جعلی تفکرات کے سوداگر مغرب کے بھیجے ہوئے مبلغین/ مشترک ہوشیار باش - خیبر

جعلی تفکرات کے سوداگر مغرب کے بھیجے ہوئے مبلغین/ مشترک ہوشیار باش

05 مئی 2018 05:17

کیا آپ کے ذہن میں یہ سوال نہیں ابھرا کہ مبلغین قم اور نجف جاکر جو کچھ قرآن اور سنت سے سیکھتے ہیں وہ آکر ہمیں سکھاتے ہیں تو جو مغرب سے آتے ہیں وہ کس قرآن و سنت کی تعلیم ہمیں دیتے ہیں؟

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: کچھ لوگ تو نجف یا قم سے عالم دین بن کر آتے ہیں تو ان کے قدموں کی جگہ ہماری آنکھوں پر ہے لیکن کچھ عرصے سے لندن، پیرس، اوٹاوا، برلن اور واشنگٹن سے بھی کچھ لوگ عالم دین بن کر آنے لگے ہیں؛ کیا آپ کے ذہن میں سوال نہیں ابھرا کہ ایسے حال میں کہ نجف اور قم سے علماء کو مغربی ممالک میں جاکر تبلیغ کا فریضہ سرانجام دینا چاہئے، یہ حضرات مغرب سے آکر پاکستان میں کیوں تبلیغ کرنے لگے ہیں؟
کیا آپ کے ذہن میں یہ سوال نہیں ابھرا کہ مبلغین قم اور نجف جاکر جو کچھ قرآن اور سنت سے سیکھتے ہیں وہ آکر ہمیں سکھاتے ہیں تو جو مغرب سے آتے ہیں وہ وہاں سے کیا کچھ لا کر ہمارے ذہنوں پر استعمال کرنا چاہتے ہیں؟
کیا یہ سوال آپ کے ذہن میں نہیں ابھرا کہ ان لوگوں کو استکباری اور استعماری ممالک میں رہنے کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے اور وہاں کی شہریت حاصل کرنے کے لئے سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہوتے ہيں اور ان سے سب سے پہلے یہ ضمانت لی جاتی ہے کہ اسرائیل دشمنی کو اپنے ایجنڈے سے مکمل طور پر نکال دیں یا پھر منہ بند رکھیں اور اگر منہ بند نہیں رکھ سکتے ہیں تو نکل بھاگیں؟
کیا ہم سب نہیں جانتے کہ مغربی ممالک میں صرف عام مزدوروں اور ان لوگوں کی رہائش کو یہود نوازی سے مشروط نہیں کیا جاتا جو عالمی سیاست اور ان ممالک کی اندرونی سیاست سے کسی قسم کا سروکار نہیں رکھتے اور صرف اپنے کام سے کام رکھتے ہیں؟
کیا ہم یہ نہیں جانتے کہ ہمارے وہ مسلمان پاکستانی، یا ہندوستانی یا ایرانی یا عرب بھائی مغربی ممالک میں سرکاری عہدوں اور منتخب اداروں تک پہنچ جاتے ہیں انہیں پہلے سے کچھ ضمانتیں دینا پڑتی ہیں جن میں سے ایک یہود نوازی ہے؟
کیا ہم نے مغرب میں اپنے منتخب مسلم دوستوں کو یہودی لابیوں میں حاضر ہوکر تقاریر جھاڑتے نہیں دیکھا؟
اب صورت حال یہ ہے کہ پاکستان میں آئے ہوئے مغربی مولوی صاحبان کا ایک کا مشن ختم ہوتا ہے تو دوسرا آٹپکتا ہے اور مغرب میں معمول اور پاکستان نامعمول بلنڈر کرکے کسی حد تک جانے پہچانے جاتے ہیں۔
کچھ عرصہ قبل کوئی خاص نشانات والا آیا جس کو خاص لقب بھی دیا گیا اور اس کے بعد لندن مارک کے فرقے کے ایک بڑے صاحب اور قم میں متعلقہ فرقے کے عمید کے داماد اور پہلے آنے والے شخص کا سسر آن پہنچا جو عمامہ بسر بھی ہے اور وہ بہت کچھ کررہا ہے اور اس کو اسلام آباد میں سیمینار کرنے کی اجازت بھی ملی ہے۔
مجھ جیسے عام جذباتی لوگ تو کہتے ہیں کہ جناب یہ غالی مذہب کی ترویج کررہا ہے، یہ ولایت کا دشمن ہے، یہ خونی ماتم کا مبلغ ہے لیکن ان باتوں کا حقیقت سے بہت تھوڑا سا تعلق ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ حضرت جو آیا ہے اس کا تعلق interfaith نامی ادارے سے ہے جس کو مالی امداد یہودی ریاست سے ملتی ہے اور اس کا بہت اہم کام ہے وہی جو اس کے داماد کا بھی مشن تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی اسٹبلشمنٹ میں کچھ لابیوں کے سعودی ـ یہودی الائنس سے قریبی تعلق ہے اور سعودی تو اپنی بات علی الاعلان کہہ چکے ہیں کہ “فلسطینی یا تو اسرائیل کو تسلیم کریں یا خاموش ہوجائیں”، “ہم اسرائیل کو جینے کا حق دیتے ہیں اور انہیں تسلیم کرنا چاہتے ہیں”، “فلسطین اور قبلہ اول کا مسئلہ ہمارا مسئلہ نہيں ہے” وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ اب جو حکومتیں آل سعود کے ذیل میں Define ہوتی ہیں ـ منجملہ حکومت پاکستان یا کم از کم موجودہ پاکستانی انتظامیہ ـ تو انھوں نے بھی یہودی ریاست کو تسلیم کرنے کے سلسلے میں کوششیں شروع کی ہیں اور عین ممکن ہے کہ نجف، کربلا، قم، مشہد اور جبل عامل یا لکھنؤ کے بجائے لندن، پیرس، واشنگٹن اور اوٹاوا سے آنے والے لباس علم میں ملبوس افراد کی تشریف آوری کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جاسکے اور ممکن ہےکہ انہیں یہود نواز لابیاں بلوا رہی ہوں کیونکہ جہاں تک ہماری معلومات کا تعلق ہے تو یہ لوگ سیمینارز اور کانفرنسوں میں کوئی مذہبی بات نہیں کررہے ہیں بلکہ یہودی ریاست کو تسلیم کرانے کے سلسلے میں فعال ہوئے ہیں۔
اسلام آباد والے سیمینار میں ان کے تمام خطابات کا لب لباب یہ تھا کہ “ایران واحد ملک ہے جو یہودی ریاست کو نہیں مانتا؛ سعودیوں نے اس کو تسلیم کرلیا ہے؛ ایرانی جنگ کے سوا کچھ نہیں جانتے، تو ہم کیوں اس کی پیروی کریں وغیرہ وغیرہ ۔۔۔”۔
جبکہ
٭ پہلی بات تو یہ ہے کہ مقبوضہ فلسطین اور پاکستان کے درمیان کم از کم تین ملک حائل ہیں اور ان کے درمیان فاصلہ ہزاروں میل ہے لہذا پاکستان کے لئے اسرائیل کا تسلیم کرنا یا نہ کرنا ایک ہی جیسا ہے؛ یہ الگ بات ہے کہ کوئی پرائی شادی میں عبداللہ دیوانہ کا مصداق بننا چاہے۔ مطلب یہ کہ اگر ایران اس کے خلاف ہے تو ایران کے ساتھ تو اس کی براہ راست کشمکش ہے اور مغربی ایشیا میں ہونے کے ناطے کچھ تعلق بنتا ہے، جبکہ پاکستان کا اس طرح کا تعلق تک نہیں بنتا تو اس کو اسے تسلیم کرنے کی کیا ضرورت آن پڑی ہے؟
٭ اور پھر ایران اور پاکستان ایک دوسرے کی تزویری گہرائی سمجھے جاتے ہیں تو جبکہ پاکستان کے ایٹمی اسلحے پر یہودی ریاست کی گندی نظریں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں تو کیا پاکستان بھی بعض عرب حکمرانوں کی طرح ناعاقبت اندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے دشمن کو دوست سمجھنے کی غلطی کرے گا اور کیا وہ ایران کے ساتھ اپنی تاریخی دوستی کو ایک جعلی ریاست کی جعلی دوست کی بھینٹ چڑھا دے گا؟
٭ فلسطین کا مسئلہ عالم اسلام کا مسئلہ ہے نہ کہ ایران کا مسئلہ، پاکستان ایک بڑا اسلامی ملک ہے اور اس کی اپنی پالیسی ہوتی ہے، اور وہ اپنے آپ کو مسلمانوں کے اتحاد کا علمبردار سمجھتا ہے تو اگر اسے ایران کی پیروی سے گریز کرنا چاہئے، تو وہ سعودی عرب کی پیروی کیوں کرے؟؟؟
٭ اس سے پہلے سعودی عرب سے زیادہ اہم اور زيادہ طاقتور ممالک جیسے ترکی اور مصر نے یہودی ریاست کو تسلیم کرلیا تھا تو دیکھ لیں کہ اس وقت پاکستان نے اس کو تسلیم کیوں نہیں کیا؟ کیا وہ اسباب اب ختم ہوچکے ہیں جن کی بنا پر پاکستان نے اسے تسلیم نہيں کیا تھا؟ یا پھر پاکستان کا اعتقاد اور مقصد “لا الہ الا اللہ” بدل چکا ہے کہ اب قبلہ اول اور قبلہ موجود کا سب سے اہم اور بنیادی دشمن کو تسلیم کرے گا؟
٭ بیت المقدس اور قبلۂ اول کا تعلق بھی تمام مسلمانوں سے ہے اس کو کیونکر صرف ایران سے جوڑا جاسکتا ہے؟
٭ اگر فرض کریں کہ مسلم ممالک میں سے بعض ممالک نے یہودی ریاست کو تسلیم کر بھی لیا ہو تو کیا حریت پسند مسلم عوام اپنی ان نا اہل حکومتوں کی تقلید کرنا پسند کریں گے؟
بات درحقیقت یہ ہے کہ یہ علمائے دین کے نام پر مغرب سے آنے والے بظاہر دینی راہنما اور علماء مغرب اور سعودی ـ یہودی اتحاد کے خرچے پر یہاں آرہے ہیں اور ان کا اصل مقصد یہ ہے کہ شیعہ عوام کے اندر ماحول تیار کریں تا کہ اگر کل کلاں پاکستان نے اسے تسلیم کیا تو شیعہ بھی خاموش رہیں جبکہ دوسری طرف سے اہل سنت کی بڑی اکثریت ہے پاکستان میں اور ان کے درمیان بھی اس طرح کے مشن آرہے ہونگے لیکن بہرحال روسیاہ ہونے سے بچنا ہے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی بارگاہ میں اور یاد رکھنا ہے کہ:
یہ اللہ کا فرمان ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی:
بسم الله الرحمن الرحیم
لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُواْ الْيَهُودَ وَ الَّذِينَ أَشْرَكُواْ؛  (سورہ مائدہ، آیت ۸۲)

یقیناً (اے میرے حبیب) آپ یہودیوں اور مشرکین کو ایمان والوں کا شدید ترین دشمن پائیں گے۔
۔۔
وَلَن تَرْضَى عَنكَ الْيَهُودُ وَلاَ النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ؛ (سورہ بقرہ، آیت ۱۲۰)
اور آپ سے یہودی اور عیسائی تو اس وقت تک کبھی خوش نہیں ہو سکتے جب تک آپ ان کے مذہب کے پیرو نہ ہو جائیں۔
۔۔
اللہ نے واضح کردیا ہے سب کچھ اور فرمایا ہے:
… قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىَ لاَ انفِصَامَ لَهَا وَاللّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (سورہ بقرہ، آیت ۲۵۶)
… ہدایت گمراہی سے الگ ہو کر نمایاں ہو چکی ہے۔ اس کے بعد جو باطل کی طاقت کے ماننے سے انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے اس نے مضبوط رسی تھام لی جس کے ٹوٹنے کا کوئی امکان نہیں اور اللہ سننے والا ہے، خوب جاننے والا۔
صدق اللہ العلي العظیم
۔۔
اور اللہ نے ہمیں اپنی محبوب ترین مخلوق “یعنی عقل اور قوت تفکر” سے نوازا ہے اور اب ہمیں دیکھنا ہے کہ اگر کوئی شخص یا کوئی خاندان یا کوئی قبیلہ یا پھر کوئی جماعت اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی کرکے کسی حقیقت کو بدلنا چاہے اور قرآن میں معنوی تحریف کرنا چاہے تو کیا ہمیں اس کی پیروی کرنا یا پھر اس کو بھی طاغوت کا ہم پیالہ سمجھنا ہے اور اس کے ان اقدامات کا مقابلہ کرنا ہے؟ کیا ہم سے الگ الگ سوال نہ ہوگا کہ: تم نے قرآن کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد/ت/ت/۳۰۲/ ۱۰۰۰۱

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=2084

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے