ایران کے ساتھ جنگ کا تصور اور بےخوابی - خیبر

یہودی ریاست کے سابق اہلکار کا مکالمہ (۲)

ایران کے ساتھ جنگ کا تصور اور بےخوابی

10 جولائی 2018 12:56

اٹزیون نے اس مکالمے میں ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے اور ایران کی طرف سے ایٹم بم کے حصول کی کوششوں اور تل ابیب پر ایٹمی حملے جیسے موضوعات کے بارے میں بھی اظہار خیال کیا اور کہا کہ یہ سب محض ایک سیاسی نعرہ ہے، اور حتی اگر ایران کے پاس ایٹم بم ہو بھی، وہ اسے استعمال نہیں کرے گا۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ:گزشتہ سے پیوستہ

مکالمے کے ایک حصے میں اتزیون نے ۲۰۰۹ سے ۲۰۱۳ تک کے عرصے میں تل ابیب اور تہران کے درمیان جنگ کے امکان کے حوالے سے نیتن یاہو پر ضمنی تنقید کرتے ہوئے کہا: “میں نے اس موضوع پر بہت کام کیا ہے، اس وقت بھی جب میں قومی سلامتی کونسل میں تھا اور اس وقت بھی جب وزارت خارجہ میں تھا؛ ایسی کئی باتیں ہیں جن کے بارے میں، میں کچھ نہیں کہہ سکتا، اگر میری بیوی یہاں ہوتی تو وہ آپ سے کہہ دیتیں کہ کتنی راتیں ایسی گذریں جب میں سو ہی نہ سکا، اس لئے نہیں کہ میں اپنے دفتر میں کام کررہا تھا، بلکہ اس لئے کہ میں بہت زیادہ فکرمند تھا”۔
۔ آپ اس وقت کس چیز سے خوفزدہ تھے؟
۔ میں بالواسطہ وضاحت کرتا ہوں۔ ایران کا مسئلہ ایک کلاسک مسئلہ ہے جس میں سفارتی اور عسکری شعبوں کے درمیان ہمآہنگی کی ضرورت ہے۔ ایک شہری اور ایک پیشہ ور شخص کے طور پر میرا مطالبہ یہ ہے کہ ریاست ان دونوں عناصر کے موقف کو عیاں کرے؛ لیکن ہماری ریاست سفارتی پہلو کو نمایاں نہیں کیا کرتی؛ اور اگر کبھی سفارتی پہلو کو نمایاں کرنا بھی چاہے تو اس کو توڑ مروڑ کر اور غیر پیشہ ورانہ انداز سے نمایاں کرے گی۔ اس میں شک نہیں ہے کہ سیاسی اور سفارتی شعبے بالکل ملے جلے شعبے ہیں۔ جو لوگ اس شعبے سے منسلک ہیں، ان کا تصور یہ ہے کہ گویا سفارتکاری کو سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اسے نہیں سمجھتے جس کے نتیجے میں معاشرے کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ یہ زندگی اور موت سے متعلق موضوعات ہیں۔ ہم ابتداء ہی میں وزارت خارجہ میں اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ ممکن ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی وقت مفاہمت ہوجائے اور اس سلسلے میں زیادہ بحث و تمحیص غیر مقید ہے۔ لیکن کیا آپ تصور کرسکتے ہیں کہ آپ کسی بات کو سمجھ لیں لیکن سیاسی شعبے کی حمایت حاصل نہ کرسکیں؟

“بڑی ڈیل” سے ایٹمی معاہدے تک
اٹزیون نے اس مکالمے میں ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے اور ایران کی طرف سے ایٹم بم کے حصول کی کوششوں اور تل ابیب پر ایٹمی حملے جیسے موضوعات کے بارے میں بھی اظہار خیال کیا اور کہا کہ یہ سب محض ایک سیاسی نعرہ ہے، اور حتی اگر ایران کے پاس ایٹم بم ہو بھی، وہ اسے استعمال نہیں کرے گا۔
نیتن یاہو ایٹمی معاہدے کو ایک بری مفاہمت کا نام دیتے ہیں اور اتزیون اس بارے میں کہتے ہیں: میرے خیال میں بھی اور ماہرین کی اکثریت کے خیال میں بھی یہ بری مفاہمت نہیں ہے۔ نیتن یاہو نے اس کے اوپر برے معاہدے کا لیبل چسپاں کیا اور کہا کہ “عدم مفاہمت ایک بری مفاہمت سے بہتر ہے”، اور انھوں نے اس کے خلاف محاذ آرائی شروع کردی؛ اور ہاں! ایسا کوئی بھی “اچھا معاہدہ” جس کے تحت ایران نے اپنی پوری ایٹمی صلاحیت کو ایک طرف رکھ لے اور جوہری مطالعات کے تمام مراکز کو بند کرے، اصولی طور پر ممکن ہی نہیں ہے۔

۔ دوسرے مسائل بھی تو ہیں، علاقے میں ایران کی عسکریت پسندی اور دہشت گردی کی حمایت وغیرہ!
۔ ایران کے بارے میں کئی عناصر پر غور کیا جاسکتا ہے: جوہری عنصر، علاقے میں دہشت گردی اور تخریبی کاروائیوں کا عنصر، میزائل ٹیکنالوجی کا عنصر، ائیڈیالوجی ـ تھیالوجی ـ نظریاتی، عنصر؛ تصور یہ تھا کہ ایک وسیع محاذ میں ایران کا سامنا کیا جاسکتا ہے اور کرنا بھی چاہئے اور ایرانیوں کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کرنا چاہئے۔ اس روش کو ایک بڑی ڈیل (grand bargain) کا نام دیا گیا تھا۔ جس کے تحت ہم تمام موضوعات پر بحث کرتے اور مفاہمت تک پہنچتے اور اسی دائرے میں ایران کے نظام حکومت کی مشروعیت (Legitimacy) کو تسلیم کرتے۔ طویل عرصے سے ایرانیوں کی بڑی فکرمندی ـ جو ان کے خیال میں جائز بھی تھی ـ نظام کی تبدیلی کی کوششوں سے عبارت ہیں۔ ان کو اس سے قبل بھی ایسے تجربے سے گذرنا پڑا ہے چنانچہ وہ حق بجانب ہیں۔
۔ تو پھر اس معاہدے میں ایسی خصوصیت کیوں نہیں ہے؟
۔ بڑی ڈیل کا تصور کئی برس پہلے، ۲۰۰۳ میں ایرانیوں اور یورپیوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے آغاز پر سامنے آیا لیکن اس حساس مرحلے میں، جب شاید اس کی سمت بڑھنا ممکن تھا، لیکن اسرائیلیوں نے بھی اور امریکیوں نے بھی اس کو مسترد کیا۔ انھوں نے کہا کہ ان تمام موضوعات کے درمیان ایک اہم اور حیاتی موضوع پایا جاتا ہے جو کہ جوہری مسئلہ ہے جبکہ باقی موضوعات کو ملتوی رکھا جاسکتا ہے۔

۔ کون سے اسرائیلی؟
۔ نتین یاہو بھی اور ریاستی اداروں میں موجود دوسرے افراد بھی۔ یہ بجائے خود ایک معقول رویہ ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جو کچھ آپ چاہتے تھے وہ انجام پائے اور پھر آپ اٹھ کر موقف تبدیل کریں اور چیخیں چلائیں کہ تو میزائلوں کا مسئلہ کیا ہوا، دہشت گردی کا مسئلہ کیا ہوا، اور یہ کہ یہ ساری باتیں معاہدے میں کیوں نہیں ہیں؟؟؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری/م/ب/۱۰۰۰۳

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=7698

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے