بین الاقوامی سطح پر اسلامی انقلاب کی کامیابی - خیبر

اسلامی انقلاب کی چالسویں سالگرہ اور معمار انقلاب کی نظر میں اسکے چالیس اہم آثار و نتائج- (آخری حصہ)

بین الاقوامی سطح پر اسلامی انقلاب کی کامیابی

11 فروری 2019 11:15

کیا یہ ایران کی طاقت نہیں کہ پولینڈ میں امریکہ کی سربراہی میں ہونے والی ایران مخالف بین الاقوامی کانفرنس میں یورپ کے اکثر ممالک نے شریک ہونے سے معذرت کر لی روس نے صاف انکار کر دیا کہ ایران مخالف محاذ کا ہم حصہ نہیں بنیں گے اور انجام کار اس کانفرنس کا موضوع بدلنا پڑا۔

خیبر صہیون تحقیقاتی مرکز: گزشتہ سے پیوستہ

۱۔ اسلامی جمہوریہ ایران ایک طاقت ور ملک
اسلامی انقلاب کی برکتوں کی بنیاد پر اسلامی جمہوریہ ایران ایک طاقت ور ملک کی صورت دنیا کے نقشے پر ابھرا ہے ، آج نہ اسکے سامنے امریکہ کی چلتی ہے نہ اسکے حلیف ممالک کی ، ۴۰ سال سے مسلسل پابندیوں کا سامنا کرنے کے بعد بھی آج واحد ایران ایسا ملک ہے جس کے فضائی حدود سے کوئی امریکی طیارہ نہیں گزر سکتا ، جسکے پانی پر بلا اجازت داخل ہونے والے دنیا کے سب سے طاقت ور ملک کے فوجیوں کو بالکل اسی انداز میں دھر دبوچا جاتا ہے جیسے عام چور اچکوں کو، یہ انقلاب کی طاقت ہے ۔ کونسا ایسا ملک ہے جس نے امریکی ڈرون کو صحیح سلامت اپنی سرزمین پر اسکے آپریٹنگ سسٹم کو کنڑول کر کے اتار لیا ہواور مانگے جانے کے بعد بھی اسے نہ دیا ہو ، کونسا ملک ہے جس نے امریکی فوجیوں کو انکی گستاخی پر مجرموں کی طرح اسیر کیا ہو ، یہ اسلامی نظام کی طاقت ہے بقول امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ :
“خدا کی جانب سے یہ ایک عظیم ہدیہ ہمیں دیا گیا ہے کہ دنیا کی بڑی فوجوں کے ہاتھ ہم تک پہنچنے سے قاصر ہیں انکے صلاح کار و مشیر ہمارے یہاں سے کھدیڑ دئے گئے، اور آج آپ ہیں اور آپکا ملک ، اور آپ کے کمانڈرس، آپکی فوج آج مستقل ہے، اسکا فوجی غرور محفوظ ہے آج یہ نظام کی کامیابی ہے “۔
کیا یہ ایران کی طاقت نہیں کہ پولینڈ میں امریکہ کی سربراہی میں ہونے والی ایران مخالف بین الاقوامی کانفرنس میں یورپ کے اکثر ممالک نے شریک ہونے سے معذرت کر لی روس نے صاف انکار کر دیا کہ ایران مخالف محاذ کا ہم حصہ نہیں بنیں گے اور انجام کار اس کانفرنس کا موضوع بدلنا پڑا اسکے باوجود امریکہ کے حلیف ممالک یا تو تیسرے درجہ کے سفارت کاروں کے ساتھ اس میں شریک ہیں یا شریک ہی نہیں ہیں ،اور آج خود امریکہ میں یہ آواز اٹھ رہی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو ہٹا کر خطے میں قیام امن کی کوششیں لا یعنی ہیں یہ اسلامی انقلاب کا اعتبار ہے اور اسکی کامیابی ہے کہ امریکہ کے اتحادی بھی ایران مخالف اتحاد کا حصہ بننے کے لئے تیار نہیں ہیں یہ بات اسلامی نظام کی طاقت کو بیان کر رہی ہے سچ کہا تھا امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ نے ” آج ایران کو بڑے طاقت ور ملک کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے ” ۔
۲۔ بڑی طاقتوں کی شکست
اسلامی انقلاب کی ایک بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے اپنی ابتداء سے ہی بڑی طاقتوں کو نہیں سینٹھا ، اور انکی ناک رگڑ دی ، اور آج بھی اپنے ابتدائی طور کی طرح چالیس بہاروں کے بعد وہیں کھڑا ہے جہاں پہلے تھا ساری بڑی طاقتیں مل کرنہ اسکے ’نہ شرقی نہ غربی‘ نعرے کو بدل سکی تھیں نہ آج ان میں اتنا دم خم ہے کہ اسلامی انقلاب کی مستقل پالیسی پر اثر اانداز ہوں ، آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا کے جتنے بھی ممالک ہیں کس طرح دنیا کے چند بڑے ملکوں کے ہاتھوں کا کھلونہ بنے ہوئے ہیں ،انکی داخلی سیاست اور خارجہ پالیسی واشنگٹن، پیرس یا لندن، حتی تل ابیب میں طے ہوتی ہے جبکہ اسلامی انقلاب نے بین الاقوامی طور پر اپنی ساکھ کواتنا مضبوط کیا ہے کہ امریکہ کو بھی پتہ ہے ایران کو کسی سیاست کے اختیار کرنے یا نہ کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا ہے اور آج ٹرنپ کو اندازہ ہو گیا کہ اقتصادی ناکہ بندی کے باوجود ایرانی انقلاب جہاں کل تھا وہیں کل سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ آج بھی کھڑا ہے، بین الاقوامی سطح پر یہ بات طے ہے کہ کوئی بھی ملک زبردستی کوئی نظریہ کہیں تھونپے ایران پر نہیں تھونپا جا سکتا ہے ، اور یہ ان بڑی طاقتوں کے لئے ایک بڑی شکست ہے جو ساری دنیا پر کمزور ممالک کو ڈرا دھمکا کر راج کر رہی ہیں ، کہیں انکی بات نہیں مانی جاتی تو اسلحوں کی کھیپ روک کر منوا لیتی ہیں تو کہیں ٹکنالوجی کی فراہمی کے لالچ میں اپنی باتیں منواتی ہیں، لیکن اسلامی انقلاب ان باتوں سے مبرہ ہے نہ اسے لالچ دیکر متاثر کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ڈرا دھمکا کر ایران نے نہ صرف بڑی طاقتوں کو انکی اوقات میں رکھا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر خاص کر امریکہ کی ناک اس طرح رگڑی ہے کہ اسکی ساری ہیکڑی نکل کر رہ گئی ہے چنانچہ کہا جا سکتا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر انقلاب کے اہم اثرات میں بڑی طاقتوں کی شکست ہے جس کے بارے میں امام خمینی رضوان اللہ تعالی فرماتے ہیں:
“آپ جان لیں کہ ہماری قوم کی اس عظیم تحریک نے لوگوں کے ذہنوں پر چڑھا بڑی طاقتوں کا بھوت اتار دیا جن کے ذہن و دل ودماغ میں بھر دیا گیا تھا کہ برطانیہ سے مقابلہ ممکن نہیں ہے امریکہ سے بیر نہیں مول لی جا سکتی ہے ، اس انقلاب نے ان تمام باتوں پر خط بطلان کھینچ دیا ، آپ نے ثابت کر دیا کہ امریکہ کے مقابل کھڑا ہوا جا سکتا ہے اور اتنا ہی نہیں اسکے جاسوسی کے اڈے پر قبضہ بھی ممکن ہے ، اور انکے جاسوسوں کو پکڑا بھی جا سکتا ہے انہیں اپنی کسڈڈی میں رکھا بھی جا سکتا ہے ، اسکو آپ نے ثابت کر دیا ، آپ نے پروپیگنڈہ کے بل پر دنیا پر سایہ فگن بڑی طاقت کی اس عظمت و شوکت کو توڑ دیا جس کے تحت یہ بات مشہور کرا دی گئی تھی کہ کوئی سپر پاور کے آگے بولنے تک کا حق نہیں رکھتا ”۔
۳۔ امریکہ کی طاقت کے مقابلہ صف آرائی
اسلامی انقلاب کے اہم نتائج میں ایک نتیجہ یہ ہے کہ جہاں لوگ بڑی طاقتوں کے جنگی بیڑے اور جنگی سازو سامان کو دیکھ کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں وہاں بڑی طاقتیں ایران کی تیز رفتار بوٹوں سے ڈرتی نظر آتی ہیں ، آپ نے بندھے ہاتھوں گھبرائے ہوئے امریکی فوجیوں کی کلپس دیکھی ہوگی جنکو انکے جنگی جہاز کے ساتھ ایرانی فوج کی تیز رفتار بوٹوں نے غلط راستہ انتخاب کرنے کے پاداش میں گھیر لیا تھا اور پھر پوری دنیا میں جو دنیا کی سب سے بڑی طاقت کی فضیحت ہوئی سب کے سامنے ہے ، اور یہ آج کی بات نہیں ہے انقلاب کے آغاز سے ہی صورت حال ایسی ہی ہے چنانچہ امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :
“آج ہماری قوم کا ایک بڑا افتخار یہ ہے کہ خلیج فارس میں ہم امریکہ اور یورپ کی طاقت کی بڑی نمائش اور انکے جنگی بیڑوں کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں ”
۴۔ مظلوموں کے دل سے وحشت کو نکال کر ظالموں کو وحشت زدہ کرنا
اسلامی انقلاب کا اور اثر و نتیجہ یہ ہے کہ جو لوگ بڑی طاقتوں کے خوف سے دبے اور سہمے ہوئے تھے ایران نے انہیں حوصلہ دیا اور آج وہ سپر پاور طاقتوں کو ناکوں چنے چبوا رہے ہیں ،شمالی کوریا ، ہو یا وینزوئیلا یا شام جیسا ملک ، اب حالات یہ نہیں کہ جو بڑی طاقتیں کہہ دیں اسے بے چون و چرا مان لیا جائے ،بلکہ اور بھی دیگر ممالک ہیں جو جغرافیا کے اعتبار سے بہت چھوٹے ہیں لیکن اتنے پراعتمادہیں کہ ہر بات ماننے کو تیار نہیں ہیں جن میں سے ایک مثال قطر کی ہے جسکا امریکی منشاء کے برخلاف ایران سے اچھا رابطہ ہے اور اس رابطہ کو گھٹانے کے لئے قطر یوں تیار نہیں کہ اسکی اپنی پالیسی ہے اور اسیطرح کی اور بھی مثالیں مل سکتی ہیں امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ اس بارے میں فرماتے ہیں :
“اسلامی جمہوریہ ایران کا ہنر یہ ہے ہ اسنے رعب و وحشت کے بڑے برے خیالی بتوں کو توڑ دیا اور مظلوموں کے دلوں میں بیٹھی ہوئی دہشت و وحشت کو نکال کر ظالموں کے دلوں کو لرزاں کر دیا اور یہ ایک شمار نہ ہونے والی قوم کی جانب سے ایک معجزہ سے کم نہیں ، یہ وہ معجزہ ہے جو قدرت الہی کے ہاتھوں متحقق ہوا ہے “۔
۵۔ مستضعف قوموں کے لئے نمونہ عمل
مستضعف اور کمزور اقوام جنہیں استعمال نے اپنے مفادات کی خاطر استعمال کیا اور انکا استحصال کیا اور انکی حق تلفی کی ایسی اقوام ایران کے اسلامی انقلاب کو ایک آئیڈیل کے طور پر دیکھتے ہیں امام خمینی رح نے اسی بارے میں فرماتے ہیں : “خدا وند متعال نے ہم پر یہ منت رکھی ہمارے اوپر احسان کیا کہ استکباری حکومت کو اپنے دست قدرت سے جو کہ مستعفین کی طاقت کی صورت میں نمایاں ہوا لپیٹ کر رکھ دیا اور ہماری قوم کو اور مستضعفین کا پیشوا قرار دیا “۔
۶۔ مستکبرین کے مقابل کھڑے ہونے کا باور و یقین :
اسلامی انقلاب کی ایک کامیابی یہ تھی کہ انقلاب کی بنا پر دنیا کے مستضعفین کے وجود میں یہ بات راسخ ہو گئی کہ ہم استکبار کا مقابلہ کر سکتے ہیں استکباری چالوں کو شکست دے سکتے ہیں امام خمینی رضوان اللہ تعالی اس بارے میں فرماتے ہیں :
”آپ نے جتنی مدت میں یہ انقلاب بپا کیا ،اور جتنی مدت میں قیام کیا ، خود آپ نے اس بات کو باور کر لیا اور مستضعف حکومتوں اور مستضعف اقوام کو آپ نے باور کرا دیا کہ دنیا کو لوٹ کھسوٹ کر کھانے والے امریکہ اور سودیت یونین کے مقابل بھی کھڑا ہوا جا سکتا ہے ”۔
۷۔محروموں اور مظلوموں کو انصاف
اسلامی انقلاب نے جہاں دنیا کے مظلوموں کی حمایت کی اور انکے لئے اپنے دروازے کھول دئے وہیں اپنی بضاعت بھر جتنا ہو سکا اور جتنی توانائی رہی اس کے مطابق اگر کسی کا مال چھینا گیا تھا تو انقلاب کے بعد اسکے حوالے کر دیا گیا امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ نے گرچہ داخلی طور پر ایک کمیٹی بنا پر اسے مظلوموں اورکمزور لوگوں کے لوٹے جانے والے مال واسباب کا ذمہ دار بنایا لیکن اس نے سرحدوں کے پار بھی لوگوں کی مدد کرنے سے دریغ نہیں کیا ، امام خمینی نے اسلامی انقلاب کی شورای کو بھیجے گئے اپنے مکتوب میں فرمایا: “اس مکتوب کے مطابق ، اسلامی انقلاب کی شوری اس بات پر مامور ہے کہ پہلوی سلسلہ سے متعلق تمام منقول و غیر منقولہ اموال جو غیر قانونی طور پر غصب کر لیا گیا ، مزدور ، و ضرورت مند و غریب طبقے کے حق میں قرق کر لے اور اسے اسلامی انقلاب کی شور ی یا میرے نام سے محفوظ کر دے تاکہ غصب کی گئی زمینیں اور دیگر اموال کو ضرورت مندوں کے حق میں انکے گھر کی فراہمی یا انہیں روزگار فراہم کرنے جیسی چیزوں میں صرف کیا جائے “۔
۸۔ مستضعفین کے محاذ کی تشکیل
امام خمینی رضوان اللہ تعالی نے انقلاب کی برکت کے پیش نظر ایک بہت بڑی تجویز پیش کی تھی جو عملی ہو جاتی تو دنیا کا حال ہی کچھ دوسرا ہوتا ، انقلاب ہی کے اثرات کے تحت آپ نے ایک مقام پر مستضعفین کی ایک پارٹی اور انکے ایک محاذ کی تشکیل کی بات کی تھی آپ فرماتے ہیں :
”میں نے کچھ دن قبل ایک تجویز رکھی تھی ، اگر اس تجویز پر عمل کیا جائے ، تو یہ تعلقات روابط کے وجود میں آنے کے اسباب بن سکتے ہیں اور آہستہ آہستہ انشاء اللہ روابط تشکیل پا سکتے ہیں …اگر دنیا میں ایک ایسا محاذ بن جائے ایک ایسی پارٹی سامنے آ جائے جو بین الاقوامی ہو ، اور یہ محاذ حزب مستضفین کی صورت میں ہو جو کہ در حقیقت وہی حزب اللہ ہے تو دنیا کی کوئی طاقت اسکا مقابلہ نہیں کر سکتی ہے ”۔
۹۔ انقلاب کی تبلیغ اور مستعفین کا دفاع
انقلاب کا ایک نتیجہ یہ تھا کہ مستضعفین کی آواز بن کر ابھرا اور اسی لئے اس انقلاب کو دنیا میں پھیلانا در حقیقت مستضعفین کی آواز کو دنیا میں پھیلانا ہے امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ اس بارے میں فرماتے ہیں :
”ہمیں دنیا کے مستضفین کی حمایت کرنا چاہیے ، ہمیں اس انقلاب کو دنیا بھر میں پھیلانے کی کوشش کرنا چاہیے ہمیں اس فکر کو کنارے لگا دینا چاہیے کہ ہم اپنے انقلاب کو دوسری جگہوں تک نہیں پہنچائیں گے ، اس لئے کہ اسلام مسلمان ملکوں کے درمیان کسی فرق کا قائل نہیں ہے بلکہ تمام دنیا کے مستضعفین کا حامی و پشت پناہ ہے… میں ایک بار پھر ان تمام تحریکوں اور ان تمام محاذوں کی حمایت و پشت پناہی کا اعلان کرتا ہوں جو دنیا کی دائیں یا باءیں بڑی طاقت کے چنگل سے نکلنے کے لئے لڑ رہے ہیں ”۔
۱۰۔ دنیا کے محروموں کی پشت پناہی
اسلامی انقلاب بین الاقوامی سطح پر محرموں اور مظلوموں کی آواز کے طور پر جانا جاتا ہے ،فلسطین سے وئنزوئیلا تک محروم و نادار طبقہ اسلامی انقلاب کی طرف دیکھتا ہے چاہے یمن کے ستم دیدہ ہو ں یا میانمار و برمہ کے مظلوم سب کی نظریں اسلامی انقلاب کے اوپر ہے اور تعجب کی بات تو یہ ہے کہ صرف ظاہری محروم ودبے کچلے غریب ممالک کے لوگ ہی نہیں یورپ کے وہ لوگ بھی جو بظاہر ظاہری رفاہ میں ہیں آسائشوں میں ہیں لیکن جب اپنے حقوق کی بات آتی ہے تو اسلامی انقلاب کو اپنا آئیڈیل سمجھتے ہیں جیسا کہ فرانس میں پیلی جیکٹس والوں کے مظاہرین میں بعض نے امام خمینی کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں یا بعض اور دیگر یورپین علاقوں میں اسلامی انقلاب کے سلسلہ سے کھل کر لوگ اپنی رائے کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے وجود کو متحرک کرنے کا ایک ذریعہ ایران کا اسلامی انقلاب ہے غرض نہ صرف ظاہری طور پر پسماندہ بلکہ اپنےحقوق سے محروم افراد بھی ایران کے اسلامی انقلاب کو امید بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور کیوں نہ ہو امام خمینی رضوان اللہ علیہ فرماتے ہیں :
“خدا ایسا دن کبھی نہ لائے کہ جب ہمارے ملک کی سیاست یہ بن جائے ہمارے ملک کے سیاست مداروں کا موقف یہ ہو جائے کہ محروم و نادار طبقے کی طرف پشت کر لی جائے اور سرمایہ داروں کی حمایت میں آگے آجایا جائے ، ایسا دن کبھی نہ آئے کہ ثروت مند و مالدار طبقہ کو زیادہ اہمیت دی جائے معاذ اللہ یہ کام انبیاء الہی کی سیرت اور امیر المومنین علیہ السلام و ائمہ طاہرین علیھم السلام کی روش کے خلاف ہے انکے مقصد و مشن سے سازگار نہیں ، روحانیت کا دامن اسے منزہ و پاکیزہ ہے ، اور اسے تا ابد منزہ رہنا ہے ، یہ ہمارے انقلاب کا افتخار ہے ، انقلاب کی برکتوں میں سے ایک ہے کہ ہمارا انقلاب پا برہنہ لوگوں کی حمایت میں کھڑا ہے اور اس نے مستضعفین کے حقوق کے دفاع کو زندگی عطا کی ہے ” ۔
نوٹ : امام خمینی کے تمام بیانات مجلہ حصون سے ماخوذ ہیں : مجله حصون زمستان ۱۳۸۳، شماره ۲
دستاوردهای انقلاب اسلامی از دیدگاه امام خمینی(ره)
سید نجیب الحسن زیدی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍ی؍۱۰۰۰۲

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
  • linkedin
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=18363

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے