تہران کی بین الاقوامی کتاب نمائش میں کون سی کتاب رہبر انقلاب کی توجہ کا مرکز بنی؟ - خیبر

دشمن شناسی کی اہمیت

تہران کی بین الاقوامی کتاب نمائش میں کون سی کتاب رہبر انقلاب کی توجہ کا مرکز بنی؟

12 مئی 2018 12:44

یوں تو رہبر انقلاب اسلامی کا کتابوں سے شغف اور مختلف موضوعات پر لکھی جانے والی کتابوں کے بارے میں آپکی پختہ نظر، زباں زد خاص و عام ہے لیکن ٹرمپ کے سلسلہ سے لکھی جانی والی کتاب کی ورق گردانی وہ بھی تہران کے بین الاقوامی میلے میں کافی کچھ اشاروں اشاروں میں سمجھا رہی ہے

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: حس جستجو پھڑک گئی آخر ایسا کیا ہے کہ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای حفظہ اللہ ۳۱ ویں تہران کے بین الاقوامی کتابوں کی نمائش میں ایک ایسے اسٹال پر رک جاتے ہیں جہاں امریکہ کے متنازعہ صدر ٹرمپ کے سلسلہ سے ایک متنازعہ کتاب فارسی میں ترجمہ ہو کر قارئین کا انتظار کر رہی ہے ۔
یوں تو رہبر انقلاب اسلامی کا کتابوں سے شغف اور مختلف موضوعات پر لکھی جانے والی کتابوں کے بارے میں آپکی پختہ نظر، زباں زد خاص و عام ہے لیکن ٹرمپ کے سلسلہ سے لکھی جانی والی کتاب کی ورق گردانی وہ بھی تہران کے بین الاقوامی میلے میں کافی کچھ اشاروں اشاروں میں سمجھا رہی ہے، تو آئیں دیکھتے ہیں اس کتاب میں ایسا کیا ہے کہ دنیا کا ایک عظیم مصنف و دانشور و فقیہ اور ایک بے نظیر انقلاب کا رہبر اس کتاب کے لئے میلے میں موجود ہزاروں اسٹالوں کے بیچ رک جاتا ہے، اور ایسے وقت میں جب کیمروں کا رخ اس بے نظیر علمی شخصیت کی طرف ہے، میڈیا کی کیورج اور کیمروں کی چکاچوند سے بے اعتنا اس کتاب کو لاکھوں کتابوں کے درمیان اٹھا کر دیکھتا ہے کہ اس میں کیا ہے؟
یقینا اگر رہبر انقلاب جیسی شخصیت اس کتاب کو ہاتھ میں اٹھاتی ہے اور اس کی ورق گردانی کرتی ہے تو شک نہیں کہ اس میں ایسا کچھ ضرور ہے جسے دنیا کو پڑھنے کی ضرورت ہے، بالیقیں اس میں ایسے حقائق ہیں جن سے دنیا کو آشنا ہونے کی ضرورت ہے تو آئیں کتاب کے مندرجات پر ایک اجمالی نظر ڈالتے ہیں :
مصنف کتاب :
کتاب کے مصنف مائکل والف ہیں Michael Wolff جنہوں نے Columbia University
Vassar College) سے تعلیم حاصل کی ہے،والف ایک امریکن صحافی ، مبصر کالم نگار اورامریکہ کے ٹی وی چینلز کے مانے جانے ایک تجزیہ نگا ر ہیں ، ہالیووڈ رپورٹر اور یو ایس ٹوڈے سے بھی وابستہ رہے ہیں انکو انکی صحافتی کارکردگی پر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے جس میں نیشنل میگزین National Magazine Awards, ایوارڈ اور مرر ایوارڈ Mirror Award قابل ذکر ہیں ۔
والف کو اپنی اس کتاب کے انتشار کے بعد ٹرمپ کے وکیل چارل ہارلڈر کی جانب سے تہمت و الزام تراشی کا ملزم قراد دیا گیا اور امریکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان پر اور کتاب کے ناشر ہنری ہولٹ پر ہتک عزت کا کیس درج کیا ، ہنری ہولڈ کے انتشارات کی جانب سے قرار دئے گئے وکیل ایلزابتھ مک‌نامارا (Elizabeth McNamara) نے ٹرمپ کے وکیل کے جانب سے کی گئی شکایت کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان شکایتوں میں کوئی بھی ایسی بات نہیں جو کتاب کے مندرجات کی عدم صحت کو ثابت کر رہی ہو اس لئے ہم کسی بھی قسم کی معذرت و معافی کے طالب ہرگز نہیں ہوں گے چونکہ جو کچھ کتاب میں پیش کیا جا رہا ہے اسکا تعلق جھوٹ اور افتراء سے نہیں ہے۔
اسکے بعد اس کتاب کے انتشارات کے مدیر جوہن سرجنٹ (John Sargent نے واضح طور پر اپنے متعلقہ اہلکاروں کو لکھا کہ : ایک شہری کے عنوان سے میری امریکن صدر جمہوریہ سے یہ اپیل ہے کہ امریکہ کے بنیادی دستور العمل کے محافظ ہونے کی حیثیت سے صحافت کی قدروں اور اظہار رائے کی آزادی کو سمجھیں اور اسکی پاسداری کریں۔ اس کتاب کے بعد والف کو جہاں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا وہیں اس کتاب نے والف کو دنیا کی شہرت کے بام عروج تک پہنچا دیا.
کتاب کا مختصر تعارف:
۵ جنوری ۲۰۱۸ کو منتشر ہونے والی اس کتاب نے دیکھتے دیکھتے پوری دنیا کو اپنی طرف متوجہ کر لیا اور آج اس کے مختلف ایڈیشن تیزی کے ساتھ دنیا بھر میں اس طرح فروخت ہو رہے ہیں کہ یہ مختصر سے وقت میں کتاب دنیا کی سب سے زیادہ بکنے والی کتابوں میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئی ہے ۔چنانچہ انلائن کتابوں کی سائٹ امازون میں ”وہائٹ ہاووس میں آگ اور غصہ” Fire and Fury: Inside the Trump White House پہلے درجہ پر ہے ۔
کتاب کے لکھنے کا مقصد :
والف نے اس کتاب کو اس لئے تحریر کیا کہ زمانہ جان لے کہ دنیا کے سب سے زیادہ طاقت ور ملک کی حیثیت سے جانے والے امریکہ کے صدر کے نفسیات اور انکا مزاج کیا ہے والف نے تین سو اڑتیس صفحات پر مشتمل اس کتاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی حقیقی زندگی کی کچھ جھلکیاں پیش کرتے ہوئے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ وہائٹ ہاوس میں ٹرمپ کے آنے کے بعد کیا کچھ اتھل پتھل سامنے آئی ہے ۔
والف نے اس کتاب کو ۱۸ مہینہ کے دورانیہ کو ضبط تحریر میں لاتے ہوئے اس طرح لکھا ہے کہ جس میں ۲۰۰ کے نزدیک ٹرمپ کے بہت ہی نزدیک رہنے والے افراد کے انٹرویو لئے گئے اور انکی جانب سے بیان شدہ حقائق کی روشنی میں ٹرمپ کی شخصیت کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔
کتاب کے مندرجات پر ایک اجمالی نظر :
کتاب حرف مصنف کے ساتھ ایک مقدمہ اور ۲۲ فصلوں پر مشتمل ہے ،ہرایک فصل میں ٹرمپ کے مختلف حالات زندگی ہیں کتاب کا اختتام آخری پردہ کے عنوان کے تحت ہوتا ہے جس میں ٹرمپ اور بنن Stephen Bannon کے مابین تعلقات کے سلسلہ سے دلائل و شواہد پیش کئے گئے ہیں ۔
ان ۲۲ فصول میں مصنف نے ٹرمپ کے الیکشن میں امیدواری سے لیکر، ٹرمپ ٹاور، الیکشن کا دن، امریکی ذرائع ابلاغ کے ساتھ ٹرمپ کے رویہ سے لیکر روس، داخلی و بیرونی سیاست ، ذاتی روابط ، ٹرمپ کے جنسی تعلقات جیسے ان تمام ہی مباحث کو پیش کیا ہے جو ٹرمپ کی زندگی کا اہم حصہ ہیں.
اس کتاب میں ٹرمپ کی صدر جمہوریہ کی کرسی تک پہنچنے کی داستان کو ادب کی چاشنی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اسمیں جہاں ٹرمپ کی شخصیت کے مختلف پہلووں کو پیش کیا گیا ہے وہیں شواہد و دلائل کی روشنی میں ٹرمپ کے اپنے ماتحتوں کے ساتھ رویہ کا ذکر بھی ہے کہ کس طرح وہ اپنے ماتحتوں پر نظر رکھتا تھا اور کس طرح ان کے آپس کے مکالمات کو سنتا تھا ، اس کتاب کو پڑھ کر قاری کو یہ نتیجہ حاصل کرنے میں دیر نہیں لگتی کہ وہائٹ ہاوس میں ٹرنپ کا وجود بالکل بچکانہ ہے اور کہیں سے ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ وہ ایک ملک کا صدر ہے ۔کتاب میں ٹرمپ کی ایران دشمنی کی وجوہات و محرکات ، بن سلمان سے جگری دوستی کا حال ،بعض مسلم ممالک کے باشندوں کی امریکہ میں ممانعت، امریکی صدر جمہوریہ کی عجلت پسندی، اور ڈھٹائی کے ساتھ ناپختہ فیصلوں کی عادت جیسے اہم موضوعات شامل ہیں۔
کتاب کے ایک حصہ میں ٹرمپ کی موج مستی والی بے قید و بند زندگی سے پردہ اٹھاتے ہوئے مصنف نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اپنی پوری زندگی میں عورتوں کے ساتھ ٹرمپ کے ہمیشہ تعلقات رہے ہیں، اور بعد کے سالوں میں جنسی بے راہ روی کا بھی ان میں اضافہ ہوا ہے اور اسی لئے ٹرمپ سے جنسی تعلقات کے سلسلہ سے ایک طوائف نے پردہ اٹھانے کی کوشش کی تو اسے بھاری رشوت دے کر ٹرمپ کے وکیل نے خاموش کر دیا چنانچہ یہ خبریں ساری دنیا کے میڈیا نے نقل کیں کہ :پلے بوائے‘ میگزین کی سابق ماڈل کیرن میكڈوگل نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ معاشقہ اور جنسی تعلقات کے معاملہ پر کیلیفورنيا میں معاملہ درج کرایا ہے کہ اس پر بولنے پر پابندی ہے۔ میكڈوگل نے اپنے بیان میں کہا’’کمپنی نے مجھ سے جھوٹ بولا۔ کھوکھلے وعدے کئے اور خاموش رہنے کے لئے مجھے دھمکیاں دی گئیں‘‘۔میں کمپنی کے ایگزیکٹیوز اور وکلا کے چنگل سے باہر آنا چاہتی ہوں۔
رائٹر کے مطابق میكڈوگل کے وکیل پیٹرا سٹیرس نے اس معاملہ میں کہا کہ میكڈوگل نے یہ معاملہ ایک امریکی میڈیا کمپنی ’نیشنل انكوائرر پبلیشر‘ کے خلاف درج کرایا ہے جس نے اسے اس معاملہ میں کچھ نہ بولنے کے لئے ۲۰۱۶ میں ڈیڑھ لاکھ ڈالر کی رقم فراہم کی تھی۔ امریکی میڈیا کمپنی نے ایک معاہدہ کے تحت میكڈوگل کو یہ رقم اس لیے دی تھی کہ ان کے امریکی صدر کے ساتھ تعلقات پر لکھنے یا اشاعت کا تنہا اس کے حقوق کمپنی کے پاس رہے۔ کمپنی نے اگرچہ اس سلسلے میں کچھ بھی شائع نہیں کیا ہے۔ تاہم کمپنی کے مالک ڈیوڈ پیكر کو ٹرمپ کا دوست بتایا جارہاہے۔
اس سے قبل مارچ میں ہی ایک اور طوائف و اداکارہ اسٹورمي ڈینيلز جس کا اصل نام اسٹیفنی کلف فورڈ ہے، نے ٹرمپ کے خلاف ناجائز جنسی تعلقات پر رپورٹ درج کرائی تھی۔ کہ ٹرمپ کے اس کے ساتھ شادی کے بعد ناجائز جنسی تعلقات منھ بند رکھنے کے لئے ایک لاکھ تیس ہزار ۱۳۰۰۰۰ ڈالر کا معاہدہ کیا گیا تھا۔
شاید ٹرمپ کے سلسلہ سے وہ خبریں جو میڈیا میں گردش کر رہی تھیں انہیں کو مائکل والف Michael Wolff نے اپنی کتاب ”وہائٹ ہاوس میں آگ اور غصہ” Fire and Fury: Inside the Trump White House میں ثبوتوں کے ساتھ اس طرح پیش کر دیا ہے کہ جن کو جھٹلانا ممکن نہیں ہے اسی بنا پر نہ صرف کتاب کے مصنف کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا گیا بلکہ کوشش کی گئی کہ کتاب منظر عام پر نہ آ سکے، لیکن آج کی جدید دنیا میں کیونکر ایک انسان اپنے خلاف اکھٹے کئے گئے ثبوتوں کو مٹا سکتا ہے؟
ایسے میں یہ سوال اپنے آپ میں اہم ہے کہ جو لوگ ابھی اپنے وجود کی بھول بھلیوں میں گرفتار ہیں اور خود انہیں کے اہلکار انہیں صحیح طور پر ایک انسان کے روپ میں ماننے کو تیار نہیں وہ دنیا بھر کو کیا سدھاریں گے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/ت/ت/ ۳۰۲/ ۱۰۰۰۲

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=2685

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے