ایک شرمناک ناکامی - خیبر

سعودی خاندان میں اقتدار کی خونی جنگ (تیسرا حصہ)

ایک شرمناک ناکامی

06 دسمبر 2018 16:40

شاید ان دو واقعات میں سب سے بڑا فرق یہی ہے کہ عبید زندہ ہے اور جنیوا کے نواح میں رہائش پذیر ہے جبکہ خاشقجی کو مارا گیا ہے، اس کے بدن کا مُثلہ کیا گیا ہے کوئی بھی نہیں جانتا کہ اس کی لاش کہاں ہے۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ؛ ایم بی ایس نے جی ۲۰ کے اجلاس میں سعودی ویژن ۲۰۳۰ کے جدت پسندانہ منصوبے کی وضاحت کی لیکن باخبر ذرائع کے مطابق، وہ نجی بیٹھکوں میں بہت زیادہ پریشان نظر آیا جب اس کو معلوم ہوا کہ جنرل ادریسی کا انتقامی منصوبہ شرمناک ناکامی سے دوچار ہوچکا ہے۔ ایم بی ایس سعودی عرب واپس پہنچا تو اس نے اس موضوع کے بارے میں تحقیقات کا حکم دیا اور الادریسی کو نائب سربراہی کے عہدے سے ہٹا کر “احمد العسیری” کو اس کی جگہ انٹیلیجنس کا نائب سربراہ بنایا۔ العسیری وہی شخص تھا [جو کسی وقت یمن پر ظآلمانہ سعودی جنگ کا ترجمان رہا اور سعودی افواج کی جگ ہنسائی کا سبب بنتا رہا تھا] اور خاشقجی کے قتل کے بعد انٹیلیجنس کی نائب سربراہی سے بھی ہٹایا گیا۔ سعودی حکومت نے ایک خصوصی وفد چین بھجوایا اور عبید کے مسئلے میں انٹیلیجنس ذرائع کے غلط استعمال کے پیش نظر چینی حکومت سے معافی مانگ لی۔

ایم بی ایس کے ایک قریبی سعودی اہلکار نے ایک خصوصی بیٹھک میں اپنے ایک سعودی ہم وطن سے سعودی حکومت کی ناراضگی اور جھنجھلاہٹ کا یوں اظہار کیا ہے: “وہ الادریسی کی غلطی پر برہم تھے۔ میرا مطلب ہے کہ سعودی عرب حتی کہ اس برتاؤ کی وجہ سے جھنجھلاہٹ کا شکار تھا ۔۔۔ ادریسی نے ایک غلطی کا ارتکاب کیا۔ اس کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھے۔ عبید نے اپنے اوپر لگے الزام “کہ وہ دہشت گرد ہے” کے بارے میں کہا: “یہاں نا اہل ٹھگوں نے واضح طور پر طاقت کا غلط استعمال کیا ہے۔ گوکہ مجھے یقین نہیں ہے کہ ان واقعات کے لئے ولیعہد نے کوئی حکم دیا ہوگا!!!”

لیکن ایم بی ایس کے شاہی عدالت نے واضح طور پر سبق نہیں سیکھا۔ حتمی کنٹرول کے حصول کی غرض سے تصوراتی دشمنوں کا شبہہ مزید گہرا ہوگیا۔ باخبر امریکی اور سعودی ماہرین کے مطابق، سعودیوں نے بہار سنہ ۲۰۱۷ع‍ سے مخالفین کے اغوا اور انہیں خفیہ مقامات پر رکھنے کا خفیہ منصوبہ شروع ہوا۔ اس منصوبے میں ایک خصوصی “ٹائیگر ٹیم” کو بھی شامل کیا گیا جو شاہی دربار کے مطالعات اور ابلاغیات امور کے دفتر کے زیر انتظام تھی جس کا سربراہ سعود القحطانی تھا۔ امریکی اور سعودی ماہرین کے مطابق، ایم بی ایس کے ایک اور قریبی مشیر “ترکی آل الشیخ” نے ان خفیہ مقامات کی نگرانی میں مدد بہم پہنچائی۔

سعود القحطانی ایم بی ایس کا مشیر

ایم بی ایس نے اندرونی بغاوت کا منصوبہ گذشتہ سال اس وقت بنایا جب وہ اس خوف میں مبتلا ہوا کہ اس کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔ جون ۲۰۱۷ع‍ میں ولیعہد شہزادہ محمد بن نائف کو نہایت ذلت آمیز انداز سے برخاست کیا گیا اور ایم بی ایس کو اس کی جگہ بٹھایا گیا۔ نومبر ۲۰۱۷ع‍ میں، کوشنر کے دورہ ریاض کے ایک ہفتے بعد، اس نے اپنے شاہی مخالفین کو گرفتار کرلیا۔ حراستوں کا یہ سلسلہ ترکی بن عبداللہ کی گرفتاری سے شروع ہوا؛ اور گرفتار افراد کو ریٹزکارلٹن میں کے “ذخیرہ” کیا گیا۔

ریٹز کارلٹن ہول [یا لکژری قیدخانے] کے قیدیوں میں بادشاہت کے سینئر شہزادے اور عام لوگ شامل تھے۔ ریٹز کارلٹن ہوٹل نے ہوٹل کے طور پر اپنے کاروبار کا آغاز کیا تو قیدیوں کو خفیہ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

مئی ۲۰۱۸ع‍ میں متعدد انسانی حقوق کی خاتون کارکنوں کو ـ ایم بی ایس کے عورتوں کی ڈرائیونگ سے پابندی اٹھانے کے ایک مہینے بعد ـ گرفتار کرلیا۔ ایم بی ایس کے بعض ناقدین کہتے ہیں کہ اس نے خاتون کارکنوں کو گرفتار کیا کہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی مطلوبہ اصلاحات کا سہرا ان خواتین کے سر بندھ جائے۔ ہیومین رائٹس واچ کے قریبی ذریعے کے مطابق خاتون کارکنوں کے ساتھ بدسلوکی اس قدر شدید تھی کہ ان میں سے ایک نے اپنی کلائیاں کاٹ کر خودکشی کی کوشش کی ہے۔

عبید سویٹزرلینڈ میں مقیم ہے۔ اس کو ـ ملائیشیا خودمختار امدادی فنڈ [یا ۱Malaysia Development Berhad (1MDB) یا The Malaysian sovereign wealth fund] سے پیٹرو سعودی انٹرنیشنل کہلانے والی کمپنی کو غیر قانونی ادائیگیوں کے الزام میں ـ سویٹزرلینڈ اور امریکہ کی طرف سے زیر تفتیش رکھا گیا ہے۔ اس کمپنی کی بنیاد ترکی بن عبداللہ اور عبید نے رکھی تھی۔ تاہم عبید پر کسی غلط کام کا الزام نہیں لگا ہے۔

سفاکانہ مالیخولیا

جو کچھ سعودی بادشاہی میں خاندانی کشیدگیوں اور رقابتوں کی داستان میں ناقابل انکار اور ناقابل فراموشی ہے، یہ ہے کہ اس طرح کی رقابت بدگمانی اور مالیخولیا (Paranoia) کا سبب بن جاتی ہے جو خاشقجی کے قتل پر منتج ہوئی۔

کیوں کسی نے بھی خطاؤں کے اس ہلاکت خیز تسلسل کا راستہ نہیں روکا؟ چین میں طارق عبید کی جبری ملک واپسی کی ناکام کوشش، خوفناک حد تک استنبول میں خاشقجی کے قتل سے شباہت رکھتی تھی۔ ان دونوں واقعات میں بنی سعود کی کوشش تھی کہ ایک معترض شخص کو خاموش کروا دیں۔ جب ابتدائی رابطے ناکام ہوئے، سعودیوں نے خفیہ اور غیرقانونی کاروائی کا سہارا لیا۔ ان دونوں واقعات میں کاروائی کے احکامات سعودی انٹیلیجنس کا نائب سربراہ دے رہا تھا؛ جو کہ دربار شاہی سے قریبی رابطے میں تھا۔ دونوں واقعات میں انٹیلی جنس کا نائب سربراہ قربانی کا بکرا بنا، ملزم ٹہرا اور کوئی بھی ٹھوس ثبوت ایسا نہ مل سکا جو ثابت کرے کہ ان واقعات میں ایم بی ایس ملوث تھا۔

ان دونوں کاروائیوں میں نظر یہی آرہا ہے کہ ان کا انتظام شاہی دربار کے اندر کے ایک خصوصی مرکزے نے کر رکھا تھا؛ وہ دربار جہاں القطحانی اعلی منتظم تھا، چنانچہ ان کاروائیوں کی کمان انٹیلیجنس ادارے کے ہاتھ میں تھی ہی نہیں۔ اس سلسلے میں امریکی اہلکاروں کو بھی یقین ہے جو الحمیدان اور اس کے رفیق کار اور اندرون ملک انٹیلیجنس کے سربراہ “عبد العزيز بن محمد الہویرینی” کو ان سازشوں کو تقویت پہنچانے والی قوت کے طور پر دیکھتے ہیں۔

شاید ان دو واقعات میں سب سے بڑا فرق یہی ہے کہ عبید زندہ ہے اور جنیوا کے نواح میں رہائش پذیر ہے جبکہ خاشقجی کو مارا گیا ہے، اس کے بدن کا مُثلہ کیا گیا ہے کوئی بھی نہیں جانتا کہ اس کی لاش کہاں ہے۔

سعودی وکیل سرکار نے ۱۸ افراد کو خاشقجی کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا ہے، جن میں سابق انٹیلجنس افسر ماہر المطرب بھی شامل ہے۔ یہ شخص کسی وقت ایم بی ایس کا ذاتی محافظ بھی رہا ہے۔ سعودی حکام نے الزام لگایا ہے کہ المطرب اس ٹیم کا سربراہ تھا جس نے خاشقجی کو قتل کردیا ہے۔ القحطانی اور العسیری کو [گویا] نوکری سے برخاست کیا گیا ہے اور القحطانی ان ۱۷ سعودی باشندوں میں شامل ہے جن پر امریکی محکمہ خزانہ نے واشنگٹن پوسٹ کے مقتول صحافی کے قتل میں ملوث ہونے کے بموجب، پابندیاں لگائی ہیں۔ امریکی محکمۂ خزانہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ القحطانی متعلقہ منصوبے اور کاروائی کا حصہ تھا اور المطرب نے کاروائی کو ہمآہنگ کیا اور خاشقجی کو قتل کیا۔

سی آئی اے: خاشقجی کے قتل کا حکم محمد بن سلمان نے دیا تھا۔

ڈیوڈ اگنیٹیس لکھتا ہے: میں جس جس سعودی مبصر سے ملا، اس کو یہی کہتا ہوا سنا کہ ممکن ہے کہ خاشقجی کے قتل پر ظہور پذیر ہونے والے غیظ و غضب کے باوجود، ایم بی ایس اقتدار میں باقی رہے۔ خاشقجی قتل کیس میں ایک “دھواں دینے والی بندوق” [اور اس قتل میں ایم بی ایس کے ملوث ہونے] کا سب سے قریب ترین ثبوت یہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ القطحانی نے خاشقجی کے قتل سے پہلے دو دنوں کے درمیان متعدد پیغامات بن سلمان کو دیئے ہیں اور اس سے جواب لیتا رہا ہے۔ لیکن جب تک کہ یہ پیغامات فاش نہیں ہونگے، تب تک یہ الزام ثابت کرنا ممکن نہيں ہوگا۔

ریاض میں ایم بی ایس کے شاہی دربار کے سفاکانہ مالیخولیا کو صدام کے ایام کا بغداد اچھی طرح یاد ہے۔ جو دِیا خاشقجی نے جلایا ہے، سعودی عرب اور امریکہ کو آخری موقع دے رہا ہے کہ وہ صدام کی طرح کی استبدادیت کو پورے علاقے میں نافذ کرنے سے باز رہیں۔

سعودی خاندان آج بھی کسی زمانے کے خونی ہاتھ سے حکمرانی کررہا ہے۔ امریکہ، اس بادشاہت کے کلیدی حلیف کے طور پر، مجبور ہے کہ اس خاندانی دشمنی پر قابو پا لے، قبل اس کے یہ خاندانی لڑائی سعودی عرب اور دنیا کو مزید نقصان پہنچا دے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بقلم: ڈیوڈ اگنیٹیس (David Ignatius)

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

. https://www.washingtonpost.com/opinions/global-opinions/the-khashoggi-killing-had-roots-in-a-cutthroat-saudi-family-feud/2018/11/27/6d79880c-f17b-11e8-bc79-68604ed88993_story.html?utm_term=.1bc27ce6a61d

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍ت؍۱۰۰۰۱

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=15970

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے