تشدد اور عدم تشدد میں جیت کس کی؟ - خیبر

گاندھی جی کے پتلے پر چلائی گئی گولی کا ماجرا

تشدد اور عدم تشدد میں جیت کس کی؟

02 فروری 2019 20:58

جب گاندھی جی مرنے کے بعد اس ملک میں محفوظ نہیں تو گاندھی کے آدرشوں پر چلنے والے زندہ لوگ کیوں کر محفوظ ہو سکتے ہیں ؟ اب یہ تو وقت ہی بتائے کہ تشدد اوور عدم تشدد کے نظریہ کے مابین چھڑے معرکہ میں کون کامیاب ہوگا جہاں یہ وقت کے اوپر منحصر ہے وہیں عوام کے فیصلہ پر بھی کافی حد تک اسکا انحصار ہے کہ وہ کن لوگوں کو اقتدار کی کرسی تک پہنچاتے ہیں ، گاندھی کے اصولوں پر چلتا چاہتے ہیں یا پھر ایک قاتل کو ہیروں کے طور پر متعارف ہوتے دیکھنا پسند کرتے ہیں…

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: کیا کوئی سوچ سکتا تھا کہ ہندوستان میں ایسے عناصر دندناتے گھومیں گے جو گاندھی جی کے ملک میں رہتے ہوئے ، انگریزوں سے آزادی دلانے والے مہاتما گاندھی کے یوم وفات[۱] پر انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے بجائے ان کا پتلا بنا کر اس پر گولی چلائیں گے اور پھر اسے جلا کر خوش ہونگے ؟ اتنا ہی نہیں بلکہ انکے پتلے کو نذر آتش کرتے ہوئے اچھل اچھل کر گاندھی جی کے قاتل کے لئے زندہ بادکے نعرے لگائیں گے ؟

کیا کسی کے گمان میں ہوگا کہ گاندھی جیسے عدم تشدد کا [۲]نظریہ رکھنے والی شخصیت کو مرنے کے بعد بھی تشدد کا شکار بنایا جائے گا ؟ افسوس کا مقام ہے کہ ۳۰ جنوری کو جہاں ایک طرف پوری دنیا میں گاندھی جی کو خراج عقیدت پیش کیا جا رہا تھا اور   ہندوستان کے بابائے قوم مہاتما گاندھی کے یوم وفات ملک کے کونے کونے میں انکی یاد میں پروگرام منعقد ہو رہے تھے انکی خدمات کو یاد کیا جا رہا تھا ،وہیں ہندو مہاسبھا نامی ایک تنظیم کے کارکن ذریعے مہاتما گاندھی کا پتلا بنا کر ان کو گولی مارنے کی ویڈیو اور تصاویر نے ہر ہندوستانی کو سوچنے میں مجبور کر دیا کہ کیا اب گاندھی جی کے عدم تشدد کے نظریہ کے خلاف تشدد کا نظریہ ہندوستان میں ایک نئے طالبانیسم و القاعدہ ایزم کے پنپنے کا سبب بنے گا ؟یاد رہے کہ دن ۳۰ جنوری ۱۹۴۸ کو نئی دہلئ کے بڑلا ہاؤس کے احاطے میں مہاتما گاندھی کا قتل کیا گیا تھا[۳]۔

گاندھی جی کے پتلے پر گولی چلانے اور اسے نذر آتش کرنے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر پر گھوم رہا ہے مصدقہ خبروں کے مطابق یہ معاملہ اتر پردیشکے شہر علی گڑھ کا ہے جس میں   ٹائمس آف انڈیاکے مطابق[۴]، ہندو مہاسبھا کے کارکنان مہاتما گاندھی کو ناتھو رام گوڈسے کے ذریعے گولی مارنے کے منظر کو علامتی طور پر دکھا کر ان کے قتل کا جشن مناتے نظر آرہے ہیں ۔ مختلف رپورٹس کے مطابق ہندو مہا سبھا نے گاندھی جی کے یوم وفات کو شوریہ دوس کے طور پر منایا ہے

اور اس پورے ماجرے کی ویڈیو میں یہ نظر آتا ہے کہ ہندو مہاسبھا تنظیم کی نیشنل سکریٹری پوجا شکن پانڈے نامی عورت گاندھی جی کو گولی مار رہی ہے پانڈے ایک نقلی بندوق کا استعمال کر تے ہوئے مہاتما گاندھی کے پتلے کو گولی مار رہی ہے [۵]اور وہاں کھڑے لوگ گاندھی جی کے قاتل ناتھو رام گھوڈسے زندہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ کچھ لوگ گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کو مالا پہناتے اور مٹھائی تقسیم کرتے بھی دکھ رہے ہیں ۔

نو بھارت ٹائمس کی ایک خبر کے مطابق، ہندو مہا سبھا کی رہنما نے گاندھی جی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کا موازنہ ہندووں کے بھگوان کرشن سے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر گاندھی زندہ ہوتے تو ملک کا ایک اور بٹوارہ ہوتا۔واضح رہے کہ پوجا شکن پانڈے کی شخصیت اس سے پہلے بھی تنازعات کا شکار رہی ہیں گزشتہ کئی برسوں میں پانڈے کو گوڈسے کے مجسمے اور تصویر پر پھول چڑھانے کے ساتھ ان کی تعریف کر تے ہوئے دیکھا جا چکا ہے ۔ اور یہ پہلی بار نہیں ہے کہ پانڈے نامی اس عورت نے وہ گاندھی جی کے یوم وفات کو شوریہ دوس کے طور پر مناتے ہوئے مٹھائی تقسیم کر کی ہو بلکہ اس سے پہلے بھی ایسا ہو چکا ہے اور اس عمل سے پوجا نے ایک نئی روایت کا آغاز کیا ہے چنانچہ این ڈی ٹی وی کے مطابق،[۶] پوجا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تنظیم نے گاندھی کے’ قتل کو دوہرانے’ کی نئی روایت شروع کی ہے جیسے دسہرے میں راون کو جلایا جاتا ہے۔ اپنے اس عمل پر انہیں ذرا بھی پشیمانی نہیں ہے بلکہ الٹا اسے صحیح ٹہرانے کی کوشش ہو رہی ہے خبروں کے مطابق پوجا کے شوہر اور اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا کے قومی ترجمان اشوک پانڈے نے ان کے ذریعے گاندھی کے ‘قتل’ کو دوہرانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ “ہمیں ا س میں کچھ غلط نہیں لگتا کیوں کہ ملک میں راون کو جلانے کے لیے بھی اس واقعے کو دوہراتے ہوئے کیا جاتا ہے۔ ہم نے ایسا اپنے دفتر کے احاطے کے اندر کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ، وہ (گاندھی) بٹوارے کے لیے ذمہ دار تھے … ۱۰ لاکھ سے زیادہ ہندو مارے گئے تھے ۔ اشوک پانڈے پوجا شکن پانڈے کے شوہر ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ معاملے کے دوران وہاں موجود تھے”۔

اس پورے معاملہ میں عجیب بات یہ ہے کہ پانڈے کے حکمراں جماعت بی جے پی کے اعلی عہدے داروں کے ساتھ بھی روابط ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ کمل کے پھول کے اندر کتنے خطرناک کانٹے بھرے ہیں جو لوگ گاندھی جیسی غیر متنازعہ شخصیت کو نہیں چھوڑتے جو کہ خود ہندو تھے وہ لوگ مسلمانوں اور دیگر ادیان و مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ کیا برتاو کریں گے؟ اسکا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ، گاندھی جی کے پتلے کے ساتھ ہونے والے اس واقعہ نے اس خیال کو تقویت بخشی ہے کہ حکمراں جماعت گاندھی کے اصولوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے آر ایس ایس کے اسی ایجنڈے پر قائم ہے جس کے تحت ملک میں مذہبی منافرت پھیلا کر محض ایک ہی نظریہ کو قابل قبول بنانے کی کوششیں ہو رہی ہیں چنانچہ سوشل میڈیا پر اس معاملے کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد مہاسبھا کی رہنما پوجا کی بی جےپی کے بڑے رہنماؤں کی تصویریں سامنے آرہی ہیں جو اس بات کا اشارہ ہیں کہ پوجا کے پس پشت ایک خاص ذہنیت ہے جو کام کر رہی ہے یاد رہے کہ مختلف بی جے پی رہنماؤں کے ساتھ یہ تصویریں پوجا کے ذریعے ان کے فیس بک اکاؤنٹ پر شیئر کی گئی تھیں ، اس میں وہ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہا ن اور بی جے پی کی سینئر رہنما اور مرکزی وزیر اوما بھارتی کے ساتھ نظر آرہی ہیں۔۹ مارچ کو شیئر کی گئیں یہ تصویریں اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی حلف برداری کی تقریب کی ہیں ، جن میں وہ کرنی سینا کے چیف لوکیندر کالوی سمیت مختلف مذہبی رہنماؤں کے ساتھ نظر آرہی ہیں۔

ایک طرف تو اکثر و بیشتر بی جے پی کے رہنماوں کی جانب سے گھوڈسے کی حمایت میں کچھ نہ کچھ بیان بازیاں دیکھنے کو ملتی ہیں تو دوسری طرف گاندھی کی کی اکہترویں وفات کی سالگرہ پر ہندوستانی وزیر اعظم نے نہ صرف انکے آدرشوں پر چلنے کی بات کی بلکہ انہیں باپو کہہ کر خطاب کرتے ہوئے عہد کیا کہ انکے راستے پر چلیں گے [۷] جبکہ خود انہیں کی پارٹی کے بعض عہدے دار گاندھی جی کے پتلے کو نذر آتش کرنے والی پوجا کے ساتھ تصاویر میں نظر آ رہے ہیں ، اب یہ اپنے آپ میں سوال ہے کہ باپو کے اصولوں پر چلنے کا عہد کرنے والے ہندوستانی وزیر اعظم اپنی ہی پارٹی کے ان عہدے داروں کے سلسلہ سے کیا فیصلہ کریں گے جو گاندھی کے یوم وفات کو   راون جلانے کی روایت کے طور پر منانے والوں کے ساتھ کھڑے نظر آ رہے ہیں ؟

یوں تو دکھاوے کے لئے کہا جا رہا ہے کہ اس معاملہ میں تیرہ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے[۸] تاہم ابھی تک اصل ملزم پوجا کا کچھ اتا پتہ نہیں ہے لہذا نہیں کہا جا سکتا ہے کہ آگے حکومت اس معاملہ سے کیسے نبٹے گی

گاندھی جی کے یوم وفات پر اس طرح کی ویڈیو کا آنا اس بات کی دلیل ہے کہ ہندوستان کی فضا میں وہ زہر گھل چکا ہے کہ اب بھائی چارے اور رواداری کی فضا کو قائم کرنا ایک کھٹن اور دشوار کا م ہے ، ایک نیا ہندو طالبانزم ہندوستان میں سر اٹھا رہا ہے جس کی بیخ کنی نہیں کی گئی تو ایک بار پھر ہندوستان کے مختلف شہروں میں جلے ہوئے گہر اور تباہی کے مناظر ہونگے ، بکھرے لاشے ہونگے زخمی لوگ ہونگے اور ناتھو رام گھوڈسے زندہ باد کے نعروں کے ساتھ وحشت و بربریت کا ننگا ناچ ہوگا اس لئے کہ جب گاندھی کے دیش میں گاندھی سے غداری کرنے والے آزاد گھومیں گے تو عام لوگوں کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔ کیا پتہ کب کس پر بندوق تان لی جائے اور کس کاسر کاٹ کر ہوا میں اچھال دیا جائے؟ ، جب گاندھی جی مرنے کے بعد اس ملک میں محفوظ نہیں تو گاندھی کے آدرشوں پر چلنے والے زندہ لوگ کیوں کر محفوظ ہو سکتے ہیں ؟ اب یہ تو وقت ہی بتائے کہ تشدد اوور عدم تشدد کے نظریہ کے مابین چھڑے معرکہ میں کون کامیاب ہوگا جہاں یہ وقت کے اوپر منحصر ہے وہیں عوام کے فیصلہ پر بھی کافی حد تک اسکا انحصار ہے کہ وہ کن لوگوں کو اقتدار کی کرسی تک پہنچاتے ہیں ، گاندھی کے اصولوں پر چلتا چاہتے ہیں یا پھر ایک قاتل کو ہیروں کے طور پر متعارف ہوتے دیکھنا پسند کرتے ہیں…

حواشی:

[۱] ۔ ۳۰ جنوری، ۱۹۴۸ء کو ایک ہندو قوم پرست نتھو رام گوڈسے نے گولی مار کر گاندھی جی کو قتل کر دیا تھا

Encyclopedia of Hinduism

edited by Denise Cush, Catherine A. Robinson, Michael York ص ۵۴۴

[۲] ۔

Eddy Asirvatham۔ Political Theory۔ S.chand۔ i.sb.n 81-219-0346-7۔

Borman, William۔ Gandhi and nonviolence۔ SUNY Press۔ صفحہ ۲۵۳۔ i.s.b.n 978-0-88706-331-2۔

Faisal Devji, The Impossible Indian: Gandhi and the Temptation of Violence (Harvard University Press; 2012)

Hay, Stephen (1989). “The Making of a Late-Victorian Hindu: M. K. Gandhi in London, 1888–۱۸۹۱”. Victorian Studies 33 (1): 75–۹۸٫

Chitrita Banerji, Eating India: an odyssey into the food and culture of the land of spices (2007)، p. 169.

[۳] ۔ ۔ نتھورام گوڈسے نے ۳۰ جنوری، ۱۹۴۸ کو موہن داس گاندھی کے قتل کے بعد ہندوستانی عدالت میں بیان دیا تھا کہ موہن داس گاندھی نے قیام پاکستان کی حمایت کی، اسی لیے اس نے انہیں قتل کر دیا۔ بعض انتہا پسند ہندو تنظیمیں گوڈسے کو اپنا قومی ہیرو مانتی ہیں۔ اور ۲۰۱۴ء میں گوڈسے کے نام پر ایک مندر کا افتتاح کیا گيا۔ ہندو مہاسبھا نے اعلان کیا ہے کہ وہ گوڈسے کے مجسمے کو ملک کے ہر بڑے شہر میں نصب کرنا چاہتی ہے۔ تنظیم نے اپنے مرکزی ہیڈکوارٹر میں ایک مجسمہ نصب بھی کر لیا ہے۔ اس بارے میں سبھا کے صدر چندر پرکاش کوشک کا کہنا ہے نے اس بارے میں ہندوستانی وزیر اعظم کو خط بھی لکھا ہے۔

http://sachtimes.com/ur/india/

[۴] ۔https://timesofindia.indiatimes.com/india/hindu-mahasabha-shoots-at-mahatma-gandhis-effigy-to-mark-his-death-anniversary/articleshow/67757717.cms

[۵] ۔ https://www.indiatoday.in/india/story/mahatma-gandhi-hindu-mahasabha-nathuram-godse-1442844-2019-01-30

[۶] ۔ https://www.ndtv.com/india-news/hindu-mahasabha-leader-pooja-shakun-pandey-who-recreated-mahatma-gandhis-assassination-in-facebook-p-1985895

[۷] ۔ http://www.newindianexpress.com/nation/2019/jan/30/watch–hindu-mahasabha-leader-puja-shakun-pandey-recreates-mahatma-gandhis-assassination-1932057.html

[۸] ۔ https://www.huffingtonpost.in/entry/hindu-mahasabha-leader-among-13-booked-for-shooting-mahatma-gandhis-effigy_in_5c526d88e4b093663f5b196a

……………

ختم شد؍ت؍۱۰۰۰۲

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
  • linkedin
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=18103

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے