جمال خاشقجی کا قتل: اردوغان کا سعودیوں کے ساتھ چوہے بلی کا کھیل - خیبر

جمال خاشقجی کا قتل: اردوغان کا سعودیوں کے ساتھ چوہے بلی کا کھیل

02 نومبر 2018 10:13

ان تمام عوامل کی وجہ سے ٹرمپ انتظامیہ کی شدید خواہش یہ ہے کہ خاشقجی کے قتل کے معاملے سے جلد از جلد توجہ ہٹ جائے۔ اور ٹرمپ کی صدارت کے دوران سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان تعلقات پر نظر ثانی نہیں کی جائے۔ لیکن اس کو اب بہت دیر تک التوا میں نہیں ڈالا جاسکتا۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: جوناتھن مارکس بی بی سی کے دفاعی و سفارتی امور کے تجزیہ نگار ہیں ، انکے تجزیوں میں کافی حد تک بی بی سی کے دیگر قلم کاروں کی بہ نسبت حق بیانی کا عنصر رہتا ہے ، گرچہ انکا زاویہ نظر وہی ہے جو مغرب کا ہے لیکن امریکہ کی بعض پالسییوں کے وہ شدید طور پر مخالف ہیں ،خاص کر امریکہ میں موجود اس لابی کے حمایتیوں میں جانے جاتے ہیں جو امریکہ کی مستقل سیاست کے حامی ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات پر نظر ثانی کا مطالبہ کر رہے ہیں نیٹو کے ذریعہ روس کی شام میں کاروائیوں پر تشویش ہو کہ ،چین پر امریکی پابندیاں یا پھرشمالی کوریا کے کم جونگ سے ٹرنپ کی ملاقات کا موضوع ہر ایک تازہ ایشو پر انہوں نے اپنا بے لاگ تجزیہ پیش کیا ہے ، جمال خاشقجی کے قتل کے سلسلہ سے بھی آج ہی انکا یہ تجزیہ نظروں سے گزرا جس میں ”جمال خاشقجی کا قتل: اردوغان کا سعودیوں کے ساتھ چوہے بلی کا کھیل” کے عنوان سے انہوں نے مغربی سیاست کے ساتھ یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ ادردوغان کس طرح سعودی عرب کے ساتھ چوہے بلی کا کھیل رہے ہیں ،لیکن انکے تجزیہ سے قبل اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ آجکل جو کچھ بھی جمال خاشقجی کی پر اسرار موت کے بعد حالات چل رہے ہیں وہ آنے والے وقت کے لئے اچھا عندیہ نہیں ہیں اور یہ بات ہر ذی شعور سمجھ سکتا ہے کہ آج کے دور میں بلی اور چوہوں کی دوستی کتنی خطرناک ہو سکتی ہے۔
بقول مطیع اللہ جان موجودہ دور میں “بلی اور چوہوں کی دوستی سے ایسی وبا جنم لے سکتی ہے جو معاشروں اور تہذیبوں کے لئے تباہی کا باعث بن سکتی ہے اور اس کی ذمہ داری بلی یا چوہوں کی نہیں انہیں پالنے والوں کی ہوگی” ظاہر ہے ایسے میں دیکھنا پڑے گا سعودی عرب اور ترکی میں چوہا کون ہے بلی کون ہے ؟ اور انکے پالنے والے مالکان کون لوگ ہیں؟ اس بات میں شک نہیں ہے ایک کالم نگار کے بقول “اگر بلی سے چوہوں کو زندہ گرفتار کرنے کا کہا جائے گا تو گھر کے قیمتی سامان اور نظام کی توڑ پھوڑ تو یقینا ہو گی۔ چوہے کا پیچھا کرتے یہ بلی سوتے ہوئے مالک کے بستر میں بھی جا گھسے گی۔ا ٓخر ( مجرم کا پیچھا) hot persuitاسی کو تو کہتے ہیں۔ایسے میں مالک کا وہ نقصان بھی ہو سکتا ہے جو شاید چوہے نے بھی نہ کیا ہو۔گھر کے اندر کے چوہوں کے خاتمے کے لئے اور باہر کے حشرات الارض کے مقابلے کے لئے مختلف طریقے ہونے چاہئیں۔ شاید یہی سبب ہے کہ ابھی تک چوہوں اور بلی کے مالکان اپنے خسارے کا تخمینہ نہیں لگا سکے ہیں اسی وجہ سے تمام تر لن ترانیوں کے باوجود ایک صحافی کے قتل کے اصلی مجرموں کا پتہ لگانے میں ناکام ہیں ، چوہے اور بلی کے مالکان کی باہمی کشکمش کا اندازہ آپ بی بی سی کے دفاعی و سفارتی امور کے تجزیہ نگارجوناتھن مارکس کے حسب ذیل کالم سے کر سکتے ہیں جسے ہم من و عن پیش کر رہے ہیں :
“سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل نے صرف سلطنتِ سعودی عرب اور ترکی کے تعلقات کو پیچیدہ نہیں کیا بلکہ یہ قتل سعودی عرب کے سیاسی اور تجارتی مغربی اتحادی ممالک کے لیے بھی ایک درد سر بن گیا ہے۔ اس نے جواں سال سعودی ولی عہد کا اصل چہرہ بھی بے نقاب کر دیا جو آنے والی کئی دہائیوں تک مشرق وسطیٰ کے اس اہم ترین ملک کی قیادت کرنے کے خواہشمند ہیں۔
امریکہ میں یہ صورت حال انتہائی گمبھیر ہے۔ جہاں ٹرمپ انتظامیہ کی دلی خواہش اس امید سے بندھی ہے کہ بہت جلد یہ معاملہ ماضی کا حصہ بن جائے گا وہیں کیپٹل ہل پر بہت سی اہم سیاسی شخصیات کی طرف سے یہ زور دیا جا رہا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات کا از سر نو جائزہ لیا جانا چاہیے۔ سعودی امور کے ماہرین اور بہت سے تھنک ٹینک بھی اس خیال کے حامی ہیں۔
خاشقجی کے قتل کے محرکات اور ان کی لاش کو کیسے ٹھکانے لگایا گیا، ان تمام تفصیلات کا سامنے آنا باقی ہے لیکن اس بنیادی سوال کا جواب کہ اصل میں کس نے ان کے قتل کا حکم صادر کیا شاید کبھی نہ مل سکے۔
تمام شواہد اس طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ یہ حکم سعودی حکومت کی اعلیٰ ترین سطح یعنی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی طرف سے جاری کیا گیا تھا۔سلطنت کے تمام امور محمد بن سلمان کے ہاتھ میں ہیں۔ خاشقجی کے قتل کے الزام میں گرفتار کیے جانے والے تمام افراد محمد بن سلمان کے ماتحت کام کرتے تھے اور سعودی عرب کے امور کے تمام ماہرین کا متفقہ خیال یہ ہے کہ سعودی عرب میں اگر اس کا حکم اعلیٰ ترین سطح سے جاری نہ کیا گیا ہو تو اس طرح کی واردات کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
بہت کچھ اس بات سے مشروط ہے کہ ولی عہد محمد بن سلمان کے براہ راست اس قتل میں ملوث ہونے کے کتنے شواہد موجود ہیں۔ترکی کے پاس اس بارے میں کیا شواہد ہیں؟
ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان سعودی ولی عہد سے بلی چوہے کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ وہ جتنا کچھ عام کر چکے ہیں اس سے زیادہ جانتے ہیں۔ لیکن وہ کتنا کچھ جانتے ہیں اس بارے میں یقینی طور نہیں کہا جا سکتا۔وہ اس قضیے کو طول دیے جا رہے ہیں اور بظاہر تمام قانونی راستے اختیار کر رہے ہیں لیکن دراصل وہ اس ڈرامے کا سسپینس اور محمد بن سلمان سے توجہ ہٹنے نہیں دے رہے۔
ترکی اور سعودی عرب دونوں مشرق وسطیٰ کے اہم ممالک ہیں، دونوں فرقے کے لحاظ سے سنی ہیں اور دونوں مشرق وسطیٰ کے وسیع تر معاملات میں سرکردہ کردار ادا کرنے کے خواہش مند ہیں۔مسابقت کی صورت حال کی وجہ سے ان دونوں ملکوں کے مفادات کا یکجا ہونا ممکن نہیں ہے اور اردوغان محمد بن سلمان کے لیے زیادہ سے زیادہ مشکلات پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ اردوغان کے لیے اس طرح سے اپنی داخلی سیاسی حمایت میں بہتری آ سکتی ہے جبکہ بیرونی طور پر واشنگٹن سے معاملات بہتر کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
چالاکی سے دباؤ بڑھانے اور درست وقت پر اس دباؤ کو ہٹا لینے سے ہو سکتا ہے ترکی کو اپنی ڈوبتی ہوئی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے سعودی عرب کی طرف سے سرمایہ کاری اور مالی مدد ملے۔
امریکہ کی کیا مشکل ہے؟
امریکہ اور سعودی عرب کے رشتے میں تیل ایک اہم عنصر رہا ہے لیکن امریکہ کی مشکل کچھ دوسری نوعیت کی ہے اور اسے اپنے اقدار اور اپنے مفادات میں توازن برقرار رکھنا ہے۔ واشگٹن کے لیے یہ معاملہ صرف اربوں ڈالر مالیت کے اسلحے کی فروخت کا نہیں ہے۔ امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات کے پورے ڈھانچے کا یہ صرف ایک حصہ ہے جس کی بنیاد مشرق وسطیٰ کی دفاعی اہمیت اور خطے میں استحکام برقرار رکھنے پر مشترکہ یقین اور اتفاق پر قائم ہے۔ اس رشتے میں تیل ایک اہم عنصر رہا ہے۔ اب جب کہ امریکہ کا تیل پر انحصار بہت کم ہو گیا ہے تو سعودی عرب کے تیل فراہم کرنے والے ملک کی حیثیت سے، اس کا استحکام دفاعی اور اسٹریٹجک اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات میں بڑے اتار چڑھاؤ اور مشکلات آئی ہیں جن میں قدامت پسندانہ اور بنیاد پرستانہ اسلامی عقائد کی سعودی عرب کی طرف سے دنیا بھر میں تشہیر اور ترویج بھی شامل ہیں۔
محمد بن سلمان کے اقدامات اور ٹرمپ کی مشکلات:
امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات کے اتار چڑھاؤ کے درمیان ولی عہد محمد بن سلمان سعودی عرب کے مالک اور مختار کی صورت میں سامنے آئے جو کہ ایک لحاظ سے امریکہ کے لیے خوش کن تھا۔ سعودی عرب میں اصلاحات کرنے کے عزم نے ان کے منصوبے کے کئی منفی پہلوؤں کو چھپائے رکھا۔لیکن یہ زیادہ دیر نہیں چل سکا۔ وہ قطر کو تنہا کرنے، لبنان کے وزیر اعظم کو یرغمال بنائے رکھنے، انسانی حقوق کے معاملے میں خام خواہ کینیڈا سے الجھ جانے اور سب سے زیادہ سنگین اقدام یمن پر فوج کشی کرنے کے ذمہ دار ہیں۔
یمن پر فوج کشی کی وجہ سے لاکھوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اس پورے ملک کو قحط کے دہانے تک پہنچا دیا ہے۔ واشنگٹن کے نقطۂ نگاہ سے محمد بن سلمان کے اقدامات استحکام کے بجائے خطے کو بحران کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ٹرمپ انتظامیہ کے لیے مشکلات اس وجہ سے بھی زیادہ سنگین ہو گئی ہیں کیونکہ اُس نے تمام انڈے محمد بن سلمان کی ٹوکری ہی میں رکھ دیے تھے۔ یہ خطے میں اپنے تین انتہائی اہم اہداف کے حصول کے لیے محمد بن سلمان کی طرف دیکھ رہی ہے۔ اول یہ کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کی مدد پر انحصار کر رہی ہے۔ دوئم یہ کہ مسئلہ فلسطین کے ٹرمپ کے مجوزہ منصوبے کے مطابق حل کے لیے بھی ٹرمپ انتظامیہ کو سعودی عرب کی حمایت درکار ہے اور سوئم یہ کہ ایران کو تنہا کرنے کے لیے بھی سعودی عرب امریکہ کے لیے انتہائی اہم ہے۔
ان تمام عوامل کی وجہ سے ٹرمپ انتظامیہ کی شدید خواہش یہ ہے کہ خاشقجی کے قتل کے معاملے سے جلد از جلد توجہ ہٹ جائے۔ اور ٹرمپ کی صدارت کے دوران سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان تعلقات پر نظر ثانی نہیں کی جائے۔ لیکن اس کو اب بہت دیر تک التوا میں نہیں ڈالا جاسکتا۔ ظاہر ہے کہ اس بارے میں ٹرمپ اور کانگرس کے موقف میں اختلاف ہو گا۔ کیا سعودی عرب کوئی ایسا طریقہ اختیار کر سکتا ہے جس سے سعودی شہزادے کو کچھ روکا جا سکے۔ گزشتہ ہفتے سعودی عرب میں ہونے والی کانفرنس کی چکا چوند میں ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ ولی عہد محمد بن سلمان کو داخلی سطح پر کوئی مشکل درپیش ہو۔
روس کی طرف سے زور دیا جا رہا ہے کہ خاشقجی کے قتل کے بارے میں سعودی موقف کو تسلیم کر لیا جائے جس سے واضح طور پر اشارہ ملتا ہے کہ روس اپنی جگہ بنانے کی کوشش میں ہے۔ شاید وہ مستقبل میں اسلحے کے معاہدے حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتا ہو۔ ظاہر ہے صدر پوتن خطے میں اپنے ملک کے مفادات کے تحفظ کی کوشش میں ہیں۔
مغرب کے لیے اسلحے کے سودے دو دھاری تلوار کی طرح ہیں۔ اسلحے کے سودوں کی طویل المدتی معطلی مغرب کے لیے مہنگا سودا ثابت ہو گا لیکن سعودی عرب کے لیے بھی فوری طور پر امریکہ کی جگہ چین اور روس سے حاصل کردہ اسلحہ استعمال کرنا شروع کر دینا ممکن نہیں ہے۔ مبصرین کے خیال میں محمد بن سلمان کی مرضی کے بغیر سعودی عرب میں کچھ نہیں ہو سکتا ۔مغرب میں تیارہ کردہ ساز و سامان، اسلحہ اور بارود اور اس کے تربیتی ماہرین اور دفاعی مشیر ہی یمن پر سعودی فضائیہ کے ہوائی حملوں کو یقینی بنائے ہوئے ہیں۔ سعودی عرب پر دباؤ ڈالنے کے لیے مغرب کے پاس بہت سے طریقے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ ایسا کرنے کے لیے تیار ہے اور اس میں ٹرمپ انتظامیہ کوئی قائدانہ کردار ادا کرنے کے لیے راضی ہے۔اس سلسلے میں امریکہ کے قریبی اتحادی بھی اختلاف کا شکار ہیں۔ جرمن چانسلر اینگلا مرکل سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت پر پابندی عائد کرنے والی واحد سربراہ ہیں۔ ان کے اس فیصلے پر فرانس کے صدر امینول میخوان نے کہا تھا کہ یہ محض نعرہ بازی ہے۔
جب تک امریکہ کے مغربی اتحاد میں کوئی اتفاق نہیں ہوتا اس وقت تک سعودی عرب سے رشتوں کا از سر نو جائزہ نہیں لیا جا سکتا اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک وائٹ ہاؤس میں کوئی سیاسی تبدیلی نہیں ہو جاتی”۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍ت؍۱۰۰۰۲

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=14144

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے