بن سلمان صدام کے انجام سے دوچار ہوگا/ عرب ممالک کے درمیان امریکی غلامی کے لئے مسابقت جاری - خیبر

امریکی پیس یونیورسٹی کا پروفیسر؛

بن سلمان صدام کے انجام سے دوچار ہوگا/ عرب ممالک کے درمیان امریکی غلامی کے لئے مسابقت جاری

16 نومبر 2018 11:29

نیویارک کی پیس یونیورسٹی (Pace University) کے اردنی پروفیسر ڈاکٹر نصیر العمری نے کہا کہ بنی سعود کی حکومت کی بنیاد تلوار پر استوار ہے اور سعودی ولیعہد محمد بن سلمان عراق کے معدوم آمر صدام کے انجام سے دوچار ہوگا۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، مغربی ایشیا کے امور کے مشہور تجزیہ نگار اور نیویارک کی پیس یونیورسٹی کے استاد نصیر العمری ـ جو عرب ممالک کی ذلت آمیز پالیسیوں کے زبردست ناقدین میں شمار ہوتے ہیں ـ نے فارس نیوز ایجنسی کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا: “بنی سعود کی حکومت کی حقیقت یہ ہے کہ یہ حکومت تلوار کی بنیاد پر قائم ہوئی ہے اور سعودی حکمران خود بھی کہتے ہیں کہ “ہماری حکومت مخالفین کی سرکوبی اور تلوار کی طاقت پر استوار ہوئی ہے”۔
بن سلمان نے وہابیت کو تنہا چھوڑ دیا ہے
انھوں نے بن سلمان کے جابرانہ سیکورٹی اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ بن سلمان نے وہابیت کی قدموں تلے سے زمین کھینچ لی ہے اور تضاد کی حالت یہ ہے کہ اسی اثناء میں وہ خاتون مدنی (civil activists) اور سیاسی کارکنوں نیز آزاد خیال قلمکاروں کو گرفتار کرکے جیلوں میں بند کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کے خلاف کاروائیاں کرتے ہیں جن کی حمایت کا وہ دعوی کرتے ہیں۔
العمری نے بن سلمان کے اقدامات پر سعودی شہزادوں کے رد عمل کے بارے میں کہا: شہزادوں کے درمیان عہدشکنی کی تاریخ کافی پرانی ہےاور ہم نے دیکھا کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف سازشیں کرتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ سعودی شہزادے بن سلمان کو پسند نہیں کرتے اور انہیں قابل قبول نہیں سمجھتے۔ کیونکہ یہ شہزادہ نوجوان ہے اور بہت پیچیدہ اور پراسرار انداز سے اقتدار تک پہنچا ہے۔
بنی سعود کے سلسلے میں امریکی پالیسی
ڈاکٹر العمری نے ریاض اور واشنگٹن کے روابط کی نوعیت کے بارے میں کہا: ڈونلڈ ٹرمپ نے بغیر کسی رازداری کے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ ان کا مقصد سعودی گائے کا دوہنا ہے، اور یہ کہ بنی سعود کو اقتدار میں رکھنا ان کے مقاصد میں شامل نہیں ہے [بلکہ وہ تو کہہ رہے ہیں کہ جب اس گائے کا دودھ خشک ہوگا ہم (امریکی) اسے ذبح کریں گے]۔
انھوں نے امریکہ غلامی میں دوسروں سے آگے بڑھنے کی دوڑ میں عرب حکمرانوں کی شرکت کے بارے میں کہا: بنی سعود کی حکومت، اردن اور دوسرے ممالک ـ جو امریکی مدار میں گھومتے نظر آ رہے ہیں ـ آج ایک مسابقت میں شرکت کررہے ہیں اور ہر ملک کی کوشش ہے کہ علاقے میں امریکہ کی غلامی اور اس کی نمائندگی کا عہدہ حاصل کرے۔
انھوں نے اسلامی جمہوریہ ایران اور سعودی عرب کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے کہا: ایران ایک دینی نظام ہے جس میں مالی بدعنوانی کا تصور نہیں ہے جبکہ سعودی عرب کے سلسلے میں ہر روز کروڑوں ڈالر خورد برد اور بدعنوانی کی خبریں ذرائع ابلاغ کی زینت بن رہی ہیں۔
سعودی عرب آخرکار ایران کے ساتھ تعاون و تعامل پر مجبور ہوگا
انھوں نے کہا: ایران ایک بڑا ملک ہے جو بہت اہم اور عظیم مرتبے پر فائز ہے اور میرا خیال ہے کہ وہ دن دور نہیں ہے جب سعودی حکومت مجبور ہوکر ایران کے ساتھ تعاون اور تعامل کا آغاز کرے گی۔
محمد بن سلمان کا انجام صدام جیسا ہوگا
العمری نے اپنے مکالمے کے آخر میں کہا: سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کو عراق کے معدوم ڈکٹیٹر صدام جیسے انجام سے دوچار ہونا پڑے گا۔
العمری نے منگل (۱۳ نومبر ۲۰۱۸ع‍) کو غزہ پر یہودی ریاست کے حملے کے آگے عرب ممالک کی مجرمانہ خاموشی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا: غزہ پر یہودی ریاست کی مجرمانہ جارحیت [جو عالمی توجہ مشہور عرب صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے مسئلے میں سعودی کردار سے منحرف کرانے کے لئے بن سلمان کے مشورے پر انجام پائی ہے] ہمیں عالمی عرب کے اس بنیادی مسئلے یعنی خاشقجی کے قتل میں سعودی کردار سے غافل نہیں کرسکے گی۔۔۔ جب تک کہ جزیرہ نمائے عرب کے عوام بنی سعود کی کٹھ پتلی، جرائم پیشہ اور وابستہ حکومت کے ہاتھوں میں اسیر رہیں گے، فلسطین بھی آزاد نہیں ہوگا۔
۔۔۔۔۔
جمال خاشقجی جزیرہ نمائے عرب کے مشہور صحافی تھے جو بنی سعود کا حامی اور بن سلمان کی پالیسیوں پر معترض تھے، انہیں بن سلمان پر تنقید کی پاداش میں ترکی کے شہر استنبول میں واقع سعودی قونصلیٹ میں قتل کیا گیا، ان کے بدن کے ٹکڑے ٹکڑے کئے گئے اور ان کے جسم کو سعودیوں کے گماشتوں نے تیزاب میں مکمل طور پر پگھلا کر محو کردیا۔
۔۔۔۔۔
ڈاکٹر العمری نے اپنے ایک ٹوئیٹ پیغام میں لکھا: “فلسطین کی آزادی کا عمل اس وقت شروع ہوگا جب عرب ممالک کے دارالحکومت عرب کے غلام اور کٹھ پتلی حکمرانوں کے تسلط سے آزاد ہونگے۔ استعمار کے قبضے کا خاتمہ صرف بدعنوان اور کٹھ پتلی عرب حکمرانوں کی سرنگونی کی صورت میں ہی ممکن ہوگا”۔

ڈاکٹر نصیر العمری نے اپنے ٹویٹر پیغامات کے آخر میں لکھا: “حتی اگر فلسطینی اپنے ملک کو یہودی قبضے سے آزاد بھی کرلیں، عرب حکمران اسے ایک بار یہودیوں کے پاس پلٹا دیں گے؛ چنانچہ فلسطین کی آزادی مغربی استعمار کے ہاتھوں سے عالم عرب کی آزادی کا آخری مرحلہ ہے۔ پہلا مرحلہ کٹھ پتلی، غلام اور جرائم پیشہ حکمرانوں کے تسلط سے عرب ممالک کے دارالحکومتوں کی آزادی ہے”۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
http://fna.ir/bpnugc

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍ت؍۱۰۰۰۱

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=14977

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے