بابری مسجد کیس، عدالت سے فرار حکومت سے رجوع کی سیاست کا ڈھول - خیبر

بابری مسجد کیس، عدالت سے فرار حکومت سے رجوع کی سیاست کا ڈھول

01 نومبر 2018 09:28

مسلمانوں کی جانب سے عدالت کے فیصلہ کے احترام کے باوجود مسلسل حکومت کی جانب سے آرڈیننس پاس کرا کر مندر بنانے کا ڈھول پیٹا جانا اس بات کی دلیل ہے کہ لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ تمہیں کیا کرنا ہے الیکشن نزدیک ہیں جو کام عدالت نہیں کر سکتی وہ حکومت کر سکتی ہے۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ:  بابری مسجد تنازعہ کے لئے پہلے تو بات یہ تھی کہ عدالت جو بھی فیصلہ کرے گی اسے منظور کر لیا جائے گا لیکن بار بار کیس کی تاریخ بڑھنے اور عدالت کی جانب سے متوقع فیصلہ  نہ آنے کی بنا پر ہندوستان بھر میں ہندوتوا کے ایجنڈے پر کام کرنے والے لوگوں کی آوازیں بلند ہونے لگی ہیں کہ یہ کیس عدالت میں حل نہیں ہوگا بلکہ  حکومت  آرڈیننس جاری کر کے اسے حل کرے ،کس قدر ستم ظریفی ہے کہ  جو کیس پہلے ہی عدالت میں ہے اور جس کے لئے سینکڑوں گواہوں کا ووقت لیا گیا ہزارہا صفحوں پر مشتمل فائل کو متعدد جج صاحبان نے بغور پڑھا اور وہ تمام تر قانونی باریکیوں کے جاننے کے باوجود ابھی تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچے اب اسی کیس  کے لئے مطالبہ ہو رہا ہے کہ حکومت اس کے بارے میں قانون پاس کرا کر مندر  تعمیر ہونے کی فضا ہموار کرے، اس طرح حکومتی آرڈیننس کے ڈھول کو خوب پیٹا جا رہا ہے جبکہ سب کو معلوم ہے کہ اس کے ذریعہ صرف ووٹ بینک کی سیاست ہو رہی ہے آرڈینیس پاس کرانا اتنا آسان نہیں ہے اور وہ بھی اس کیس کے لئے جو ابھی عدالت کے سپرد ہے۔  لیکن ڈھول ہے کہ بج رہا ہے اور بجتا ہی چلا جا رہا ہے حکومت کی جانب سے  آرڈینس کے سلسلہ سے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اور ممبرپارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے  کہا ہے کہ ملک قانون اورآئین سے چلے گا، کسی کی مرضی سے نہیں چلنے والا ہے ، یوں ایک طرف ایک طبقہ آرڈینس کی بات کر رہا ہے تو دوسری طرف اسکی مخالفت بھی ہو رہی ہے البتہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ بابری مسجد کے سلسلہ سے حکومت کا دامن تھامنے کی بات ہو رہی ہو بلکہ  حکمران بی جے پی کی نظریاتی تنظیم کی جانب سے مسلسل یہ راگ الاپا جاتا رہا  ہے  چنانچہ  گزشتہ دنوں ایک تقریب کے موقع پر ناگپور میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے سنگھ کے کارکنوں کو خطاب کیا۔ اس تقریب میں نوبل انعام یافتہ اور سماجی کارکن کیلاش ستیارتھی مہمان خصوصی تھے۔ اس خطاب میں رام مندر معاملہ سے لے کر سرحد پار دہشت گردی تک کئی معاملوں پر انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے کہا کہ اجودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لئے قانون بننا چاہئے۔ لوگ سوال کر رہے ہیں کہ آخر ان کی چنی ہوئی حکومت کے باوجود کیوں مندر کی تعمیر نہیں ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مندر اب تک بن جانا چاہئے تھا لیکن سیاسی پارٹیاں اس پر سیاست کر رہی ہیں۔ جبکہ اگر مندر بن گیا تو جھگڑے کی وجہ ختم ہو جائے گی اور فرقہ وارانہ اتحاد مضبوط ہوگا۔ یہی بات انہوں نے وگیان بھون میں ‘مستقبل کا ہندوستان راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے نقطہ نظر’ کے موضوع پر سہ روزہ کانفرنس کے تیسرے اور آخری دن سوالات کے جوابات دیتے ہوئے اس طرح  بھی کہی تھی “اجودھیا کے معاملے میں آرڈیننس لانا چاہئے یا بات چیت ضروری ہے، یہ سوچنا حکومت کا کام ہے۔ آر ایس ایس کے لیڈر کی حیثیت سے وہ کہیں گے کہ رام جنم بھومی پر خوبصورت رام مندر جلد سے جلد بننا چاہئے۔ انکے بقول  اکثریت ہندو آبادی رام کو بھگوان مانتی ہے اور بہت سے لوگ انہیں طرزعمل میں اعلی معیار کی انسانی روایت کو اتارنے والے ‘مریادا پروشوتم’ کے طور پر دیکھتے ہیں اور متعدد لوگ انہیں ‘پیشوائے ہند’ شمار کرتے ہیں۔ چنانچہ اس کام کو اتنا لٹکانے کی ضرورت نہیں ہے اسے جلد سے جلد کرنا چاہئے”۔

جو بات آر ایس ایس کے سربراہ نے  بہت پہلے کہی تھی آج اسی بات کو الگ  الگ انداز میں لوگوں سے کہلوایا جا رہا ہے اورہندوستان میں گزشتہ  چند دنوں سے ایک بار پھر بابری مسجد کا معاملہ پھرسرخیوں میں ہے خبروں کے مطابق  اجودھیا میں متنازعہ زمین کو تین حصوں میں تقسیم کیے جانے والے ۲۰۱۰ کے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف داخل عرضی پر پیر کے دن سماعت ہوئی اور  جس میں سپریم کورٹ نے بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی اراضی تنازعہ کی سماعت آئندہ سال  جنوری تک ملتوی کردی اور کہا کہ قطعی تاریخ کا تعین ماہِ جنوری میں ہی کیا جائیگا۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی تین رکنی بنچ نے پیر کو معاملے کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ جنوری ۲۰۱۹ میں بنچ یہ طے کرے گی کہ اس معاملے کی سماعت کس تاریخ سے شروع کی جائے۔ اس سے پیشتر اسماعیل فاروقی معاملے میں سپریم کورٹ کے ۱۹۹۴ ء کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ مسجد میں نماز پڑھنا اسلام کا لازمی حصہ نہیں ہے اور مسلمان کہیں بھی نماز پڑھ سکتے ہیں، یہاں تک کہ کھلی جگہ پر بھی نماز پڑھی جا سکتی ہے  جس پر مسلم فریقین نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا تھا کہ مسجد میں نماز ادا کرنے کے مسئلے کو پانچ ججوں کی بنچ کے سپرد کیا جائے ۔ اس سے قبل عدالت نے کہا تھا کہ ایودھیا تنازعہ پر ۲۹ اکتوبر ۲۰۱۸ سے سماعت شروع ہوگی۔ اس وقت کے چیف جسٹس دیپک مشرا کی صدارت والی تین رکنی بنچ نے ۲-۱ کی اکثریت کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ اسمعٰیل فاروقی معاملے میں اس کورٹ کا ۱۹۹۴ ء کا فیصلہ تحویل اراضی سے جڑا ہوا اور خصوصی تناظر میں تھا۔ ایودھیا اراضی تنازعے کی سماعت میں اس نکتہ کو شامل نہیں کیا جا سکتا۔ بنچ میں چیف جسٹس کے علاوہ، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس عبد النذیر ہیں۔ جسٹس بھوشن نے اپنی اور چیف جسٹس کی طرف سے فیصلہ سنایا جب کہ جسٹس عبدالنذیر نے اختلاف رائے کا اظہار کیا۔ مقدمہ کے فریقین سنی مسلم وقف بورڈ ، نرموہی اکھاڑہ اور رام للاہیں ۔ عدالت کے موجودہ فیصلے کے پیش نظر مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرساد نے عدلیہ پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ۔  جبکہ حکمراں جماعت سے متعلق بعض افراد  و دیگر شدت پسند ہندو جماعتوں نے عدالت کے فیصلہ پر عدم اعتماد کا اظہارکیا ہے ممبئی میں شیوسینا نے کہا کہ عدالت کو رام مندر کے معاملہ سے کوئی تعلق نہیں ہے اس لئے اُسے اس مقدمہ کا فیصلہ کرنے کا بھی کوئی اختیار نہیں رہے گا ۔ جبکہ اسکے مقابل  کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن ظفریاب جیلانی نے کہاکہ سپریم کورٹ نے معاملے کی سماعت جنوری میں مقرر کی ہے اس لئے کسی کو بھی اس معاملے پر تبصرہ نہیں کرنا چاہئے اگر اُنھیں کچھ شکایات ہوں تو اسے عدالت کے اجلاس پر پیش کرنا چاہئے۔ عدالت کی جانب سے اگلے سال کی تاریخ مقرر ہونے کے بعد وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) اور سادھو سنتوں کے درمیان سخت گیر ہندو نظریات کی حامل جماعتوں میں  مایوسی پیدا ہوگئی ہے۔ وشو ہندو اور سخت گیر نظریات کے حامل افراد  رام جنم اراضی احاطے میں مندر کی تعمیر میں آنے والی رکاوٹوں کو حکومت کی جانب سے  دور کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں یوں تو عدالت پر بھروسے کی بات کی جاتی ہے لیکن  رام مندر تنازعہ پر سپریم کورٹ میں سماعت سے قبل ہی  مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے پہلے  ہی  اپنا فیصلہ سناتے ہوئے عدالت کے اپنی نظروں  میں  وزن کو بیان کر دیا تھا جب انہوں نے کہا کہ ” رام مندر ضرور بنے گا، انہوں نے کہا کہ اب ہندوؤں کے صبر کا باندھ ٹوٹ رہا ہے۔ مختصر طور پر کہا جا سکتا  ہے کہ حالیہ عدالتی فیصلے کے بعد صورت حال یہ ہے کہ مندر کے تعمیروالے فریق نے بابری مسجد معاملہ کے جنوری تک ملتوی کئے جانے پر مایوسی کا اظہار کیا جبکہ مسجد کی حمایت والے فریق نے فیصلہ کا احترام کرتے ہوئے استقبال کیا ہے ۔

مسلمانوں کی جانب سے عدالت کے فیصلہ کے احترام کے باوجود مسلسل  حکومت کی جانب سے آرڈیننس پاس کرا کر مندر بنانے کا ڈھول پیٹا جانا اس بات کی دلیل ہے کہ لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ تمہیں کیا کرنا ہے  الیکشن نزدیک ہیں جو کام عدالت نہیں کر سکتی وہ حکومت کر سکتی ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ حکومت کو بھاری اکثریت ملے تاکہ حزب اختلاف کسی بھی آرڈیننس کے سامنے نہ ٹک سکے یہ تصور لوگوں کے ذہنوں میں بٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ایک بار پھر حکمراں جماعت مسجد و مندر کی سیاست کر کر کے اپنی حکومت کی فضا ہموار کر نے کی کوشش میں ہے ،ڈھول کی آواز تیز سے تیز تر ہوتی جا رہی ہے اب دیکھنا ہے کے لوگ اس ڈھول کی آواز میں اپنے شعور و ضمیر کی آواز سن پاتے ہیں اور اپنی بنیادوں ضرورتوں کے معیار  کے تحت ووٹ دیتے ہیں یا ایک بار پھر مسجد مندر کی سیاست کا شکار ہو کر کسانوں کی خودکشی کے  دلدوز مناظر دیکھنے کے لئے خود کو تیار کر رہے ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/ت/۱۰۰۰۲

 

 

 

 

 

 

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=14113

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے