معاہدے کے طے پانے کے وقت یہ غلطی سرزد ہوئی کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرانے میں ناکام رہی۔ دوسری طرف امریکا اور صہیونی اسرائیل کو فلسطینیوں سے تسلیم کرانے کے اپنے مذموم مشن میں کامیاب رہے۔

صائب عریقات نے مزید کہا کہ اوسلو سمجھوتے میں اسرائیل کو فلسطینی اراضی سے قبضہ ختم کرانے کا اعلان کرایا گیا مگراس معاہدے کے باوجود اسرائیل مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر اپنا غیرقانونی تسلط برقرار رکھے ہوئے ہے۔ کیا فلسطینیوں کا یہ گناہ تھا کہ انہوں نے ’اوسلو‘سمجھوتا کرکے اسرائیل کو تسلیم کیا۔ فلسطینیوں سے یہ غلطی سرزد ہوئی کہ اوسلو سمجھوتے کے وقت وہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور اس کی حدود کا اعلان کرانے میں ناکام رہے۔

’اس وقت ہم سے کہا گیا کہ ہم اسرائیل کو ارض فلسطین میں ایک قانونی ریاست تسلیم کریں مگر دوسری طرف اسرائیل نے فلسطینیوں کے وجود کو تسلیم کرنے سے مسلسل انکار کیا‘ اس کے بعد تنظیم آزادی فلسطین کی مرکزی کونسل نے اپنے اجلاسوں میں باربار اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ ’اوسلو سمجھوتے‘ میں طے شدہ نکات پرعمل درآمد کرتے ہوئے فلسطینی مملکت کو بھی تسلیم کرے‘۔

فلسطینی تجزیہ نگاروں کے مطابق ’اوسلو‘ سمجھوتا ایک تاریک غار کی طرح ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ قضیہ فلسطین کو ضائع کرنے کے مرحلے سے آگے بڑھ کر اس کا تصفیہ کیا جا رہا ہے۔ اوسلو معاہدے نے اسرائیلی ریاست کے اہداف کو واضح کیا ہے مگر فلسطینی قوم کے مستقبل کو مزید خطرات سےدوچار کردیا گیا۔
سویرجو کا کہنا تھا کہ ’اوسلو سمجھوتا‘ اپنے اندر کئی خطرات سموئے ہوئے ہے۔ اس میں فلسطین میں یہودی آباد کاری روکنے اور فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی کوئی شرط شامل نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے نزدیک ’اوسلو سمجھوتا‘ فلسطینی اراضی پرقبضے کو توسیع دینے کی ایک کامیاب کوشش تھی جس میں امریکیوں نے اسرائیل کا ساتھ دیا۔ اس وقت قضیہ فلسطین تاریخ کے انتہائی خطرناک دور سے گذر رہا ہے۔ ’اوسلو سمجھوتا‘ کے ۲۵ سال گذر جانے کے بعد آج غرب اردن اور بیت المقدس بھی ہمارے ہاتھ سے نکل گیا ہے اور دو ریاستی حل بھی ناکام ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اوسلو سمجھوتے‘ میں یہ بہت بڑی خامی تھی کہ اس میں فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کرایا گیا۔ فلسطینی قوم کو حق خود ارادیت سے محروم رکھا گیا۔ القدس اور فلسطینی پناہ گزینوں کے مسائل بھی جوں کے توں رہے۔ آج اسرائیل اپنی مرضی سے ان مسائل کو ڈیل کررہا ہے۔

خیال رہے کہ ذوالفقار سویر جو عوامی محاذ برائے آزاد فلسطین کے رہ نما ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں اپنی ویب سائیٹ پر ایک سروے کرایا جس میں انہوں نے فلسطین کی آزادی کے لیے مسلح مزاحمت یا سیاسی مذاکرات کار کے درمیان فلسطینیوں سےرائے لی۔ سروے میں ۷۰ فی صد فلسطینیوں نے حق خود ارادیت کےحصول کے لیے مسلح جدو جہد کی حمایت جب کہ فی صد فلسطینیوں نے حق خود ارادیت کےحصول کے لیے مسلح جدو جہد کی حمایت جب کہ ۳۰ فی صد نے مذاکرات پر زور دیا۔

فلسطینی تجزیہ نگار پروفیسر عبدالستار قاسم نے کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی نے ’اوسلو‘ سمجھوتے کے دوران قومی ایشوز اور فلسطینیوں کے دیرینہ حقوق کے منوانے کے معاملے میں ’سیاسی عریانیت‘ کا مظاہرہ کیا۔ فلسطینی لیڈر شپ نے قومی نوعیت کے اہداف کو صہیونی ریاست کے ہاں گروی رکھ دیا جس کے نتیجے میں دشمن نے قضیہ فلسطین کا تصفیہ کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ اوسلو معاہدے کے بعد قوم کے ۲۵ سال ضائع کردیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ’پی ایل او‘ نے داخلی نوعیت کے مسائل کے حل اور اسرائیل کے ساتھ جاری محاذ آرائی سے نکلنے کے لیے’اوسلو معاہدے‘ کو ایک ’حل‘ کے طور پر ذہن میں رکھا۔ دوسری طرف بعض عرب ممالک بھی قضیہ فلسطین کے سودے بازی کے حق میں تھے۔ یوں پی ایل او بھی ان کے ساتھ مل گئی اور اسرائیل کے ساتھ براہ راست بات چیت کے جھانسے میں آتی چلی گئی۔

فلسطینی تجزیہ کا کہنا ہے کہ فلسطینی قوم آج تک ’اوسلو سمجھوتے‘ کی تاریخی غلطی کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔ اس سمجھوتے کا انتہائی خطرناک پہلو عرب ممالک کے لیے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی شکل میں سامنے آیا۔

سیاسی دانشور ڈاکٹر جمال عمرو نے ’اوسلو سمجھوتے‘ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ آج جس طرح کے حالات چل رہےہیں وہ ’خیالی اور فرضی پروگرام کا نقطہ اختتام ہے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سمجھوتے کے نتیجے میں سب سے زیادہ مسجد اقصیٰ متاثر ہوئی۔ یہ اس معاہدے ہی کا شاخسانہ ہے کہ فلسطینی قوم آج قبلہ اول سے محروم ہوتی جا رہے اور ہرآنے والا دن قبلہ اول کے حوالے سے سنگین سےسنگین تر ہوتا جا رہا ہے۔

یہ خیالی پروگرام ۲۵ سال تک فلسطینیوں کے دماغوں پر مسلط رہا۔ اس کا مقصد فلسطینی تحریک مزاحمت کو ختم کرنا اور فلسطینی قوم کو نام نہاد اور خیالی وعدوں کی زنجیروں میں جکڑنا تھا۔

palinfo.com

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/گ/۱۰۰۰۳

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=12006

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے