’’اینا چپمین‘‘ امریکی تاجر جس کے نشانے پر تھے - خیبر

یہودی ریاست کی جاسوس چڑیاں (۳)

’’اینا چپمین‘‘ امریکی تاجر جس کے نشانے پر تھے

03 جولائی 2018 09:24

زیادہ تر برطانوی اور امریکی تاجر اس جاسوسہ کے نشانے پر ہوتے تھے جنہیں وہ ان ہی افراد کے مخصوص نائٹ کلبوں میں شکار کرتی تھی۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، تشہیر و اشتہار نیز جنسیات کے لئے عورتوں کا آلاتی استعمال مغربی سیاستدان طبقے کی ثقافت کا حصہ بن چکا ہے۔ اسی بنا پر جاسوسی اداروں میں جاسوسی کے لئے بھی عورت کے استعمال کا رجحان بڑھ گیا۔ خاتون جاسوسائیں جنہیں یا تو وہ ابابیل کہیں گے یا چڑیا۔ یہ ادارے مختلف سیاستدانوں اور عسکری اور سیکورٹی اداروں کے سربراہوں کی کمزوریاں تلاش کرتے ہیں جو اگر شہوت پرست ہوں تو ان کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔

مشہورترین یا پھر بدنام ترین جاسوساؤں کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان کی جڑیں یہودی خاندانوں میں پیوست ملتی ہیں جن کی پرورش بھی یہودی نسب کے خاندانوں میں ہوئی ہوتی ہے۔ جاسوساؤں کی تربیت اور ان کا استعمال آج دنیا کے اکثر جاسوسی اداروں کا خفیہ ہتھیار بن چکا ہے۔

اینا واسیلییونا کوشچینکو (Anna Vasil’yevna Kushchyenko) یا اینا چیپمین (Anna Chapman) سنہ ۱۹۸۲ کو روس میں پیدا ہوئی۔ شادی کے بعد برطانوی شہریت حاصل کی۔ نیویارک میں مقیم ہوئی اور ۲۰۱۰ کو ۹ دوسرے افراد کے ہمراہ روس کے لئے جاسوسی کے الزام میں گرفتار ہوئی اور روس اور امریکہ کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے سلسلے میں روس واپس بھجوا دی گئی۔ اینا چپمین ماڈلنگ اور تشہیر کے شعبے سے منسلک ہوکر مختلف اہم شخصیات کے ساتھ جنسی رابطہ برقرار کرکے روس کے خارجی جاسوسی کے ادارے ایس وی آر کے لئے جاسوسی کرتی تھی۔
زیادہ تر برطانوی اور امریکی تاجر اس جاسوسہ کے نشانے پر ہوتے تھے جنہیں وہ ان ہی افراد کے مخصوص نائٹ کلبوں میں شکار کرتی تھی۔ اس کا نشانہ بننے والوں میں مشہور برطانوی تاجر فلپ گرین (Sir Philip Nigel Ross Green) اور ایرانی نژاد (عیسائی) برطانوی تاجر ونسنٹ چنگیز (Vincent Tchenguiz) سمیت مختلف امریکی اور برطانوی تاجروں سے ناجائز تعلق برقرار کرکے ان سے خفیہ معلومات حاصل کیں اور برطانیہ کے بارکلیز بینک (Barclays Investment Bank) کے امریکی شعبے سے بھی خفیہ معلومات حاصل کرکے روس بھجواتی رہی۔ اسے روس واپس لایا گیا تو ویلادیمیر پیوٹن نے اسے خراج تحسین پیش کیا۔ وہ اپنے حسن و جمال کے بدولت امریکہ کے اعلی حکام اور بالخصوص اوباما انتظامیہ میں اچھا خاصا نفوذ رکھتی تھی اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے اہم معلومات روسی حکومت کو فراہم کیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری/ی/ت/۱۰۰۰۱

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=7114

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے