ایرانی بہت صابر، بردبار اور ذہین ہیں بیوقوفی نہیں کر سکتے: ایرن اٹزیون - خیبر

یہودی ریاست کے سابق اہلکار کا مکالمہ (۴)

ایرانی بہت صابر، بردبار اور ذہین ہیں بیوقوفی نہیں کر سکتے: ایرن اٹزیون

12 جولائی 2018 17:20

میری رائے کے مطابق، ایرانی سمجھتے ہیں کہ امریکی حکومت ایرانی حکومت سے بہت پہلے بدل جائے گی۔ اور ٹرمپ کے جانے کے ساتھ ہی ایک نئے کھیل کا آغاز ہوگا۔ وہ بہت صابر اور بردبار ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ آخر کار ایک توازن برقرار ہوگا جس میں نہ تو ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ ہوگا اور نہ ہی ایرانی ایٹم بم بنائیں گے، ایرانی بہت ذہین ہیں اور ایسی بےوقوفی نہیں کرسکتے۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: یہودی ریاست کی قومی سلامتی کے سابق نائب سربراہ ’ایرن اٹزیون‘‘ کے ایران کے بارے میں ہاآرتص کو دئے گئے انٹرویو کا آخری حصہ درج ذیل ہے۔

ایرانی صابر اور حلیم ہیں
۔ امریکہ کے لئے ٹرمپ کی صدارت کے بارے میں کیا کہنا چاہیں گے؟
۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا رویہ درست نہیں ہے۔ وہ سفارتکاری اور سلامتی سے متعلق امریکی اداروں کو نقصان پہنچا رہے ہیں وہ ان اداروں کو تباہ کررہے ہیں۔ میں آج بھی امریکی وزارت خارجہ، ایف بی آئی اور سی آئی اے کے کارکنوں کے ساتھ بات چیت کرتا ہوں۔ ٹرمپ نہایت منظم طریقے اور بےرحمی کے ساتھ ان اداروں کو نابود کر رہے ہیں۔ کچھ افراد کو برخاست کرتے ہیں، کچھ کو جانے پر مجبور کرتے ہیں، سفارت کی سطح کے متعدد عہدے، نیز وزارت خارجہ کے اعلی عہدوں کو ٹرمپ نے خالی چھوڑ کردیا ہے۔

۔ بہت سے اسرائیلیوں کا خیال ہے کہ ٹرمپ ہمارے لئے اچھے صدر ہیں۔
۔ لگتا ہے کہ اسرائیل واحد ریاست ہے جہاں ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ منتخب ہوسکتے ہیں۔ یہ مسئلہ ہمارے لئے ایک پیغام کا حامل ہے اور افسوس ہے کہ ہماری حکومت کس حد تک ریاست پر مسلط تفکرات کو اپنے قابو میں لائے ہوئے ہے۔ جس قدر کہ اس ریاست میں اوباما کی بدنامی کے لئے کوششیں ہوتی تھیں، آج ٹرمپ کا چہرہ سجا کر اور مثبت کرکے دکھانے پر مرکوز کی گئی ہیں۔ ٹرمپ پر بنیامین نیتنیاہو اور صہیونی سرمایہ دار اور لیکوڈ پارٹی کا مالی سرپرست شیلڈن گرے ایڈلسن (Sheldon Gray Adelson) جیسے لوگوں کے گہرے اثرات ہیں اور یہ موضوع امریکی صدارتی انتخابات میں بھی واضح و آشکار تھا۔

۔ اوباما کے بارے میں آپ کی رائے؟
۔ اوباما تل ابیب کی سیکورٹی ترجیحات کا بہتر ادراک رکھتے تھے۔ جبکہ ٹرمپ کے پاس کوئی خاص پروگرام نہیں ہے اور ایک اچھی مفاہمت تک پہنچنے سے عاجز ہیں۔ اور نتینیاہو کو توقع ہے کہ وہ بڑا کام ٹرمپ ہمارے لئے انجام دیں!

۔ یعنی ایران پر حملہ؟
۔ جی ہاں، نیز وہ امریکہ ہی سے شام اور فلسطینیوں کے مسئلے کے حل کی توقع بھی رکھتے ہیں۔

۔ کیا ایسا ہوسکتا ہے؟
۔ نہیں، کیونکہ ایرانی طویل عرصے کو مد نظر رکھ کر سوچتے ہیں اور اقدام کرتے ہیں۔ میری رائے کے مطابق، ایرانی سمجھتے ہیں کہ امریکی حکومت ایرانی حکومت سے بہت پہلے بدل جائے گی۔ اور ٹرمپ کے جانے کے ساتھ ہی ایک نئے کھیل کا آغاز ہوگا۔ وہ بہت صابر اور بردبار ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ آخر کار ایک توازن برقرار ہوگا جس میں نہ تو ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ ہوگا اور نہ ہی ایرانی ایٹم بم بنائیں گے، ایرانی بہت ذہین ہیں اور ایسی بےوقوفی نہیں کرسکتے۔

۔ آپ کی قبل از وقت سبکدوشی کی وجہ کیا تھی؟
۔ میں وزارت خارجہ میں تھا اور طے یہ تھا کہ مجھے واشنگٹن میں ریاست کے سفارتخانے کے دوسرے درجے کے اہلکار کی حیثیت سے متعین کیا جائے، میرے بچے بھی واشنگٹن کے اسکولوں میں داخل ہوئے تھے۔ لیکن میرے اور اس وقت کے وزیر خارجہ اور موجودہ وزیر جنگ آویگدور لیبرمین (Avigdor Lieberman) کے درمیان کچھ اختلافات کی بنا پر حالات بدل گئے۔ میں آپ کو ایک داستان سنا سکتا ہوں۔ درحقیقت دو واقعات مجھے یاد آرہے ہیں۔ پہلے واقعے میں اس وقت کے وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل آرون آبراموویچ (Aaron Abramovich) نے مجھے ہدایت کی کہ نئے وزیر خارجہ کو بریف کرنے کے لئے تیاری کروں۔ میں نے ایران کے بارے میں وزیر خارجہ کو بریف کرنے کی تیاری کرلی۔ میں ایک خفیہ لیپ ٹاپ لے کر پہنچا جس میں ایران کے سلسلے مین بریفنگ مرتب کی گئی تھی۔ اور ہر وہ بات اس میں موجود تھی جو کوئی بھی ایران کے بارے میں جاننا چاہتا تھا لیکن کوئی بھی ان کے بارے میں پوچھنے سے کتراتا تھا۔ ہم ایک کمرے میں بیٹھ گئے، جہاں چند ہی افراد موجود تھے۔ آرون نے کہا: ایرن اتزیون بریف کرتے ہیں۔ لیبرمین نے کہا: تمہارے پاس کہنے کو کچھ ہے؟ میں نے کہا: ایران کے سلسلے میں ایک مکمل منظرنامہ؛ لیبرمین نے کہا: مجھے اس کا کوئی شوق نہیں ہے اور ہماری یہ نشست یہیں ختم ہوئی،یہ ایک پیغام ہے، ایک نشانی ہے۔
کئی ہفتے بعد، وزارت خارجہ کے اعلی اہلکاروں کا مختصر سا اجتماع قدس شہر کے قدیمی حصے کے پاس بنے ہوئے شہر مامیلا کے ایک ہوٹل میں منعقد ہوا۔ لیبرمین نے ہماری طرف رخ کرکے کہا: مصر کے سلسلے میں اسرائیل کے کیا مفادات ہیں؟ اور میں نے ـ جو ممتاز رتبے کا حامل تعلیم یافتہ شخص تھا اور سلامتی کونسل سے آیا تھا، ـ ہاتھ اٹھایا اور کہا: “امن معاہدے کی پاسداری اور ۔۔۔” اور لیبرمین نے قہقہہ لگایا اور ہنستے ہنستے کہنے لگے: “اے لڑکے، کس قدر وابستہ ہو بائیں بازو سے تم!”، اور پھر میرے تمام دوست بھی ان کے ساتھ ہنسنے لگے۔ یہاں انسان اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ وہ ایک ہی انتخاب کرسکتا ہے: یا تو ان کے ساتھ گھل مل جاؤ، یا پھر وہ تمہیں کھڈے لائن لگایا جائے گا۔ میں نے اس کے بعد کئی ممالک میں سفارت کا عہدہ سنبھالنے کی کوششیں کیں لیکنیہ لوگ رکاوٹ بنے، جس کے بعد مجھے واشنگٹن میں ناظم الامور کے عہدے کی پیشکش کی گئی۔ انھوں نے حتی واشنگٹن میں میری موجودگی کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوششیں بھی کیں۔

منبع: اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/م/ب/۱۰۰۰۳

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=7754

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے