ایران اور اسرائیل کی براہ راست لڑائی کے بارے میں سوچنا ہی نہیں چاہتا: ایرن اٹزیون - خیبر

یہودی ریاست کے سابق اہلکار کا مکالمہ (۱)

ایران اور اسرائیل کی براہ راست لڑائی کے بارے میں سوچنا ہی نہیں چاہتا: ایرن اٹزیون

10 جولائی 2018 12:41

“ایران کے ساتھ جنگ ایک ایسی چیز ہے جسے میں تصور ہی نہیں کرنا چاہتا”، یہ جملہ “ایرن اٹزیون” (Eran Etzion) کا ہے جو برسوں تک یہودی ریاست کی سلامتی کونسل اور وزارت خارجہ میں کام کرتے رہے ہیں۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: یہودی ریاست کی قومی سلامتی کے سابق نائب سربراہ نے ہاآرتص کے ساتھ اپنے مکالمے میں ایران کے ساتھ جنگ سے خوف، ایران کو شام سے نکال باہر کرنے میں اس ریاست کی بےبسی، ریاست کی تزویری کمزوریوں، ۷۰ سال گذرنے کے بعد بھی یہودی ریاستی ڈھانچے کے نقائص کی طرف اشارے ہوئے ہیں نیز کینیڈا کے حکام کے ساتھ ایک ایرانی سفارتکار کی پنجہ آزمائی کا قصہ بھی بیان ہوا ہے۔
“ایران کے ساتھ جنگ ایک ایسی چیز ہے جسے میں تصور ہی نہیں کرنا چاہتا”، یہ جملہ “ایرن اٹزیون” (Eran Etzion) کا ہے جو برسوں تک یہودی ریاست کی سلامتی کونسل اور وزارت خارجہ میں کام کرتے رہے ہیں۔ یہاں صہیونی اخبار “ہاآرتض” (Haarrestz) کے ساتھ “اتزیون” کا تفصیلی مکالمہ پیش خدمت ہے جس میں ایران اور یہودی ریاست کے درمیان جنگ کے امکان پر روشنی ڈالتے ہیں اور اپنی پوزیشن واضح کردیتے ہیں۔
لگتا ہے کہ سبکدوشی یا برطرفی اور دنیاوی منفعتوں سے ناامیدی کے بعد یا پھر انتقامی کاروائی کرتے ہوئے یہودی و نصرانی ماہرین سچ بولنا شروع کردیتے ہیں اور حقائق بیان کرنے لگتے ہیں، یا شاید ان کے مقاصد کچھ اور ہیں!!
اتزیون ۱۹۹۲ میں صہیونی وزارت خارجہ میں پہنچے اور بعد کے برسوں میں قومی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ کے عہدے تک بھی ترقی کرگئے؛ ۲۰۱۳ میں انہیں واشنگٹن میں یہودی سفارتخانے کا ناظم الامور مقرر کیا جانا تھا لیکن ان ہی برسوں میں ان سفارتکاروں کے زمرے میں قابل سزا قرار پائے جنہوں نے تل ابیب کی مرضی کے بغیر ذرائع ابلاغ کے ساتھ بات چیت کی تھی۔
ہاآرتض کے ساتھ ان کے اس مکالمے پر نیتن یاہو کا دفتر بھی سیخ پا ہے جس نے اتزیون کی باتوں کو “بکواس” اور “سچائی سے عاری” جیسے خطابات سے نوازا ہے۔

حزب اللہ کے ساتھ جنگ کا خطرناک انجام، ایران کے ساتھ جنگ کے ناقابل تصور نتائج
۔ اس وقت شام سب سے زیادہ مشتعل نقطہ ہے جہاں ہم نچلی سطح کی جنگ میں مصروف ہیں لیکن اس میں شدت آسکتی ہے کیونکہ اس وقت ہمہ جہت لڑائی اور ہمارے درمیان روس حائل ہے اور نیتن یاہو مسلسل کہے جارہے ہیں کہ “ہمارا مقصد ایران کو شام سے نکال باہر کرنا ہے”؛ اور دوسرے حکام بھی ان ہی کی بات کو دہراتے رہتے ہیں۔ جبکہ اس ہدف تک پہنچنا ہماری قوت سے خارج ہے اور اگر ہم اصرار کریں تو جنگ چھڑ سکتی ہے اور وہ ایک غیر مستحکم ماحول میں، اور وہ بھی ایسے ماحول میں جہاں ایرانی بھی موجود ہیں اور وہ حزب اللہ کے حامی ہیں؛ اور ترکی بھی اس جنگ میں شریک ہے۔ اس وقت روشوں کا تعین روسیوں کے ہاتھ میں ہیں؛ اس لئے کہ وہ اس میدان کے تمام کھلاڑیوں کے ساتھ بات چیت کرسکتے ہیں؛ لیکن وہ ایرانیوں سے کچھ کہتے ہیں اور اسرائیلیوں سے کچھ۔ صرف ایک بات یقینی ہے اور وہ یہ کہ امریکہ اپنے فوجی دستے شام سے نکال رہا ہے، ایک ہلا دینے والا واقعہ رونما ہونے والا ہے: پہلی بار ایرانیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان عسکری تصادم کا امکان پیدا ہوا ہے اور عین ممکن ہے کہ یہ صورت حال ہمہ جہت لڑائی میں بدل جائے۔
۔ کیا مطلب؟
مطلب یہ ہے کہ اگر حزب اللہ اس میدان میں اترے اور تل ابیب اور دوسرے شہری مراکز میں تباہی اور بربادی کا آغاز ہوجائے تو اس کی سطح بہت وسیع ہوگی، جس کی مثال اس سے پہلے ہم نے نہیں دیکھی ہے۔ ہمارے پاس حزب اللہ کو روکنے کے لئے کچھ بھی نہ ہوگا۔ صرف جواب دینے کا راستہ ہوگا۔ لیکن اگر بیروت تل ابیب کی بربادی کے بدلے میں تباہ ہوجائے، تو کیا اس سے کسی کو چین حاصل ہوسکے گا؟ لیکن جب اسرائیل اور حزب اللہ کی جنگ کا انجام کچھ ایسا ہو جس کی مثال گذشتہ تاریخ میں نہیں پائی جاتی تو اس صورت میں یقینا ایران اور اسرائیل کی براہ راست لڑائی کا انجام کچھ ایسا ہوگا جس کے بارے میں، میں سوچنا ہی نہیں چاہتا۔ اگرچہ بدقسمتی سے میں ایسے عہدوں پر فائز رہا ہوں جہاں مجھے اس کے بارے میں سوچنا پڑتا رہا ہے۔ اس کی ایک قابل اعتماد مثال ایران اور عراق کی آٹھ سالہ جنگ ہے جس میں ۱۰ لاکھ افراد کام آئے۔

تزویری گہرائی، ایران کی تاریخ اور کینیڈین حکام کو ایرانی سفارتکار کا طعنہ
۔ کیا اسرائیل ایران سے زیادہ طاقتور نہیں ہے؟
۔ اہم بات یہ ہے کہ آپ کس چیز کو طاقت کا معیار سمجھتے ہیں؟ ایک کلیدی جملہ ہے جس کو “تزویری گہرائی Strategic Depth” کہتے ہیں۔ ایرانیوں نے حال ہی میں موجودہ کشمکش کے دوران اس جملے کو استعمال کیا ہے۔ ایک اعلی ایرانی اہلکار نے کہا کہ “یہودی ریاست کو سوچنا چاہئے کہ اس کی کوئی تزویری گہرائی نہیں ہے”۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں ابتدائی اصولوں کی طرف جانا چاہئے۔ اسرائیل کے پاس عسکری طاقت ہے لیکن ایران کے پاس ایک عظیم جغرافیہ، آٹھ کروڑ کی آبادی اور کئی ہزار سالہ تاریخ ہے۔ ایران ایک تہذیب ہے۔ تل ابیب میں مقیم ایک کینیڈین سفیر نے ایک دفعہ میرے ساتھ بات چیت کے دوران کہا: ایک مرتبہ کینیڈا کی وزارت خارجہ کے حکام اور وہاں مقیم ایرانی سفیر کے درمیان ملاقات ہوئی تو ایرانی سفیر نے کمرے میں پڑے ہوئے قالین کی طرف اشارہ کیا اور کہا: “ایران ایک پارسی قالین ہے جس کے بُننے میں ۵۰۰۰ سال کا طویل عرصہ لگا ہے جبکہ کینیڈا اس قالین پر پڑی ہوئی دھول کی باریک سی تہہ کی مانند ہے”۔
ایرانی ایک غرور آمیز وہم میں مبتلا ہیں، وہ عظمت رفتہ کے بارے میں سوچتے ہیں اور اب جبکہ علاقہ کمزور پڑ گیا ہے تو وہ محسوس کررہے ہیں کہ عظمت رفتہ کے احیاء کا امکان حاصل ہوا ہے؛ وہ جب اپنی تزویری حکمت عملیوں کے لئے منصوبہ بندی کرتے ہیں تو ان کی حد نظر جبل الطارق تک پہنچتی ہے؛ اور یہ جو ہم ابھی تک احتیاط کررہے تھے کہ ایران کے ساتھ براہ راست لڑائی سے بچے رہیں، یہ ایک حادثاتی موضوع نہیں تھا بلکہ ایک دانشمندانہ پالیسی تھی اور دانشمندی یہ ہے کہ ہم پھر بھی محتاط رہیں، میں فکرمند ہوں کیونکہ مجھے محسوس ہورہا ہے کہ احتیاط برتنے میں ماضی جیسی سختگیری کا فقدان ہے۔

۔ لگتا ہے کہ اسرائیل کی رائے عامہ آپ سے متفق نہیں ہے، یہاں بہت سوں کا خیال ہے کہ اسرائیل بہت طاقتور ہے اور کوئی غیر متوقعہ واقعہ رونما نہیں ہوگا۔
۔ غلط بات ہے؛ اگر آپ کو یاد ہو ایک دن وزیر اعظم نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ سیکورٹی کابینہ کی نشست منعقد ہونے کو ہے، تو اس کے بعد پریشانی اور ذہنی و فکری افراتفری اور افواہوں نے پورے معاشرے کو گھیر لیا یہاں تک کہ ایک بیانیہ جاری ہوا اور اعلان ہوا کہ “فکرمندی کی ضرورت نہیں ہے، کوئی ناگوار حادثہ رونما نہيں ہوا ہے”۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہماری رائے عامہ مکمل طور پر ہوشیار ہے، اور جانتی ہے کہ ہماری حالت اچھی ہے لیکن اس حقیقت کا ادراک بھی رکھتی ہے کہ برف کی جس تہہ پر ہم آگے بڑھ رہے ہیں کس قدر نازک اور زد پذیر ہے”۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری/م/ب/۱۰۰۰۳

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=7699

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے