اوسلو معاہدہ یا سیاسی عریانیت - خیبر

اوسلو معاہدہ یا سیاسی عریانیت

10 ستمبر 2018 14:59

آج کی فلسطینی قیادت جہاں ایک طرف اس نام نہاد امن سمجھوتے کی وجہ سے سنگین مشکلات سے دوچار ہے تو وہیں اس غلطی کا اعتراف بھی کرتی دکھائی دیتی ہے۔

خیبر صہیون تحقیقیاتی ویب گاہ: آج سے ۲۵ سال پیشتر امریکا اور صہیونی قوتوں نے فلسطینی لیڈر یاسرعرفات کو آزاد فلسطینی ریاست کے سہانے خواب دکھا کر ایک ایسے سمجھوتے پر مجبور کیا جو فلسطین کی تاریخ میں ایک ’گھناؤنا جرم‘ بن کرسامنے آیا۔ آج کی فلسطینی قیادت جہاں ایک طرف اس نام نہاد امن سمجھوتے کی وجہ سے سنگین مشکلات سے دوچار ہے تو وہیں اس غلطی کا اعتراف بھی کرتی دکھائی دیتی ہے۔

چند روز قبل تنظیم آزادی فلسطین کے سیکرٹری جنرل صائب عریقات نے ایک بیان میں اعتراف کیا کہ ستمبر ۱۹۹۳ء میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کا ’اوسلو معاہدہ‘ ایک بڑی غلطی تھی۔ فلسطینیوں سے اس معاہدے کے طے پانے کے وقت یہ غلطی سرزد ہوئی کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرانے میں ناکام رہی۔ دوسری طرف امریکا اور صہیونی اسرائیل کو فلسطینیوں سے تسلیم کرانے کے اپنے مذموم مشن میں کامیاب رہے۔

صائب عریقات نے مزید کہا کہ اوسلو سمجھوتے میں اسرائیل کو فلسطینی اراضی سے قبضہ ختم کرانے کا اعلان کرایا گیا مگر اس معاہدے کے باوجود اسرائیل مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر اپنا غیرقانونی تسلط برقرار رکھے ہوئے ہے۔ کیا فلسطینیوں کا یہ گناہ تھا کہ انہوں نے ’اوسلو‘سمجھوتا کرکے اسرائیل کو تسلیم کیا۔ فلسطینیوں سے یہ غلطی سرزد ہوئی کہ اوسلو سمجھوتے کے وقت وہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور اس کی حدود کا اعلان کرانے میں ناکام رہے۔

’اس وقت ہم سے کہا گیا کہ ہم اسرائیل کو ارض فلسطین میں ایک قانونی ریاست تسلیم کریں مگر دوسری طرف اسرائیل نے فلسطینیوں کے وجود کو تسلیم کرنے سے مسلسل انکار کیا‘ اس کے بعد تنظیم آزادی فلسطین کی مرکزی کونسل نے اپنے اجلاسوں میں باربار اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ ’اوسلو سمجھوتے‘ میں طے شدہ نکات پرعمل درآمد کرتے ہوئے فلسطینی مملکت کو بھی تسلیم کرے‘۔

خطرناک مرحلہ
فلسطینی تجزیہ نگار ذوالفقار سویرجو نے کہا کہ ’ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ قضیہ فلسطین کو ضائع کرنے کے مرحلے سے آگے بڑھ کر اس کا تصفیہ کیا جا رہا ہے۔ اوسلو معاہدے نے اسرائیلی ریاست کے اہداف کو واضح کیا ہے مگر فلسطینی قوم کے مستقبل کو مزید خطرات سےدوچار کردیا گیا‘۔

سویر جو کا کہنا تھا کہ ’اوسلو سمجھوتا‘ اپنے اندر کئی خطرات سموئے ہوئے ہے۔ اس میں فلسطین میں یہودی آباد کاری روکنے اور فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی کوئی شرط شامل نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے نزدیک ’اوسلو سمجھوتا‘ فلسطینی اراضی پرقبضے کو توسیع دینے کی ایک کامیاب کوشش تھی جس میں امریکیوں نے اسرائیل کا ساتھ دیا۔ اس وقت قضیہ فلسطین تاریخ کے انتہائی خطرناک دور سے گذر رہا ہے۔ ’اوسلو سمجھوتا‘ کے ۲۵ سال گذر جانے کے بعد آج غرب اردن  اور بیت المقدس بھی ہمارے ہاتھ سے نکل گیا ہے اور دو ریاستی حل بھی ناکام ہو گیا ہے۔

ذوالفقار سویرجو نے کہا کہ ’اوسلو سمجھوتے‘ میں یہ بہت بڑی خامی تھی کہ اس میں فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کرایا گیا۔ فلسطینی قوم کو حق خود ارادیت سے محروم رکھا گیا۔ القدس اور فلسطینی پناہ گزینوں کے مسائل بھی جوں کے توں رہے۔ آج اسرائیل اپنی مرضی سے ان مسائل کو ڈیل کررہا ہے۔

خیال رہے کہ ذوالفقار سویر جو عوامی محاذ برائے آزاد فلسطین کے رہ نما ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں اپنی ویب سائیٹ پر ایک سروے کرایا جس میں انہوں نے فلسطین کی آزادی کے لیے مسلح مزاحمت یا سیاسی مذاکرات کار کے درمیان فلسطینیوں سےرائے لی۔ سروے میں ۷۰ فی صد فلسطینیوں نے حق خود ارادیت کےحصول کے لیے مسلح جدو جہد کی ۔

سیاسی عریانیت

فلسطینی تجزیہ نگار ایاد القرا کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی نے اوسلو سمجھوتے  کے دوران قومی ایشوز اور فلسطینیوں کے دیرینہ حقوق کے منوانے کے معاملے میں ’سیاسی عریانیت‘ کا مظاہرہ کیا۔ فلسطینی لیڈر شپ نے قومی نوعیت کے اہداف کو صہیونی ریاست کے ہاں گروی رکھ دیا جس کے نتیجے میں دشمن نے قضیہ فلسطین کا تصفیہ کردیا۔

انہوں نے کہا کہ ’پی ایل او‘ نے داخلی نوعیت کے مسائل کے حل اور اسرائیل کے ساتھ جاری محاذ آرائی سے نکلنے کے لیے’اوسلو معاہدے‘ کو ایک ’حل‘ کے طورپر ذہن میں رکھا۔ دوسری طرف بعض عرب ممالک بھی قضیہ فلسطین کے سودے بازی کے حق میں تھے۔ یوں پی ایل او بھی ان کے ساتھ مل گئی  اور اسرائیل کے ساتھ براہ راست بات چیت کے جھانسے میں آتی چلی گئی۔

فلسطینی تجزیہ نگار ایاد القرا کا کہنا ہے کہ فلسطینی قوم آج تک ’اوسلو سمجھوتے‘ کی تاریخی غلطی کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔ اس سمجھوتے کا انتہائی خطرناک پہلو عرب ممالک کے لیے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی شکل میں سامنے آیا۔

مرکز اطلاعات فلسطین

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/گ/۱۰۰۰۳

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=11646

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے