برطانوی صحافی ویلیم شاکراس کی کتاب ' روپرٹ مردوخ' (ابلاغی سلطنت) کا تعارف - خیبر

برطانوی صحافی ویلیم شاکراس کی کتاب ‘ روپرٹ مردوخ’ (ابلاغی سلطنت) کا تعارف

۲۶ اردیبهشت ۱۳۹۷ ۱۲:۵۲

شاکراس نے اس کتاب میں تقریبا صحافتی طرز تحریر اپناتے ہوئے مردوخ کی زندگی کی لمحہ بہ لمحہ حکایت بیان کی ہے جس میں انھوں نے صہیونیت کے صحافتی جرنیل روپرٹ مردوخ کی ۱۹۶۳ تک کی ذاتی، خاندانی اور پیشہ ورانہ زندگی کی تصویر کشی کی ہے۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: کتاب “روپرٹ مردوخ (ابلاغی سلطنت)” (۱) کے مؤلف، آزاد برطانوی صحافی ویلیم شاکراس (۲) ہیں۔ شاکراس نے اس کتاب میں تقریبا صحافتی طرز تحریر اپناتے ہوئے مردوخ کی زندگی کی لمحہ بہ لمحہ حکایت بیان کی ہے جس میں انھوں نے صہیونیت کے صحافتی جرنیل روپرٹ مردوخ کی ۱۹۶۳ تک کی ذاتی، خاندانی اور پیشہ ورانہ زندگی کی تصویر کشی کی ہے۔

کتاب “روپرٹ مردوخ (ابلاغی سلطنت)” پندرہ فصلوں پر مشتمل ہے۔ مؤلف پہلی فصل میں اس کاوش کی تالیف کے مقاصد بیان کرتے ہیں۔ شاکراس کہتے ہیں: “روپرٹ مردوخ کے بارے میں اٹھنے والے سوالات میں چند ایسے سوالات ہیں جو دوسرے سوالات سے زیادہ دہرائے جاتے ہیں جو یوں ہیں: مردوخ نے اپنی عمر کے ۴۵ برس مختلف ممالک کے دوروں میں گذار دی ہے تا کہ ایک بین الاقوامی سطنت کی داغ بیل ڈالنے کا منصوبہ تیار کریں؟ اس راہ میں ان کے محرکات کیا تھے؟”۔

اس کتاب میں جس چیز کو خاص توجہ دی گئی ہے وہ دنیا کے ذرائع ابلاغ پر ایک صہیونی ـ یہودی فرد کی سطلنت ہے۔

اس کتاب میں ایسے حالات کو بیان کیا گیا ہے جو دوران حیات مردوخ کی ترقی کا باعث بنے ہیں اور صہیونیت کے ہاتھوں ایک ابلاغی سلطنت کے قیام پر منتج ہوئے ہیں۔

مؤلف نے پہلی فصل میں جینیاتی اور وراثتی لحاظ سے روپرٹ مردوخ کی اخلاقی خصوصیات اور افکار پر روشنی ڈالی ہے؛ دوسری فصل میں مردوخ کے بچپن کے حالات سے مختص کیا ہے اور بعد کی فصلوں ميں ان کی سماجی سرگرمیوں کو بیان کیا ہے اور ان تمام اقتباسات میں روپرٹ کی تسلط پسندی پر زور دیا ہے۔

مؤلف آٹھویں فصل کے ایک حصے میں لکھتے ہیں: “مردوخ بخوبی سمجھ چکے تھے کہ تفریحی صنعت روز بروز مغرب ـ اور بالخصوص امریکی ثقافت ـ کے معاشرتی مزاج میں بدل رہی ہے۔ عالمی گاؤں (۴) میں ٹیلی ویژن رفتہ رفتہ معمولی دیہاتوں کی سرسبزی اور خُرَّمی کی جگہ لے رہا ہے؛ چھوٹے مگر دلفریب سبزہ زار ہر گھر میں دکھائی دے رہے ہیں، بَصَری تصویریں رفتہ رفتہ کلامی مباحث کے متبادل کے طور پر سامنے آرہی ہیں اور (یوں) معلومات تفریح کے ضمن میں لوگوں کو سامنے رکھی جاتی ہیں”۔ یہودی المذہب روپرٹ مردوخ نے ان مواقع کو غنیمت سمجھا اور ان سے اپنے ابلاغی تسلط کے قیام میں بھرپور فائدہ اٹھایا۔

مردوخ نے ۱۹۷۶ میں اخبار نیویارک پوسٹ کو خرید لیا اور امریکہ کی ابلاغی دنیا میں داخل ہوئے اور اس کے بعد کئی دیگر ذرائع ابلاغ ـ منجملہ: ٹیلی ویژن، سیٹلائٹ چینل، اخبارات وغیرہ ـ کو بھی اپنی سلطنت میں شامل کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔

۱٫ Murdoch: the making of a media empire.

۲٫ William Hartley Hume Shawcross.

۳۔ شاوکراس، ویلیام، روپرت مورداک (امپراتوری رسانه‌ای) فصل اول

۴٫ Global village

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/ک/ت/۸۰۲/ ۱۰۰۰۱

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=3026

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے